جب ضیاالحق نے ایوان صدر کے درخت کٹوائے
پروفیسر سید وقار عظیم ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا منہ بولتا نمونہ تھے۔ سفید لٹھے کا پاجامہ، شیروانی اور خاص نشانی گلے میں مفلر، چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنے طالب علموں کے لیے شفقت اور علمی فیض پہنچانے کے لیے سراپا تیار دکھائی دیتے تھے۔ اورینٹئل کالج میں آنے سے پہلے آپ کے فیض کا چشمہ علی گڑھ میں جاری ہو چکا تھا۔ تعلیم و تہذیب کے ساتھ ادب کے میدان میں اپنا حصہ ڈال چکے تھے۔ ان کے ایک
Read more
