مجھ کو سمیٹے کوئی!

مگر بچے تو تمہارے اپنے ہیں نا! ان سے دور رہ کر تم اپنے آپ کو سزا کیوں دے رہی ہو؟ آپ نے آنکھوں میں جمے ہوئے آنسو دیکھے ہیں کبھی، برف کے آنسو۔ عورت مرد سے تو نفرت کر سکتی ہے، اپنی اولاد سے نہیں، عورت محبت سے گوندھا ہوا وجود ہے، وہ مرد کیسا ہوگا جس کی نفرت میں عورت اپنے بچوں کو بھی دیکھنا گوارا نہ کرے، یہ کیسی نفرت ہوگی دل پہ کیا گزری ہوگی کہ

Read more

ذہنی بیماریاں اور ندامتیں

ہمارے ہاں دو بڑے مسئلے ہیں۔ غربت اور مذہب کی غلط تشریح۔ غربت تو اللہ جانے کب کم ہو گی مگر مذہب کی قیادت جن لوگوں نے لے رکھی ہے وہ دنیاوی معاملات میں ذہنی طور پر پسماندگی اختیار کیے ہوئے ہیں، انہیں کسی بھی مسئلے کی حساسیت کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا جب تک کہ پانی سر سے نہ گزر جائے۔ ان دو مسئلوں کی وجہ سے پورا معاشرہ دو انتہاؤں میں بٹا ہوا ہے، ذہنی پسماندگی بڑھتی چلی جا رہی ہے، ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ذہنی مرض کو بیماری کے بجائے دیگر دقیانوسی عوامل کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں جیسے گزشتہ زندگی میں ان کے گناہ وغیرہ۔

جب بھی کوئی مریض ہمارے پاس آتا ہے تو وہ پہلے ہی مذہبی علاج کی توقع کے ساتھ آتا ہے، کئی بار تو میں نے بھی سوچا کہ ایک جھاڑو ساتھ رکھ لوں اور لگے ہاتھوں جھاڑ پھونک بھی کر ہی ڈالوں۔ مریض اکثر اس وہم اور احساس گناہ کے ساتھ آتا ہے کہ ہو نہ ہو اس نے یا اس کے باپ دادا نے کچھ ایسے گناہ کیے ہیں جن کی پاداش میں یہ ذہنی مسئلہ بغلگیر ہو گیا ہے یا پھر جنات نے گھر دیکھ لیا ہے ویسے تو جتنا ہمارے ہاں جنات کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے شاید پورے کرہ ارض پر اور کہیں نہ ہو۔

Read more

کیا عورت واقعی بیچاری ہے؟

ڈاکٹر صاحبہ! آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ہمارے یہاں عورت چاہے بھی تو کچھ نہیں کر سکتی۔ ۔ ۔ ۔ آپ تو جانتی ہیں عورت کتنی مجبور اور بے بس ہے، بس اسی لیے میں کچھ نہیں کر پائی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وغیرہ، وغیرہ۔

یہ اور اس طرح کے جملے مجھے روز سننے کو ملتے ہیں جب میں اپنے معاشرے کی لڑکیوں اور خواتین سے ملتی ہوں۔ یقیناً جب آپ یہ کہتے اور سوچتے ہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ تو پھر آپ یقیناً کچھ نہیں کر سکتے۔

مجھے نفسیات کی فیلڈ میں تقریباً دس سال ہو گئے، ہر شعبہ زندگی کے لوگوں سے ملنا ہوتا ہے جن میں ہر طبقے کی خواتین بھی شامل ہوتی ہیں ان سے مل کر ان کے مسائل، حالات اور خیالات جاننے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ گو کہ باقی ممالک کی نسبت ابھی ہمارے ہاں خواتین ماہر نفسیات کے پاس کم جاتی ہیں حالانکہ ذہنی اور نفسیاتی مسائل کافی زیادہ ہیں۔

Read more