خالی کُرسی۔۔۔
خالی کُرسی ایک علامت بھی ہے اور اشارہ بھی۔ سوال بھی ہے اور جواب بھی۔۔۔ اختیار کہاں ہے اور اقتدار کس کا۔۔۔ خالی کُرسی نے ایک بار پھر مہر ثبت کر دی۔
Read moreخالی کُرسی ایک علامت بھی ہے اور اشارہ بھی۔ سوال بھی ہے اور جواب بھی۔۔۔ اختیار کہاں ہے اور اقتدار کس کا۔۔۔ خالی کُرسی نے ایک بار پھر مہر ثبت کر دی۔
Read moreخوف اس بات کا ہے کہ اب سے چند ماہ بعد جب امریکہ بظاہر اپنی فتح مگر دراصل اپنی شکست پاکستان کے سر تھوپتے ہوئے خطے سے نکلے گا تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ اس وقت ہماری پالیسی کیا ہے؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreنئے محاذ کھولنے کی بجائے اندرونی بحران اور سیاسی تقسیم کو ختم کرنا ہو گا، سیاسی استحکام سے جُڑی معاشی پالیسیوں کا ادراک کرنا ہو گا، ففتھ جنریشن وار فیئر سے نمٹنے کے لیے اظہار پر پابندی کی بجائے آزادی کو یقینی بنانا ہو گا اور فیصلے پارلیمان میں کرنا ہوں گے
Read moreالگ الگ موقف اور منقسم لائحہ عمل نے جہاں اپوزیشن کو کمزور کیا ہے وہیں عوام بھی کنفیوژن کا شکار ہیں کہ اُن کی آواز ہے کہاں؟ ٹف ٹائم دینے والی اپوزیشن اب بھی سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت ہے اور چاہے تو من مانی قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے مگر فروعی اختلافات بڑے مقاصد کی راہ میں حائل۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreالمیہ تو یہ ہے کہ ملک بیچنے والے ہیرو اور ملک کے لیے قراردادیں پیش کرنے والے غدار ٹھہرے۔ جس نے بھی سوال اٹھایا، سچا شعر پڑھا، روایت سے ہٹ کر لکھا، قلم کو دربار میں سر نگوں نہیں کیا وہی غدار ٹھہرا۔
Read moreملک میں اس قدر آزادی ہے کہ اب صحافی، میڈیا مالکان خود پابندیاں لگوانا چاہتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں سینیئر اینکر و صحافی حامد میر نے اپنا پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ خود بند کر دیا کہ ’مجھے اس قدر آزادی نہ دیں کہ میں بھول جاؤں کہ میں کہاں ہوں‘: عاصمہ شیرازی کا کالم
Read moreشہباز شریف کی واپسی کے بعد سیاست میں قدرے ہلچل پیدا ہوئی ہے۔ ’کسی نے دعا دی اور کوئی جل گیا‘ کے مصداق شہباز شریف کی سیاسی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ بغیر مقصد کے حزب اختلاف کا کیا مصرف جبکہ ن کی سیاست میں ’بازی کھیلنے کی شرط کس کے ہاتھ‘ کی کنفیوزن الگ۔۔۔ ایسے میں ن لیگ کے اندرونی معاملات ایک خاص مقام پر آ کر رُک گئے ہیں۔
Read moreآخر کیا وجہ ہوئی کہ عدالت کے حکم کے باوجود ہوائی اڈے پر قائد حزب اختلاف کو روک لیا گیا۔ اُس سے بھی دلچسپ کہ شہباز شریف کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے باہر جانے کی ’عاجلانہ اجازت‘ اور تفصیلی فیصلے میں شہباز شریف کے لیے یہ جملہ کہ پبلک آفس ہولڈر کو سو فی صد مسٹر کلین ہونا چاہیے، اُن سارے الزامات کو ’اَن ڈو‘ کر رہا ہے جو اُن پر لگائے جاتے رہے: عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreاپوزیشن جماعتیں خاص کر کے شیڈو حکومت یعنی ن لیگ ایک عجیب کنفیوژن کا شکار ہے۔ ناکامی کا سہرا کس کے سر ہے اور احساسِ ناکامی کس کو۔۔۔ یہ بحث لا حاصل ہو چکی۔ اب آگے کیا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اس وقت نہ سیاسی اشرافیہ کے پاس ہے نہ ہی مقتدر طاقتوں کے پاس: عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreخطے کی بدلتی صورتحال میں فیصلے نہ تو تنہائی میں لیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی بند کمروں میں پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں۔ موجودہ فوجی قیادت کی نیت اور خلوص دونوں کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا لیکن انڈیا پر کس حد تک اعتماد کیا جا سکتا ہے اس پر بحث ضرور ہونی چاہیے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreفیض آباد دھرنے کا آج بھی ’فیض‘ اٹھانے والے قاضی فائز عیسی نے تاریخی فیصلے میں کئی ایک شخصیات، اداروں، میڈیا اور عوامل کو بیان کر دیا مگر جب شخصیات، اداروں سے بڑی اور مفادات طویل المدتی ہوں تو کون دوڑ کے گھوڑوں کو باندھنے میں دلچسپی رکھتا ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreکبھی گردنیں اُڑا دینے سے بدعنوانی پر قابو پانے کے طریقے اور کبھی چین، فرانس اور ایران کے خونی انقلاب کی خواہشیں، کیا اپنی ناکامی کو جمہوریت کی ناکامی بنا کر تبدیلی کے کسی نئے جھانسے کی تیاری ہے؟
Read moreشہباز شریف آگے آ سکتے ہیں اور تینوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان پُل کا کردار ادا کر سکتے ہیں، پنجاب اور وفاق میں تبدیلیوں کی راہ فراہم کر سکتے ہیں۔ آخر کار شہباز شریف اپنی جماعت کے صدر بھی ہیں۔ مسلم لیگ ن کو اپنے صدر کو عزت دینا چاہیے۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreآئندہ انتخابات سے قبل کی صف بندیوں میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی آپس کی روایتی لڑائی دونوں کی انتخابی سیاست کے لئے ضروری ہوتی چلی جا رہی ہے۔۔۔ کھیل بہرحال اب کی بار پورے میدان سے سمٹ کر ایک ہی ڈی میں داخل ہو چکا ہے جہاں سب تنہا گول کرنا چاہتے ہیں: عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreمعاملہ جو بھی ہو جب بات یہاں تک پہنچ جائے کہ سیاسی جماعتوں کے منتخب اراکین اعتماد کھو چکے ہوں تو نظام کو کوسنے کی بجائے نظام کو متعفن کرنے والوں کو کیوں مورد الزام ٹھہرایا نہیں جا سکتا؟
Read moreدن بدن گرتی معیشت راولپنڈی اور اسلام آباد دونوں کی لیے ایک چیلنج بن رہی ہے۔ وزیراعظم کو جلد اپنی مرضی کے خلاف فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ پنجاب کھونا نہیں چاہتی اور خان صاحب بُزدار صاحب سے ہاتھ دھونا نہیں چاہتے: عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreسینیٹ الیکشن سے قبل جوڑ توڑ اپنے عروج پر ہے، رابطے آخری مراحل میں۔ حکومت کی کشتی بیچ منجدھار میں ہے، کشتی پار لگ گئی تو لگ گئی۔۔۔ نہیں تو ادارے کا اس سے زیادہ، کوئی تعلق نہیں۔
Read moreکمزور سے کمزور ملک میں عدالتیں خوف سے آزاد اور بے باک ہوتی ہیں، انصاف کا ترازو جھُک جائے تو نظام ڈھے جاتے ہیں، بظاہر زندہ معاشرہ مردہ اور بظاہر زندہ قوم ہجوم میں بدل جاتی ہے۔ کیا ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں؟
Read moreجس کا جو کام ہے وہی اُس کا تابع نہیں۔ پارلیمان قانون سازی سے، عدالت تشریح سے، انتظامیہ کارکردگی سے تغافل برت رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں سیاست سے کوسوں دور اور غیر سیاسی کردار سیاست میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔
Read moreیہ کہانی میانمار کی ہے جہاں کی رہنما آنگ سان سوچی نے فوج کی ہر بات مانی، روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش رہیں، فوج کو اقتدار میں 25 فیصد حصہ دے کر اختیار دیا۔ انسانی حقوق کے تمام ایوارڈ، تمام نشان دنیا نے واپس لیے، رُسوائیاں ہاتھ آئیں، آہستہ آہستہ عزت جاتی رہی۔ آخر مصلحت اور اقتدار کی خاطر خاموشی کسی کام نہ آئی نتیجہ ایک اور مارشل لا کی صورت میں نکلا۔
Read moreمثلث کی تیسری ملاقات میں بھی فقط ریاست ہی بولتی دکھائی دی، اب کی بار حکومت کو سُننا پڑے گی۔ شاید کپتان پھر این آر او نہ دینے کا اعلان کرے مگر یہ این آر او اپوزیشن کو نہیں خود کو دینا ہو گا۔۔۔ اب کی بار ’ایک این آر او اپنے لیے۔‘
Read moreجہاز رُکا، سواریاں اُتاری گئیں، ہرے رنگ کے پاسپورٹ کو رُسوا کیا گیا اور قومی کیریئر کو زنجیروں سے باندھ دیا گیا وہ بھی اس برادر ملک کے ہاں جس کی کبھی ہم مثالیں دیا کرتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ لیز کے طیارے کو ایسی صورت میں اُڑنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم
Read moreپاک فوج کے ترجمان کی جانب سے پی ڈی ایم کو متعلقہ اداروں کو ’اپروچ‘ کرنے اور پی ڈی ایم اور مولانا کو پنڈی میں ’چائے پانی‘ کی ذومعنی دعوت اس دباؤ کا اظہار ہے جس کا ادارے کو سامنا ہے۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا ہفتہ وار کالم۔
Read moreیہ تاریخ بھی عجب چیز ہے، کیسے کیسوں کو سرخرو کرتی ہے اور کیسے کیسوں کو مصلوب کرتی ہے۔ تاریخ نہ جبر مانتی ہے اور نہ ہی پابندی۔ تاریخ پر نہ کوئی تازیانہ لگتا ہے نہ ہی کوئی دفعہ۔ تاریخ نہ جیل جاتی ہے اور نہ ہی من مرضی عدالت میں۔
Read moreپیپلز پارٹی گیم میں ’اِن‘ رہتے ہوئے پانسہ پلٹنا چاہتی ہے، مسلم لیگ (ن) گیم سے آؤٹ ہونا نہیں چاہتی اور مولانا گیم سرے سے کھیلنے کے ہی مخالف ہیں، ایسے میں کھیل کون جیتے گا اور بازی کس ہاتھ آئے گی؟
Read moreتحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی ایک کامیاب عوامی تحریک کا موجب بن سکتی ہے مگر اپوزیشن جماعتیں بجائے حکومت کو دفاعی صورت حال سے دوچار کرنے کے خود مدافعانہ حیثیت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
Read moreلانگ مارچ سے حکومت جائے یا نہ جائے مگر وسطی پنجاب میں اینٹی اسٹیبلیشمنٹ بیانیہ خطرے کی گھنٹی ضرور بجا رہا ہے۔ ایسے میں کیا لاہور کے ’ناکام‘ جلسے پر حکومت کو ’چِل‘ کرنا چاہیے؟
Read moreاسلام آباد مذاکرات کو تیار نہیں اور اپوزیشن بات چیت پر رضامند نہیں ایسے میں ادارے کتنا عوامی دباؤ برداشت کر سکتے ہیں اس کا فیصلہ یہ دسمبر کرے گا لیکن دعا ہے کہ اب کی بار یہ دسمبر ستمگر نہ ہو۔
Read moreہو سکتا ہے کہ یہ سوچ حاوی ہو کہ لگتے رہیں نعرے، ہوتے رہیں جلسے، چلتی رہے تحریک اور بڑھتے رہیں لانگ مارچ، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ اپوزیشن حکومت کا کیا بگاڑ لے گی؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم
Read moreاسرائیلی اخبار کیوں لکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ اسرائیل سے روابط رکھنے میں کوئی حرج نہیں رکھتی، ہم اس بارے میں کوئی بات لکھنے اور بولنے کو تیار نہیں، پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreاس بار یہ سوال عام ہے کہ اب پھر کیوں؟ نہ سول ملٹری تناؤ، نہ پنڈی اسلام آباد میں کچھاؤ، منتوں مرادوں سے لائی گئی ایک صفحے کی حکومت، ایک بیانیہ اور ایک تحریر۔ پھر یہ حادثہ کیوں کر ہوا؟ آخر اس کی پرورش بھی تو سالوں ہوئی ہو گی۔ حادثے بہرحال اچانک نہیں ہوا کرتے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreجمہوریت کا صحیح مطلب اور ماخذ ہمارے ہاں صرف ’وہ‘ سمجھتے ہیں۔ جہاں جسے جب چاہا لگا دیا جب چاہا ہٹا دیا۔۔۔ جب چاہا تحریر و تقریر کی آزادی دی جب چاہا چھین لی۔ جب چاہا انقلاب کے نعرے لگوائے، جب چاہا احتساب کو ہتھیار بنایا، کم و بیش بہتر سال سے جمہوریت کی بس یہی کہانی ہے۔
Read moreمیدانِ سیاست میں زیرک سیاست دان اپنی ٹائمنگ کے اعتبار سے میچ خود مقرر کر رہے ہیں۔۔ کب، کہاں، کتنا سکور کرنا ہے یہ بھی خود طے کر رہے ہیں۔ اصل امتحان اب اہل اختیار کا ہے کہ کھیل کھل کر کھیلنے دیں گے یا پچ ہی اُکھاڑیں گے۔
Read moreمقابلہ اُس اپوزیشن کے ساتھ ہوا جس کے پاس تجربہ بھی تھا اور وقت پر کھیلنے کا طریقہ بھی۔ برس ہا برس سے اقتدار کی راہداریوں سے واقف جانتے ہیں کہ ترپ کا پتہ کب چلنا ہے اور میز کے اس طرف کس طرح آنا ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم
Read moreآخر کسی نے تو غداری کے مقدمے کا آئیڈیا دیا ہو گا جس سے ملک کے وزیراعظم نے بھی خود کو فاصلے پر کر لیا ہے۔ جس ملک کا چیف ایگزیکٹو معاملات سے لاتعلق ہو جائے وہاں مسائل کون حل کرے گا؟: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم
Read moreپہلی بار یہ بھی ہو رہا ہے کہ دفاع کے لیے لائی جانے والی حکومت مدافعت کے لیے دفاعی ادارے کو استعمال کر رہی ہے اور ادارہ اپنے دفاع میں مدافعانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم
Read moreہر گزرتے دن کے ساتھ خوف کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔ خوف کا سبب جرائم کی شرح نہیں وہ انکار ہے جس کا شکار ریاست ہو چکی ہے، وہ افراد ہیں جو مظلوم کو قصوروار ٹھرا دیتے ہیں۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم
Read moreصرف فرقہ واریت ہی نہیں صوبائیت اور علاقائیت نے بھی اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دیے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر وفاق کے صوبوں کو طعنے اور عوام میں گہرے بیج بوتے تعصبات ایک خوفناک منظر پیش کر رہے ہیں: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم
Read moreقرضوں اور مہنگائی کی بلند ترین شرح، بیروزگاری اور دن بہ دن کمزرور ہوتی مملکت کا حل شاید پارلیمانی نظام کے خاتمے اور صدارتی نظام کے نفاذ میں ہی چھپا ہو لیکن عوام کو یہ تو بتایا جائے کہ اس وقت پاکستان میں کون سا نظام رائج ہے؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم
Read moreانڈیا اور امریکہ کی بڑھتی قربت کے بیچ چین اور انڈیا کا سرحدی تنازعہ، عرب امارات اور اسرائیل کے مابین جگری یاری، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہلکی پھلکی موسیقی انہی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم
Read moreوفاق ہو یا صوبے، خیبر پختونخواہ ہو یا پنجاب، ُبزدار صاحب اطاعت کی ایسی اعلیٰ مثال بن گئے ہیں جن کا ذکر آپ کو گورنر جنرل غلام محمد کی طرح صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی ملے گا: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم
Read moreتحریک انصاف کی حکومت خاموشی کے منٹ بڑھا دے، کشمیر کمیٹی پر کسی کو بھی لگا دے، ساری ہائی ویز کے نام سرینگر رکھ لے تب بھی کیا کشمیر اور کشمیریوں کے دل فتح کرنے میں کامیابی ہو گی؟ کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہے تو سرینگر ہائی وے پر چڑھنے کے لیے پاکستان کو زور دار ہارن بھی دینا ہو گا اور اپنا راستہ بھی لینا ہو گا۔
Read moreحزب اختلاف کے پلڑے میں نون لیگ کا وزن حکومت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ مڈ ٹرم انتخابات اور اس سے قبل انتخابی اصلاحات کے لیے جز وقتی تبدیلی کے فارمولے کی راہ میں رکاوٹ خود نون لیگ کا ایک صفحے پر نہ ہونا ہے۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreبزدار صاحب کو ہٹا دیا جائے تو کون ہو گا وزیراعلی۔۔۔ پرویز الٰہی ایک اہم امیدوار ہو سکتے ہیں مگر وہ بھی بزدار کے سب سے بڑے حمایتی یوں ہیں کہ بزدار انھیں بہت سُوٹ کرتے ہیں: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreپلک جھپکنے کے مقابلے میں سب سے بڑا امتحان آنکھوں کی پتلیوں کا ہے جنھیں ساکت بھی رہنا ہے اور دوسرے پر نظر بھی رکھنی ہے۔ ساکت، خاموش نظریں سب دیکھتی ہیں مگر جیت کے جنون میں ہل نہیں سکتیں کیونکہ جو پلک جھپکے گا وہی شکست تسلیم کرے گا۔ پاکستان کی سیاست اس وقت اُسی مرحلے سے گزر رہی ہے۔
عوام سیاست سے دور اور مایوس ہو رہے ہیں۔گو دلچسپی کا سامان ہر روز دستیاب ہوتا ہے۔ ہر دور میں کچھ منظر پر اور کچھ پس منظر میں ہلتی ڈوریاں نئی کہانیاں پردہ سکرین پر لے کر حاضر ہوتی ہیں اور یوں سیاسی تھیٹر پر جاری پتلی تماشہ ناظرین کو پلک جھپکنے نہیں دیتا۔
Read moreجعلی انتخابات کے ذریعے سامنے آنے والی جعلی قیادتوں پر ’اصلی اور وکھری قیادت‘ کا ٹھپہ لگ بھی جائے تو بھی نقل اور جعل سازی پکڑی جاتی ہے۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔
Read moreخواہشات کے گھوڑوں کی لگام صرف نظام فطرت کے ہاتھ ہے، ارادے ٹوٹ جاتے ہیں تو فہم قدرت سمجھ میں آتا ہے۔ اختیار اور اقتدار کی گلیوں میں ہر نکڑ پر موقع پرست گھات لگا کر بیٹھتے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ سیاست اور حکومت محض طاقت کے بل بوتے نہیں بلکہ فہم و فراست سے چلتی ہے۔
پاکستان کی غیر سیاسی اشرافیہ ایک بند گلی میں جتنی اب ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ اکہتر میں پاکستان دو لخت ہوا، پاکستان کے ہزاروں قیدی انڈیا کے ہاتھ ہتھیار کے طور آئے۔
Read moreعجب بولہبی ہے ہر طرف کہ آواز عالم کی ہے اور لہجہ جاہل کا۔۔۔ بوجہلی سی بوجہلی کہ علم کے طالب جہالت کی آواز بن گئے ہیں۔ قحط الرجالی کا یہ عالم ہے کہ معمولی سی قابلیت والے باعلم اور بظاہر قد آور دراصل بونے ہیں۔ یوں تو ہمیں بھی ہر وقت شکایت کی عادت سی ہو گئی ہے مگر یقین مانیے جب بھی قلم اٹھایا تو سوچا آج کچھ منفی نہیں لکھنا، مگر ڈھونڈنے سے بھی نہ اچھی خبر
Read moreکورونا کے اعداد و شمار بتانے والی مشین بتا رہی ہے کہ ابھی جتنا اندازہ تھا اتنا نقصان نہیں ہوا۔ پھر یہی مشین دکھا رہی ہے کہ اندازہ تھا کہ اتنا نقصان ہو گا۔۔۔ مشین کے سینے میں دل کہاں، مشین تو مشین ہے، نہ سانس لیتی ہے نہ جذبات ہیں نہ احساسات، نہ ہی خدشات۔ مشین بے حس ہوتی ہے، بے پرواہ اور بے نیاز ہوتی ہے۔ مشین کو کیا پتہ کہ عمر گزار دینے کے باوجود ماں باپ
Read moreحرف لکھتی ہوں اور مٹا دیتی ہوں۔ ایک ایک لفظ جیسے منوں وزنی ہے لیکن حرف ہی تو شناس ہے اور حرف کو ہی تو ثبات ہے۔ حرف کی گواہی تو القلم اور حرف کا انعام ہی کتاب ہے۔ سو حرف کی قسم کہ سچ مگر تلخ اور کڑوا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے چند دنوں سے اکتاہٹ سی ہو گئی ہے۔ جس طرح کے ٹرینڈز سوشل میڈیا پر چل رہے ہیں یوں لگتا ہے کہ گٹر اُبل پڑے ہوں۔ تعفن سا تعفن ہے کہ دم گھٹتا محسوس ہوتا ہے۔ ایسے میں بلوچستان کی بیٹیوں اور بہنوں کی لاپتہ بھائیوں کے لیے پکار نے دل اور بھی بوجھل کر دیا ہے۔
Read moreغم کیا ہے، کسی غمزدہ آنکھ سے پوچھیے۔ موت کے رقص میں زندگی کے معنی کیا ہیں، خوف سے پوچھیے۔ سانس سے وابستہ آس کیا ہے، اُمید سے پوچھیے۔ گذشتہ جمعے کو آس، اُمید، زندگی سب ہار گئے۔۔۔ جیتا تو فقط خوف۔
کورونا کے خوف کے سائے میں عید پہلے ہی کچھ خاص پر لطف نہ تھی اور پھر جہاز کے حادثے نے تو گویا تمام رنگ ہی چھین لیے۔
Read moreمیرے پانچ سالہ بیٹے نے ٹی وی ہیڈ لائنز دیکھ کر خوف زدہ آنکھوں کے ساتھ سوال کیا، ماں! کیا کورونا بہت خطرناک ہے؟ میں نے رٹے ہوئے طوطوں کی طرح گذشتہ دو ماہ کے دوران ازبر کیے ہوئے جواب دہرانے شروع کر دیے۔
اسے سمجھایا کہ کورونا جان لیوا ہے، سماجی دوری کے فوائد اور بار بار ہاتھ دھونا وغیرہ۔ مگرصاحبزادے نے قطعی درگزر کر کے روکا اور پوچھا کہ کیا ’اتغور‘ یعنی ارطغرل کورونا کا مقابلہ کر سکتا ہے؟
Read moreکس نے سوچا تھا کہ 2019 کا ڈوبتا سورج اور 2020 کا آغاز ایک ایسے اٴن دیکھے دشمن سے دوچار کر دے گا جس کا نہ کوئی چہرہ ہے اور نہ ہی وزن، نہ آنکھیں ہیں اور نہ ہی ذہن، نہ کوئی ہیئت ہے اور نہ ہی شکل، مگر وجود ایسا کہ لاکھوں مربع میل پر محیط ریاستیں اس کے سامنے بے بس اور کھربوں کے ہتھیار اُس کے سامنے بے اختیار۔ ایک وائرس نے دنیا بدل کر رکھ دی
Read moreسابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی خاموشی طویل ہو رہی ہے۔ نومبر کے اوائل میں ضمانت کے حصول کے بعد مریم نواز جیل سے باہر، نواز شریف ملک سے باہر اور شہباز شریف فیلڈ سے باہر نظر آئے۔ کورونا قائد حزب اختلاف کو ملک واپس لے آیا، خدا جانتا ہے کہ وہ کورونا سے لڑنے آئے یا اپنے ’سیاسی مخالف کورونا‘ کو بھگانے مگر حالات کی بدلی ہوئی انگڑائی نے میز پر سجی بساط بدل دی۔۔۔ چال
Read moreاقتدار کی راہداریوں میں فیصلوں کی قطار آتے جاتے چہروں کی داستان رقم کر رہی ہے۔ ایوان اقتدار کے کتنے چور دروازے ہیں اور کس کس پر کتنے پہرے۔ اہل حکومت بھی ابھی پوری طرح آگاہ نہیں۔ دروازوں پر ایستادہ سپاہی اور ان کے ہاتھوں کے ہتھیار کب کس کے ہاتھ آ جائیں، خود پاس داروں کو خبر نہیں اور راستوں کی بھول بھلیوں میں الجھ جانے والے ہاتھوں کی دستک اس قدر مدہم کہ بسا اوقات اپنے ہی کانوں
Read moreپاکستان میں بہت کچھ بدل گیا اور بدل رہا ہے، دھیرے دھیرے، آہستہ آہستہ۔۔۔ جمہوریت کے نام پر کبھی آمریت کا غلبہ رہا اور کبھی فسطائیت نے پاؤں جمائے۔ عوام کے لیے عوام کے نام پر عوام کی حکومت کم ہی دیکھنے کو ملی۔ انتخابات کے نام پر ’منتخب نمائندے‘ کہیں اور کے چنیدہ اور عوام کے نام پر خواص حکمران رہے۔ دو آمریتوں کے درمیان وقفے کو جمہوریت اور مصلحت سے جنم لینے والے اقتدار کو جمہوری حکومتوں کا
Read moreعام طور پر فلم یا ڈرامے کی کامیابی کے لیے پروڈیوسر، ڈائریکٹر ہزار ہا جتن کرتے ہیں۔ کئی فلمیں باکس آفس پہ آنے سے پہلے ہٹ ہو جاتی ہیں اور کئی اسکرین پر جلوہ افروز ہوتے ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ ایسی فلموں کے اشتہار لگانے سے پہلے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اپنی فخریہ پیشکش پر دل کھول کر پیسہ لگاتے ہیں، بڑے بڑے بل بورڈز سجاتے ہیں اور فلم کی کامیابی کے لئے ہر طریقہ آزماتے۔ اب چونکہ نیا زمانہ ہے
Read moreاب کی بار حالات ذرا مختلف ہیں، کھیل سجانے والے کھیلنا چاہتے ہیں مگر کھلاڑی کھیل سنبھال نہیں پا رہے۔ پہلی بار بساط بھی اپنی اور کھلاڑی بھی، بادشاہ بھی اپنا اور پیادے بھی؟
عجب مشکل ہے کہ تبدیلی لانے والے نظریں چرا رہے ہیں اور تالیاں بجانے والے ہاتھ مل رہے ہیں، ہارنے والے اپنی شکستگی چھپا رہے ہیں۔ خاکم بدہن بار شکست کن کندھوں پر آئے گا، یہ سوچنا بھی محال ہے۔
Read moreجناب کی کرسی سلامت رہے۔۔۔ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ غیر معمولی حالات اور اوپر سے غیر معمولی وائرس کا سامنا، ان حالات میں محض معمولی اقدامات کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
مانا کہ یہ وقت تنقید کا نہیں مگر جب بات حلق تک آ پہنچے اور جاں بلب ہو تو جان بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں چلانا پڑتے ہیں۔ اس وقت حالات کا تقاضا فقط اتنا ہی ہے کہ عملاً چاہے کچھ ہو یا نہ ہو مگر کم از کم معاملات پر غیر سنجیدگی کا شائبہ بھی نہ ہو۔
Read moreبہت دنوں کے بعد ٹیرس پر بیٹھ کر چڑیوں کی چہچہاہٹ سُننے کا موقع ملا، نئے موسم کی کھلتی نئی کلیاں اور نوجوان ہوتے پھول اپنے ہونے کا پتہ دے رہے ہیں۔ بہت دنوں کے بعد بہار دیکھی مرجھائی سی اور رنگ ہوتے ہوئے بھی بے رنگ سی۔ ذرا سی بارش کے بعد نکھری نکھری ہر چیز، تارکول کی سڑکیں دھلی ہوئی اور شفاف، ہجوم کے بغیر بازار۔۔ یہ سب بہت سارے دنوں کے بعد دیکھنے کو مل رہا تھا،
Read moreسب کچھ ہی تو بدل گیا ہے۔ سونے کی تاروں سے تجارت کرنے والے، تیل کی دھاروں سے عالمی منڈیوں کا رخ طے کرنے والے، دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بے بھاؤ خریدنے والے، وقت کی رفتار کو قابو کرنے والے۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب بدل گئے۔ عالمی وبا سے پہلے کی دنیا دیکھیے۔۔۔ اقوام عالم پر راج کے سپنے، بین الاقوامی منڈیوں پر کنٹرول کے خواب اور اعداد کے بےشمار کھیل میں مشغول دنیا نے کہاں سوچا ہو
Read moreتیز بارش، ٹھنڈی ہوائیں اور سرد موسم نے اسلام آباد کو بے حد خوبصورت بنا رکھا ہے۔ جاتے جاڑے کی آتی خنکی نے ماحول کو رومانوی سا کر دیا ہے۔ درختوں پر نئے پتے جنم لے رہے ہیں اور پھولوں کی کونپلیں اپنا سر نکال رہی ہیں۔ بہار آ رہی ہے۔
اسلام آباد کے سرد موسم میں تھوڑی بہت گرمی عورت مارچ پر نظر آئی۔ چند مذہبی گروہوں نے پتھر وغیرہ مار کر ماحول کو ’متنازع‘ بنانے کی کوشش کی لیکن کوئی زیادہ رونق نہ لگی۔
Read moreانگریزی جاسوسی فلموں کا ایک کمال ہے کہ اپنے ناظرین کی تفریح کے لیے ایسے ایسے موضوع ڈھونڈتے ہیں کہ دیکھنے والا سکرین سے جُڑا رہے۔ مثلاً جراسک پارک کی مشہور فلموں میں بچ جانے والے چھوٹے ڈائناسور اگلی فلموں کے مرکزی کردار بن جاتے ہیں۔ ڈراؤنی فلموں کا کردار ’چکی‘ ہر فلم کے انجام پر غائب ہو جاتا ہے، لمحہ بھر کو نگاہوں سے دور اور فلم کے مرکزی کردار کو بھی بچا لیتا ہے جبکہ سیکوئل میں پھر
Read moreکوکلا چھپاکی جمعرات آئی اے، جیہڑا اگے پچھے ویکھے اوہدی شامت آئی اے۔ پنجاب کے دیہات میں بچوں کے کھیلوں میں یہ کھیل خاصا مقبول ہے۔ اس کھیل میں بچے ایک دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں اور اُن میں سے کوئی ایک اپنے کسی بھی دوست کے پیچھے کپڑا چھپا دیتا ہے جس کے بعد آنکھوں پے کپڑا باندھے محض خطرہ بھانپنے والا کپڑا چھپانے والے کے پیچھے بھاگ پڑتا ہے اور پھر بھرپور دھلائی ہوتی ہے۔ ان قدیم دیہاتی
Read more2002 کی اسمبلی کی کوریج سے سیاسی رپورٹنگ کا آغاز کیا تو ایوان میں نہ تو محترمہ بےنظیر بھٹو تھیں اور نہ ہی میاں برادران۔
ان بھاری بھر کم شخصیات کی کمی کو البتہ بے حد محسوس کیا جاتا تھا تاہم جنرل مشرف کی آمریت نما جمہوریت میں پارلیمان کو اتنا استحقاق ضرور تھا کہ پابندیوں کے باوجود عوامی مسائل اور غیر جمہوری معاملات پر بھرپور بحث کی جاتی۔
Read moreعکس ختم بھی ہو جائے تو اثر برقرار رہتا ہے، بلبلے ٹوٹ جاتے ہیں لیکن جاتے جاتے حلقہ ضرور بنا لیتے ہیں۔ ثبات کسی شے کو نہیں لیکن ثبوت کی جنگ زندگی کے لیے لازم قرار پاتی ہے۔ وقت اور حالات کس کو کس جگہ لے آئیں اس کا اندازہ نہ کبھی کسی کو ہوا نہ ہو پائے گا۔ وطنِ عزیز میں ہر گزرے دن کے ساتھ تقسیم بڑھ رہی ہے۔ رنگ، نسل اور مذہب کی تقسیم، قومیت کی بنیاد
Read moreستاروں کی چال سے متعلق ایک پورا علم موجود ہے۔ کون سا ستارہ کس دائرے میں کتنا بااثر؟ کس کے اثر میں کون سا گھر اور حاکم کس حلقے میں نظر رکھے؟ یہ سب علم نجوم سے دلچسپی رکھنے والوں کو معلوم ہوتا ہے۔ سنہ 2020 کے آغاز کے ساتھ ہی نظر آ گیا ہے کہ قمر، مریخ اور زُحل کی باہم تثلیث میں دراڑیں ہیں جبکہ قمر تیسرے گھر میں قیام کر سکتا ہے۔ علم نجوم میں تمام سرگرمیاں قمر
Read moreآج کی تاریخ میں وہ ہو جائے گا جس نے پاکستان کی سیاست کو ایک نیا موڑ دینا ہے۔ آرمی ایکٹ میں تبدیلی کوئی معنی رکھتی ہے نہ ہی توسیع سے کوئی نقصان ہے، یہ تو طے تھا سو ہو رہا ہے۔۔۔ مگر تنقید اُس ‘طریقہ کار’ پر ہے جس کا رونا کئی لوگ اب تک رو چکے، وہ اعتراض کہ جس کا شکوہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ بلآخر وہ ہو گیا۔۔۔ایک ایسا این
Read moreگزرے ایک سال میں بہت کچھ تھا۔ امید سے ناامیدی کا سفر، معاشی زبوں حالی کی داستان، زوال پزیر ہوتی معیشت، پکڑو بچاؤ کی صدائیں، سول ملٹری تعلقات کا ایک صفحہ، پچھلی حکومتوں کا حساب کتاب، بدعنوانی پر شائع ہوتے مجلے، اندر باہر آتے جاتے سیاستدان، بند پڑی پارلیمان۔۔۔ ایک سورج ڈوب رہا ہے جبکہ دوسرا سورج اُبھرنے کو تیار۔ لمحوں کا سفر آہستہ آہستہ جاری ہے۔ وقت اگلی دہائی کے دروازے پر دھیرے دھیرے دستک دے رہا ہے۔ سیکنڈز،
Read moreاختیار بے اختیار ہو جائے اور اقتدار بے مہار تو کہاں کا قانون اور کیسا انصاف۔ وقت کس قدر بے رحم ہے، بدلتا ہے تو اوقات دکھا دیتا ہے اور نہ بدلے تو انداز۔ یہ بیس اکتوبر دو ہزار تین کی سہ پہر تھی، قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے سربراہان یعنی محترمہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور شہباز شریف خود ساختہ جلاوطن تھے۔ ملک میں خواجہ آصف، احسن اقبال، جاوید
Read moreحالت یہ ہے کہ ایک اچھا خاصا فیصلہ سپریم کورٹ نے دیا ہے کہ جناب ہمارے پاس آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق ایک درخواست آئی ہے۔ ہم نے ہمت کی اُسے سُنا، درخواست دینے والے راہی صاحب راہ سے ہٹے تو اُنھیں ثابت قدم رکھنے کی کوشش بھی کی اور اس اہم معاملے پر حکومت سے جواب طلب کیا مگر حکومت نے پکڑائی نہ دی۔ نوٹیفیکشن پر نوٹیفکیشن جاری ہوتے رہے، اٹارنی جنرل کی آنیاں جانیاں
Read moreایسا معاشرہ جہاں لاپتہ آوازیں ہوں، لاپتہ تحریریں، لاپتہ لہجے، لاپتہ الفاظ، لاپتہ کتبے، لاپتہ قبریں، لاپتہ نوحے، لاپتہ نغمے، لاپتہ دُھنیں اور ُان دُھنوں پر ناچنے والے لاپتہ پاؤں، لاپتہ موسم، لاپتہ راستے اور لاپتہ منزل۔۔ وہاں کیا لکھیں اور کیا کہیں۔ میں لاپتہ ہوں میری آنکھیں لاپتہ ہیں جو نظر رکھتی ہیں مگر دیکھ نہیں سکتیں میرے لب لاپتہ ہیں جو بول رکھتے ہیں مگر بول نہیں سکتے میرے لاپتہ وجود میں، میرا لاپتہ دل دھڑکتا ہے مگر
Read moreایک نئے میثاق یا ایک نئے عمرانی معاہدے پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ قومی اداروں کے مابین مکالمے کے آغاز کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے اور ہم آہنگی کی فضا کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ’اختلاف‘ مکالمے کو جنم دیتا ہے اور اتفاق ’رائے‘ کی راہ ہموار کرتا ہے۔ میثاق، معاہدہ یا ہم آہنگی بات چیت کے بغیر ممکن نہیں اور بات چیت کے لیے انا کو پس پشت ڈالنا ضروری ہے۔ دستوری ضمانتوں کے
Read moreکٹہرے میں کھڑے طاقتور شخص سے پوچھ کر انصاف کرنا اُتنا ہی بُرا ہے جتنا جابر حکمران کی اجازت سے کلمۂ حق ادا کرنا۔ ترازو کے پلڑوں میں قانون کو تولنے کی نوبت آ جائے تو نظام کو اعتماد کی سند لینا ہی پڑتی ہے اور قانون کے اطلاق میں رنگ، نسل، مذہب، زبان اور عہدے آڑے آ جائیں تو ادارے برباد ہو جاتے ہیں۔حالات بدل رہے ہیں، عدالتیں سوال پوچھ رہی ہیں۔۔۔ غداری کیس میں جنرل مشرف پر عدالتیں
Read moreوہی جو ہمیشہ ہوتا رہا ہے، پھر سے ہو رہا ہے۔ بالکل اُسی طرح جیسے پیپلز پارٹی کو پچھاڑنے کے لیے پہلے اسلامی جمہوری اتحاد بنایا گیا جس میں سے ن لیگ، ق لیگ، ضیا لیگ، فنکشنل، نان فنکشنل اور کئی ایک ’جمہوری‘ گروپ اور کئی عدد چھوٹی چھوٹی الف سے ے تک مسلم لیگیں برآمد ہوئیں۔ پھر دو بڑی جماعتیں ایک دوسرے سے محاذ آرائی کرتی رہیں، لڑتی رہیں، جھگڑتی رہیں اور پھر ’لڑتے لڑتے ہو گئی گم، ایک
Read moreسٹیج پر جاری کھیل کے سب کردار بند گلی میں ہیں۔ ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور فنکار سب کے سب۔۔۔ ڈرامے کا کوئی انجام سمجھ نہ آ رہا ہو تو کردار بڑھا دیے جاتے ہیں، مکالموں میں طول، کردار لایعنی اور جملے بے ربط ہو جاتے ہیں، ڈرامہ ختم ہو جاتا ہے، ڈائریکٹر داد بھی سمیٹ لیتا ہے، پروڈیوسر کی چاندی بھی ہو جاتی ہے لیکن کردار اپنی جگہ کھو دیتے ہیں۔ آوازیں گلی محلے میں نکلنے والے مقبول چہروں پر ہی
Read moreبچپن کی کہانیوں میں ہمیشہ سُنتے تھے کہ باپ بیٹے کو سفر پر نکلتے ہوئے نصیحت کرتا کہ بیٹا دوران سفر پیچھے مُڑ کر مت دیکھنا، پیچھے دیکھنے سے پتھر کے ہو جاؤ گے۔ آگے کا سفر جاری رکھنا تا کہ منزل تک پہنچ سکو۔ بڑے ہوئے تو سمجھا کہ پیچھے مُڑ کر دیکھنے سے آدمی پتھر کا یوں ہو جاتا ہے کہ ماضی میں الجھ کر حال سے بے خبر اور مستقبل سے بھٹک جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی
Read moreاُمید اور ناامیدی کے درمیان فقط انتظار ہوتا ہے اور منتظر چہرے اضطراب کا شکار۔ اضطراب وہ واحد کیفیت ہے جسے جانچنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں۔ اضطرابی کیفیت میں امید کی کوئی اُمید نظر نہ آئے تو ہیجان جنم لیتا ہے اور ہیجان انتشار کا سبب بنتا ہے۔ بہر حال کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس وقت قوم کو معیشت کی بحالی کی اُمید ختم ہو رہی ہے اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔ گذشتہ ایک برس میں خود کو
Read moreہم تاریخ کے اُس نازک دور میں واقعی داخل ہو چکے ہیں جہاں غلطی کی ذرا سی گنجائش نہیں ہے۔ اگر کسی کو امریکہ-انڈیا گٹھ جوڑ میں ذرا سی بھی غلط فہمی ہے تو ہیوسٹن کے مشترکہ جلسے کے بعد دور کر لے۔ لیکن سوال یہ اہم ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ مسئلہ کشمیر پر سوائے ایک دو ممالک کے ہمارے ساتھ کس کی حمایت ہے؟ مودی اور ٹرمپ کی گھن گرج میں کشمیریوں کی چیخیں دنیا کو سنائی
Read moreپاکستان کی سیاست کا میچ اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگلی سہ ماہی کا ٹوئنٹی ٹوئنٹی شروع ہو چکا ہے، نئی نئی ٹیمیں وجود میں آرہی ہیں، اُکھاڑ پچھاڑ کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ اپوزیشن اپنی صف بندیوں جبکہ حکومت احتساب کے تازہ دم دستوں کے لیے تیار ہے۔ گذشتہ برس جولائی میں انتخابات سے قبل ایک اہم اننگز کا آغاز کیا گیا۔ احتساب کی اس اننگز میں جناب عمران خان نے شاندار بولنگ کی۔ اپوزیشن کی
Read moreوقت ایک سا نہیں رہتا۔ گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ جُڑا وقت احساس دلاتا ہے کہ ہر گزرتا وقت آپ کا نہیں تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ وقت حقیقت بھی ہے اور سراب بھی۔ وقت تعبیر بھی ہے اور خواب بھی، وقت راحت بھی اور عذاب بھی، وقت صبح صادق بھی اور تاریک رات بھی۔
Read moreتحریک انصاف کی حکومت کے پہلے پارلیمانی سال کی تکمیل کے پہلے ہی دن وزیرِ اعظم عمران خان کا اہم ترین فیصلہ سامنے آ گیا۔خطے کی غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر ملک کے نازک ترین دور کا اہم ترین فیصلہ۔۔۔ بہر حال جمہوریت اور ملک کے وسیع ترین مفاد میں یہ فیصلہ جتنی جلدی ہو جاتا اچھا تھا سو یہ ہو گیا۔
Read moreہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔ ’پاکستان اور کشمیری کسی خام خیالی میں نہ رہیں۔۔۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے لیے کوئی ہار لے کر کھڑا نھیں ہو گا۔‘
وزیر خارجہ کے کشمیر کی دھرتی پر اس بیان کو کن معنوں میں لیں؟ سچ مان لیں یا اُن کے بیان کا اچھوتا انداز سمجھ لیں؟ احساس شکست یا احساس ناکامی؟ اگر ناکامی تو دوش کس کا؟
Read moreجس قدر بد دعائیں، طعنے اور مغلظات مجھے آتی تھیں میں نے بک دیں۔۔۔ کمرے میں گھوم گھوم کر ہلکان ہو گئی، جس قدر غم اور غصے کا اظہار کر سکتی تھی کیا۔۔۔ مٹھیاں بھینچیں، ہاتھوں سے بالوں کو کھینچا، دانت پیسے اور پھر ہاتھ مل لیے۔۔۔ صرف ایک ہی غصہ تھا کہ ٹرمپ صاحب نے آخر یہ کیا کیا؟ مسئلہ کشمیر سے متعلق سوال کے جواب میں خود ہی ہونٹوں کو گولائی میں لا کر مودی کو ’موڈی‘ بنا
Read moreطاقت ہو اور اختیار نہ ہو مگر طاقتوری کا تاثر موجود ہو تو ایسے میں خام خیالی جنم لیتی ہے۔ خیال پختہ ہوتا چلا جائے تو یقین محسوس ہونے لگتا ہے، ہیولے اشکال میں اور تصورات تصویر میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ دراصل ایسا ہوتا نہیں مگر ہوتا ہے۔ اس ہونی اور انہونی میں کیے جانے والے فیصلے نہ پائیدار ہوتے ہیں اور نہ ہی نتیجہ خیز۔ حکومت اس وقت یقین اور بے یقینی کے درمیان ہے حالانکہ طاقت کا مرکز
Read moreپاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کا یہ جملہ ‘الحمداللہ، بوائز پلیڈ ریئلی ویل’ بہت دلچسپ اور مقبول جملہ ہے۔ اکثر میچ جیت جانے کے بعد بولا جانے والا یہ جملہ کانوں کو بہت بھلا، خوبصورت اور دلفریب لگتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بنتے ہی امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں جو تناؤ آیا، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ شروع میں پاکستان نے بھی پروا نہیں کی مگر دھیرے دھیرے پاکستان ‘نیچرل الائنس’ یعنی خطے کے قدرتی اتحاد سے نکل کر ایک بار پھر ’اپنے پرانے پیار’ کی جانب لوٹنے لگا۔
Read moreجمہوریت کی کتابی تعریف عوام کی حکومت، عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے ہے۔
جمہور کی رائے اور جمہور کی حکمرانی اصل روح تصور ہوتی ہے۔ فاشزم یا فسطائیت لفظ facio سے نکلا ہے جس کا مطلب قدیم اطالوی زبان میں ڈنڈوں کا مجموعہ ہے جن سے عوام پر قابو پا یا جاتا تھا۔
Read moreجب کسی فلم کو مشہور کرانا ہو تو اُس پر پابندی لگا دیں یا اُس کو سینسر بورڈ میں ہی روک لیں۔ کھڑکی توڑ ہجوم کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ فلم یا کسی کمپنی کی مشہوری کے لئے اسے متنازعہ بنا دیا جائے تو یقین مانیں کہ کبھی نہ چلنے والی کمپنیاں بھی دوڑنے لگتی ہیں۔ وطن عزیز میں چند فلموں اور ٹیپوں کا دور دورہ ہے۔ ٹیپ چلتی ہے اور رُک جاتی ہے، اگلے سیکوئل کا انتظار شروع
Read moreچند برس پہلے پی ٹی آئی کا مشہور و معروف نغمہ ‘تبدیلی آئی رے’ ریلیز ہوتے ہی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ گیا۔ اس گانے کے بول شروع ہوتے ہیں ‘پارلیمنٹرینز، درباری اینڈ جیالاز ۔۔۔۔نیکسٹ اسٹاپ اڈیالہ’۔ کسی کو یقین نہ تھا کہ سال 2017 میں تخلیق کیے گئے گانے کے بول حرف بہ حرف درست ثابت ہوں گے۔ نغمہ نگار نے چُن چُن کر الفاظ تحریر کیے اور سکرپٹ رائٹر حرف بہ حرف بولوں کو حقیقت میں بدل رہے
Read moreوقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے مگر رفتار سست ترین۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے چلتی سانسوں کا شمار کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
تجارتی، مالیاتی خسارے انسانی خسارے کو جنم دے سکتے ہیں۔ مہنگائی کے بڑھتے پیمانے انسانوں کو سائے میں بدل سکتے ہیں مگر احساس کی موت واقع ہو چکی ہے۔ المیہ یوں بھی ہے کہ الزام در الزام کے اس دور میں عام آدمی محض عام سا ہو کے رہ گیا ہے۔
بلاخر اسد عمر بھی پھٹ پڑے۔ آئی ایم ایف کا جو پیکج وہ دے رہے تھے اور دے نہ پائے، آئی ایم ایف کی وہ شرائط جو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کا وعدہ تحریک انصاف کی حکومت کر رہی تھی مگر عملدرآمد نہ کر سکی، بلاآخر یہ معاملہ ایک عوامی نمائندے یعنی اسد عمر کے ہاتھوں ہی انجام کو پایا۔
Read moreجو ہو رہا ہے کبھی نہ ہوا تھا، جو ہو گا وہ بھی کبھی نہیں ہوا۔۔۔
ہونی کو کون روک سکتا ہے، ہونی ہو کر رہتی ہے۔
اور جو اب ہو رہا ہے دراصل وہی ہو رہا ہے جسے ہونا تھا۔ اس ہونی کے پیچھے سب اچھا نہیں تھا مگر اب اچھے کی اُمید بن چلی ہے۔
جس طرح سیاسی بساط پر کھیل جاری ہے اس سے فی الحال یہ تاثر مل رہا ہے کہ کچھ اچھا نہیں مگر ذرا لمحہ بھر کو سوچیے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے والی سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر کیسے آتیں۔
ازراہِ کرم اس صفحے کو اُس صفحے سے الگ سمجھا جائے۔
Read moreہم وقت کے ساتھ ضد میں ہیں۔ جب یہ سوچ لیا جائے کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا تو ملک ناقابل تلافی نقصان کا شکار ہوتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ ہم بدلے ہیں۔ نہ ہم بدلے ہیں، نہ بدل سکتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ ملک میں جمہوریت ہے؟ نہ جمہوریت ہے، نہ آسکتی ہے۔ نظام ہمارے رویوں کے تابع ہیں اور ہمارے رویے جمہوری ہو ہی نہیں سکتے۔ ملک خواہشات پہ نہیں نظام پہ چلتے ہیں۔ اگر
Read moreکوئی بھی سیاسی حکومت عدلیہ، میڈیا اور سیاست دانوں کو بیک وقت ہاتھ لگانے سے ڈرتی ہے سوائے موجودہ حکومت کے۔ اب یہ خان صاحب کی دلیری سمجھیں، تابع داری یا حد درجہ خود کشی کا شوق، یہ صرف کپتان ہی کر سکتے ہیں سو وہ کر رہے ہیں۔جنرل مشرف کے دورِ آمریت میں میڈیا آزاد تھا عدلیہ پابند۔ پھر عدلیہ آزاد ہوئی اور دھیرے دھیرے میڈیا کو پابند کر دیا گیا۔ صحیح یا غلط میڈیا نے اپنی بساط کے مطابق عدلیہ کو حد سے زیادہ آزادی دلوانے میں کامیاب کردار ادا کیا اور نتیجہ ادارے سے زیادہ فقط افتخار چوہدری صاحب کی خود مختاری اور وکلا گردی پر منتج ہوا۔
Read moreدریدہ ماضی، پشیمان حال اور غیر یقینی مستقبل۔۔۔ ہم کہاں تھے، کہاں ہیں اور کہاں کھڑے ہوں گے؟ کبھی سوچا کہ ہم ماضی سے سبق سیکھنے کی بات کرتے ہیں اور پھر ماضی کو ہی فراموش کر دیتے ہیں، ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرانے کے وعدے کرتے ہیں اور دانستہ نادانستہ غلطی در غلطی کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہم اجالوں کو فریب دینے کی روش کب چھوڑیں گے؟ سورج کو چراغ دکھاتے ہوئے بھول کیوں جاتے ہیں کہ روشنی
Read moreہم نے ہوش سنبھالا تو دو ہی جماعتیں برسر پیکار تھیں۔ پیپلز پارٹی جو بائیں بازو یعنی ترقی پسند جماعت تصور ہوتی تھی اور مسلم لیگ جس کے کئی حصے بخرے اس وقت بھی موجود تھے، دائیں بازو کی کنزرویٹو جماعت تصور کی جاتی تھی۔ 1986 میں محترمہ بینظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو ظاہر ہے کہ ہم عمر کے اُس حصے میں تھے جب سیاست کا قطعی علم نہ تھا مگر والد اور خاندان کے دیگر افراد سے بھٹو
Read moreہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں وقت اور حالات ہمیشہ ایک سے رہے ہیں۔ ہم، ہم سے پہلے اور ہمارے بعد (خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو) وہی قصہ درد، وہی صبحِ غلامی، وہی شامِ غریباں، وہی درد آشوب نغمے، وہی دل لبھاتے نعرے، بلندوبانگ دعوے، خواب در خواب، تعبیر کی جھوٹی تسلیاں، روٹی کپڑا اور مکان، میرے گاؤں میں بجلی آئی ہے، وسطی ایشیا تک موٹر ویز کا جال بچھانے کا خواب، ووٹ کو عزت دو اور پھر
Read moreیہ سچ ہے کہ 1999 میں فرار ہو جانے کے طعنے آج بھی نواز شریف کا پیچھا کرتے ہیں۔
نہ تو اب 1999 ہے کہ ڈیل ہو، اور نہ ہی اس وقت ملک میں مارشل لا نافذ ہے۔
لنگڑی لولی ہی سہی، ایک عدد جمہوری حکومت موجود ہے۔ نہ ہی عدلیہ پی سی او کی پیداوار ہے، نہ ہی میڈیا پر بظاہر کوئی پابندی ہے۔ کم از کم اپوزیشن پر تنقید کرنے کی تو بالکل کوئی پابندی نہیں ہے، پھر نواز شریف باہر جاتے تو کیسے جاتے؟
Read moreبات بہت آگے نکل گئی ہے، وہاں جہاں سرا ہاتھ نہیں آ رہا۔ ڈر ہے کہ دہلیز سے لگا بیٹھا ہے، خوف ہے گھر کر رہا ہے، اندیشے، وسوسے اور خیال جان نہیں چھوڑتے۔۔۔ سچ کی ہمت نہیں اور جھوٹ کی عادت نہیں۔۔۔ سر پھرے مصلحت اور انقلابی مفاد کا بھیس بدل رہے ہیں۔۔۔ جناب والا۔۔۔ مائی باپ! آپ کی دستار سلامت، آپ کی عزت قائم اور آپ کا مرتبہ بلند رہے۔۔۔ جان کی امان ہو تو رعایا کچھ عرضیاں
Read moreسیاست کے سینے میں دل کہاں۔ ہوتا تو اسد عمر وزارت خزانہ سے کبھی نہ ہٹائے جاتے، آخری وقت تک اسد عمر کا دفاع کرنے والے وزیراعظم اپنے ہی اوپننگ بیٹسمین کو ہٹانے کا فیصلہ کسی طور نہ کرتے۔ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے عامر کیانی کبھی یوں بر طرف نہ ہوتے اور مشکل ترین حکومت کے مطمئن ترین ترجمان فواد چوہدری سائنس اور ٹیکنالوجی کے نیوٹن نہ بنا دیے جاتے۔ سیاست کے دماغ کی اصل ‘ڈاکٹرائن’ کافی
Read moreصدارتی نظام کے فوائد اور پاکستان میں نظام بدلنے کی ڈرائنگ روم بحث سنجیدہ رُخ اختیار کررہی ہے۔ایسا کبھی سوچا نہ تھا۔ ملک ناں ہوا کوئی تجربہ گاہ ہو گئی جہاں آئے روز نت نئے طریقوں سے آزمودہ ناکام نظام کے تجربات کیے جاتے ہیں۔ سیاست نا ہوئی کھیل کا میدان ہو گیا جس میں پرانے کھیل نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش لگاتار جاری ہے۔ نظام ناکام نہیں ہو رہا، نظام ناکام کرنے کی البتہ کوشش جاری ہے۔سنہ 2016 میں مصطفیٰ کمال صاحب پاکستان آئے اور الطاف حسین سے لاتعلقی کے علاوہ جو سب سے بڑھ کر انوکھی بات لگی وہ تھی صدارتی نظام کے حق میں بھر پور دلائل۔ اس سے کچھ دن پہلے یا بعد میں سابق چیف جسٹس نے بھی اپنی جماعت تشکیل دی اور محض اتفاق کہ انھوں نے بھی صدارتی نظام کو ہی مطمح نظر قرار دیا۔مجھ جیسے جمہوریت پسند اس وقت چونکے جب کوئی اور نہیں بلکہ ملک کے وزیراعظم نے 18ویں ترمیم کو وفاق کے دیوالیہ ہونے کی وجہ قرار دے دیا۔ وزیراعظم نے یہ بیان کہیں اور نہیں بلکہ سندھ کے دورے کے دوران داغا۔
Read more