گول دائرے کی سیاست!

گول دائرے میں جو بھی سیاست کو لایا وہی اصل فنکار ہے۔ دائرے کی بڑائی یا چھوٹائی کا فیصلہ کرنے والی پُرکار اپنی مرضی سے دائرے کا حجم بڑھا رہی ہے البتہ سیاست دائرے سے باہر نہیں نکلنے دے گی۔ دائرے کے اندر ہی نکتے طے کر دیے گئے ہیں، حدود بنا دی گئی ہیں۔۔ بس سبھی انہی نکتوں اور حدوں میں پُرکار کے نیچے اپنا کردار نبھائیں گے۔ نواز شریف باہر ہیں لیکن محدود مدت کے لیے۔ اس دوران

Read more

نئے پاکستان کی پرانی ہندو لڑکیاں

اگر محمد بن قاسم نہ ہوتے تو سندھ کی دھرتی کی بیٹیوں کا کیا حال ہوتا۔ یہاں سے ایک بیٹی روئی اور سمندر پار محمد بن قاسم گھوڑے کو ایڑھ لگاتے اپنی مسلمان بہن کو بچانے سندھ آ نکلے۔راجا داہر کو باور کرایا کہ مسلمان اپنی عزتوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ اب خدا کی کرنی دیکھیے کہ سندھ میں کئی محمد بن قاسم جنم لے چکے ہیں اور کم عمر ہندو لڑکیوں کو دھڑا دھڑ مسلمان کر رہے ہیں۔ اب ایسے میں بھلا محمد بن قاسم کا کیا قصور؟

Read more

بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر بنام ریاست

قومی احتساب بیورو یعنی نیب کا قیدی میاں جاوید اقبال، سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کا سابق چیف ایگزیکٹو، جس کی لاش کو لگی ہتھکڑیاں حساس دلوں کی دھڑکنوں کو آج بھی اتھل پتھل کر دیتی ہیں۔

الزام: یونیورسٹی کے نئے کیمپس کھول کر لوٹ مار
کیا الزام ثابت ہوا؟ تاحال جواب نامعلوم

پنجاب یونیورسٹی کے 80 برس کے اساتذہ کی ہتھکڑیاں
الزام ثابت ہوا؟ نہیں معلوم
سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران اساتذہ کی ایڈہاک تقرریوں کے الزام میں گرفتار تھے۔

دورانِ حراست ان کی زبانی کہانیاں سنیں تو یقین نہیں آیا کہ یہ وہی مملکت خداداد ہے جس کا نظام اسلامی ہے، آئین بنیادی حقوق کی پاسداری کا یقین دلاتا ہے، ’انصاف کا بول بالا‘ کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔

حالت یہ ہے کہ لاشوں کو ہتھکڑیاں لگا کر ہسپتالوں میں بھیجا جاتا ہے اور محض الزام کی بنیاد پر عزتوں کا جنازہ نکالا جاتا ہے۔
مجاہد کامران صاحب بتاتے ہیں کہ سرگودھا یونیورسٹی کے پروفیسر صاحب سے 25 سال کا افسر مخاطب تھا اور کہہ رہا تھا ’میں تمہارا مار مار کر بھرکس نکال دوں گا۔‘
جواب میں پروفیسر صاحب صرف اتنا ہی کہ سکے ’آپ کا انداز گفتگو مناسب نہیں ہے۔‘

Read more

عاصمہ شیرازی کا کالم: کوٹ لکھپت کا قیدی نمبر 4470

کوٹ لکھپت جیل کے ملاقات کے کمرے میں کم و بیش آٹھ افراد موجود تھے۔ شلوار قمیض میں ملبوس بیمار شخص پاکستان کا تین مرتبہ منتخب ہونے والا وزیرِ اعظم اور اُن کے سامنے دو بار منتخب ہونے والی مسلم اُمّہ کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم اور سابق صدر کا بیٹا اور دو بار منتخب وزیرِ اعظم کا نواسہ موجود تھا۔ایک حال میں تاریخ اور دوسرا تاریخ میں مستقبل۔

Read more

باجوہ ڈاکٹرائن یا عمرانی نظریہ، فیصلہ ہو چکا

اہم فیصلوں کا وقت آگیا ہے۔ مجھ جیسے خوش گمانوں نے ایک بار پھر امید باندھ لی ہے۔ ریاست جاگ چکی ہے، اپنا گھر اِن آرڈر کرنا ہے۔ ہم ہر وقت غلط نہیں ہو سکتے۔ ہم ہر وقت دنیا کی نظروں میں دھول نہیں جھونک سکتے۔ ہمیں اپنا گھر درست کرنا ہے اور ’نیا پاکستان‘ اسی کا نام ہے۔یہ وہ جملے ہیں جو پہلی بار ریاست کے تمام اداروں سے سننے کو مل رہے ہیں۔

Read more

عاصمہ شیرازی کا کالم: کیا ہم تیار ہیں؟

یہ محض ایک تکلیف دہ اتفاق ہے کہ پاکستان کے دو ہمسایوں کے فوجیوں پر ایک ہی ہفتے میں حملے ہوئے ہیں۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ دونوں ہمسائے پاکستان کے خلاف ہم آواز ہیں۔ تاہم یہ اتفاقات حادثات نہ بن جائیں، ہمیں اس کے لئے تیار ہونا ہوگا۔

صحافی اور سیاسیات کی طالبعلم کے طور پر عالمی اور علاقائی تبدیلیوں، بدلتے حالات اور اُن میں جمع تفریق ہمارے پیشے کا حصہ ہے۔

Read more

یہ پی ٹی ایم کیا ہے؟

ہوائیں مخالف اور تیز ہوں تو کیا کرنا چاہیے؟

آندھی کی رفتار کے ساتھ بھاگنے سے بہتر ہے کہ اُس کے گزر جانے کا انتظار کر لیا جائے اور سیلاب روکنے کے لیے بارشوں سے پہلے بند باندھنا ضروری ہے ورنہ سب بہہ جاتا ہے اور ہاتھ ریت بھی نہیں آتی۔

المیہ یہی ہے کہ ہم آندھیوں سے لڑتے ہیں اور طوفانوں پر بند باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوات آپریشن کو بہت قریب سے دیکھنے اور کور کرنے کا موقع ملا۔ یہاں تک کہ جنوری دو ہزار آٹھ میں جب ملا فضل اللہ عرف ملا ریڈیو کی ریاست مخالف مہم اور کارروائیاں عروج پر تھیں، سوات جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم اُن دنوں جنرل مشرف کی طرف سے ٹیلی ویژن پر نمودار ہونے پر مکمل پابندی کا شکار تھے لہٰذا اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

Read more

کیا سکرپٹ بدل رہا ہے؟

کہانی الجھتی جا رہی ہے، محبت بھی ضرورت بن جائے تو بوجھ محسوس ہوتی ہے، اُلفت مجبوری بن جائے تو اُس سے بھی جان چھڑانا پڑ جاتی ہے۔۔۔ کہانی الجھتی جا رہی ہے۔ پہلی بار شاید نکتہ دانوں کے ہاتھ نکتہ دستیاب ہے نا تجزیہ کاروں کے ہاتھ کوئی سرا۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ وہ سب جو ایک عرصے سے عوام کو سمجھاتے تھے کہ تبدیلی آئے گی تو سب بدل جائے گا، اشاریے بدل جائیں گے،

Read more

سیاست کی سانپ سیڑھی کا دلچسپ کھیل

پیر کی صبح سپریم کورٹ سے آنے والے فیصلے نے ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ کئی دنوں سے ہونے والے تجزیے غلط ثابت ہو گئے۔ کہاں جے آئی ٹی کی تشکیل اور تحقیقات کے دوران یہ خبریں زینت بنتی رہیں کہ آصف علی زرداری جلد جیل میں ہوں گے اور یہ کہ بلاول پر بھی نا اہلیت کی تلوار لٹک رہی ہے۔۔۔

اور کہاں جے آئی ٹی کی ساکھ کو ہی یہ کہہ کر چیلنج کر دیا گیا کہ نیب دو ماہ میں جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں از سر نو تفتیش کرے، اور یہ بھی کہ بلاول معصوم ہے۔

Read more

2019، پرانی تان اور نیا پاکستان

پانی پر تصویریں بنانے سے شاہکار تخلیق نہیں ہوتے۔ ریت پر قدموں کے نشان چھوڑنے کے لیے پانی کا سہارا ضروری ہے اور بُلبلوں کو دوام دینے کے خواب تنفس کو امتحان میں ڈال سکتے ہیں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ انصاف کے نام پر انتقام کی فصل بوئی جائے، احتساب من پسند کیا جائے اور ’چیخیں‘ نہ نکلیں۔ کیا یہ فیصلہ اب نہیں ہونا چاہیے کہ یا تو واقعی بلا تفریق احتساب کیا جائے اور انصاف کیا جائے

Read more

مریم نواز کی ’ممکنہ تحریک‘ اور مصلحت پسندی کا شکار اپوزیشن

یہ 13 جولائی کی شام تھی۔ جہاز کی کھڑکی سے چمکتا دمکتا لاہور انتہائی خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔ سڑکوں پر جھلملاتی روشنیاں زندگی کا تاثر دو چند کر رہی تھیں۔

یقیناً جولائی کا سخت گرم دن تھا، لگ بھگ ساڑھے سات بجے۔۔۔ یوں بھی سڑکوں پر ہیجان خیز ٹریفک شہر والوں کی خوشگوار شام کی تلاش کی عکاس تھی۔ کوئی غیر معمولی کیفیت لاہور شہر میں نظر نہیں آ رہی تھی۔

Read more

عاصمہ شیرازی کا کالم: سرد دسمبر اور دو لخت ماں

ابھی دو دن ہوئے 16 دسمبر گزرا ہے۔ ایک سرد دسمبر اور دوسرا سولہ کا دن۔۔۔ بےحد تلخ دن، بےپناہ تکلیف دہ، 71 کا سانحہ تو جیسے تیسے برداشت کر لیا مگر 2014 کا سانحہ بھلائے نہیں بھولتا۔

میں 16 دسمبر 2014 کے واقعے کے بعد سے 16 دسمبر کو پورا دن ٹی وی بند رکھتی ہوں تاکہ اس سانحے کی کوئی یاد تازہ نہ ہو، پھر بھی سسکیاں اندر ہی اندر دم توڑتی رہتی ہیں۔ سارا دن سوچتی ہوں کہ جانے اُن بچوں کی مائیں کیا کرتی ہوں گی، جی جی کر مرتی ہوں گی اور مر مر کر جیتی ہوں گی۔ سکول جاتے بچوں کو دیکھ کر روتی ہوں گی اور جب رو رو کر چُپ کر جاتی ہوں گی تو ہنستے ہوئے رو پڑتی ہوں گی۔

اُن کے کھلونے، کتابیں، جوتے، کپڑے اور اُن کی تصویریں دیکھ دیکھ کر کیسے تڑپتی ہوں گی، کوئی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔۔۔ یقین مانیے کوئی اندازہ کر ہی نہیں سکتا سوائے اُن کے جو ان بچوں کو جنم دیتی ہیں یعنی مائیں۔۔۔

Read more

پرائی جنگ اور عبداللہ دیوانہ

میں آج کل مثبت سوچنا اور لکھنا چاہتی ہوں۔ میرے ہاتھ ٹوٹیں اگر میں کوئی بھی منفی بات لکھوں کیونکہ حکم ہے کہ منفیت کو چند ماہ کے لیے بریک لگا دی جائے۔ ایسے میں میں نے جناب وزیراعظم کا انتہائی خوش کُن اعلان سُنا جو انھوں نے امریکی میڈیا کو ببانگ دُہل سُنایا کہ ’ہم کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، ہم کسی کے اجرتی قاتل نہیں بنیں گے۔‘ دیر آید، دُرست آید۔ آخر ہم بھی

Read more

پارلیمنٹ کے خلاف ’سازش‘

جولائی 2007، لندن میں نواز شریف کی جانب سے ایک کُل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ میں خود اپنے چینل کی جانب سے اُس وقت لندن سے یہ کُل جماعتی کانفرنس کور کر رہی تھی۔ اس کانفرنس میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں اور اُن کے سربراہان ماسوائے محترمہ بے نظیر بھٹو کے شریک تھے۔ جناب عمران خان اُس وقت قومی اسمبلی میں ایک ہی نشست رکھتے تھے اور وہ خود بحیثیت اپنی جماعت کے سربراہ کے اس کانفرنس میں

Read more

خدا کرے یہ سانحہ آخری ہو

اب کی بار گیم ایسی الجھی ہے کہ سلجھنے کو ہی نہیں آ رہی۔ یوں لگتا ہے کہ اُون کے گولے کو غلط ملط کر کے بظاہر مقتدر کی جانب اچھال دیا گیا ہے اور حکم دے دیا گیا ہے کہ جلدی سے دوبارہ اصل حالت میں واپس لایا جائے۔ جو جیتے گا وہ ہی مملکت کا اصل حق دار۔۔۔ وقت کم اور مقابلہ سخت۔۔۔ ٹیم کمزور اور نا تجربہ کار۔۔۔ اب ایسے میں گیم میں واپس آنا ہے، جیتنا

Read more

چند اور سخت فیصلے؟

اسد عمر صاحب آئی ایم ایف کے ’کامیاب‘ دورے سے لوٹ آئے ہیں۔ گو اُن کی پیٹھ پیچھے یہ خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ وزیراعظم اُن کی مالیاتی سوجھ بوجھ سے کچھ زیادہ خوش نہیں اور یہ کہ اُنہیں آئی ایم ایف کا فیصلہ بہت پہلے لے لینا چاہیے تھا۔ اسی دوران سٹاک مارکیٹ نے بھی اپنے شدید غصے کا اظہار کیا، شاید یہ تاثر مسلسل سرمایہ کاروں کو جا رہا تھا کہ نہ وزیر موصوف کے پاس وقت

Read more

اب کی بار چال کس کی؟

شطرنج کے کھیل میں سب سے اہم کردار بادشاہ کا ہوتا ہے اور یہی وہ کردار ہے جس کے گرد ایک وزیر، دو فِیلے، دو گھوڑے، دو رُخ اور آٹھ پیادے گھومتے ہیں۔ عالمی سیاست میں دو طرح کی بساطیں بچھائی جاتی ہیں، ایک بین الاقومی اور دوسری مقامی۔ دونوں بادشاہ کو گھیرتی ہیں اور اس کھیل میں سب سے زیادہ کام عقل اور مہارت کا ہوتا ہے۔ ہماری سیاست میں بھی شطرنج کی نئی بساط بچھائی جا چکی ہے۔

Read more

انکار کس کا، کس کو؟ انکار کس وقت اور کیوں؟

انکار کس کا، کس کو؟ انکار کس وقت اور کیوں؟ انکار وقت کے طاقتور ترین کو، کمزور ترین لمحوں میں اور انکار اس کو جو حاکم ہو، بااختیار ہو، مقتدر ہو اور خود کو وقت کا خدا سمجھتا ہو۔ انکار اُس کو جو مسند شاہی پر بلاشرکت غیرے براجمان ہو۔ انکار اُس کو جو زندگی اور موت پر اختیار رکھنے کا دعویدار ہو۔ تاریخ میں انکار کی چند ایک مثالیں ہی ملتی ہیں۔ سچ اُس وقت جب آپ جانتے ہوں

Read more

’یہ بیگم کلثوم سے نواز شریف اور مریم کی بھی آخری ملاقات تھی‘

                                                   بیگم کلثوم محترمہ بینظیر بھٹو کی بہت معترف تھیں اور جدہ میں پہلی ملاقات کے بعد سے بی بی سے ان کا ایک ذاتی تعلق بن چکا تھا بیگم کلثوم سے میری پہلی ملاقات 2007 میں ہوئی جب لندن میں کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد ہو رہا تھا۔ بیگم کلثوم اور مریم نواز نے مجھے

Read more

ریاست مدینہ، جناح کا پاکستان اور نیا پاکستان

ذہن میں ایک آندھی جو چل رہی ہے،بار بار لکھتی ہوں اور مٹا دیتی ہوں۔ وسوسے کچھ اوربڑھ گئے ہیں، اندیشے دو چند ہو چکے ہیں۔ اب تو لفظ اس قدر محتاط ہیں کہ کاغذ پر بکھرنے کو بھی تیار نہیں۔ زبان لفظوں سے محروم، بولتی ہے تو لکنت اور نہ بولے تو ضمیر کی مجرم۔ سوچ سوچ کر ہلکان ہوں کہ ہم کس قسم کا پاکستان تشکیل دے رہے ہیں جہاں ریاست مدینہ تو دورکی بات، جناح کا پاکستان

Read more

دولے شاہ کے چوہے

بچپن سے لے کر اب تک شاہ دولے کے ’چوہے‘ کہلائے جانے والے افراد میرے لیے قابل رحم بھی رہے ہیں اور قابل احترام بھی۔ بچپن میں گاؤں کی گلیوں میں بھیک مانگنے کے لیے آنے والے ان مخصوص لوگوں سے مجھے خاص انسیت تھی۔ سبز چولا، گلے میں موجود بڑے بڑے منکڑے (پتھر) والے ہار، ایک خاص ہیئت کا سر اور پھر جب یہ مجہول مانگنے نکلتے تو حیدر حیدر کی صدائیں مجھے اپنی جانب کھینچتیں۔ جو موجود ہوتا

Read more

بلوچستان بنام جناب وزیراعظم پاکستان

جس لمحے یہ تحریر آپ کی نگاہوں کے سامنے ہو گی، پاکستان کا 22واں وزیراعظم حلف لے چکا ہو گا، عوام سے خطاب ہو چکا ہو گا اور فخر اور تبریک کی صدایئں بلند ہو چکی ہوں گی، تعریف کے ڈونگرے اور تنقید ہو رہی ہو گی، بھاگ لگے رہن ،سر سلامت رہن۔۔ کے نعرے ہوں گے،امید اور ناامیدی کے بیچ جنگ جاری ہو گی مگر مجھے اس سے کیا کہ 12 کروڑ عوام کے صوبے کا انتظام کسی ایسے

Read more