میرے ضعیف والدین پر غداری کا مقدمہ
برطانیہ راج نے 1901 میں کالونائزیشن کے خلاف پشتونوں کی مزاحمت کو دبانے کے لئے ایف سی آر جیسے کالے قانون کو پشتونوں کے علاقوں میں نافذ کیا تھا، اس قانون کے تحت خاندان کے ایک فرد کے جرم مزاحمت کی سزا سارے قبیلے یا خاندان کو دی جاتی تھی، اپیل اور انصاف کے اصولوں کا کوئی تصور نہیں تھا، انگریز راج کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو غداری کی سزا دی جاتی تھی۔ آج جب میں اپنی ماں اور اپنے باپ کے ساتھ پاکستانی اداروں کے سلوک کو دیکھتی ہوں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ پشتون آج بھی غیر رسمی طور پر ایف سی آر کے نیچے ہی زندگی گزار رہے ہیں، جہاں امن، انصاف اور انسانی حق کی آواز بلند کرنے والوں پر غداری کے مقدمے بنائے جاتے ہیں، اور ایک فرد کے ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کی سزا سارے خاندان کو دی جاتی ہے۔
Read more
