کچھ تلخ نظموں کی معیت میں۔ ۔ ۔

بہار کی ایک سہ پہر فیض آباد کے ایک ہوٹل میں ذیشان حیدر اور میں بیٹھے تھے۔ مجھے ذیشان نے کسی سلمان حیدر کی ایک نظم سنائی جس کا عنوان آخری رجز تھا۔ اس نظم نے اپنے لکھنے والے کا تعارف مجھ تک پہنچا دیا کہ لکھنے والا خود کو مرنے والوں کے قبیلے سے جوڑتا ہے نہ کہ تلواریں لیے رتھوں پہ قبائیں عبائیں پہنے قبضہ گیروں کے ساتھ۔ شعر میں یوں تو کئی ایک خود کو اسی قبیلے

Read more