شکست سے کیا سیکھا؟

صبح 7 بجے آل انڈیا ریڈیو اردو سروس نے 16 دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکہ کا اعلان کیا۔ مغربی پاکستان میں مٹھی بھر افراد کے علاوہ زیادہ تر نے ہندوستانی ”پروپیگنڈا“ سمجھ کر اس پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔ ریڈیو پاکستان اب بھی قومی ترانے چلا کر قوم سہانے خواب دکھلا رہا تھا۔ خون کے آخری قطرے تک مغربی محاذ پر لڑنے کے اعلانات کے ساتھ مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے جا رہے تھے۔

قوم کے لئے ایک واضح شکست تھی مگر فوجی اور سول بیوروکریسی خیال تھا کہ اس نے ملک کے مغربی حصے کو بنگالیوں کے قبضے سے بچا لیا تھا۔ یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی تھی۔

Read more

فیٹف: ماضی کے فریب سے باہر نکلا جائے

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات یوں تو 1947 سے ہی مد و جزر کا شکار رہے ہیں لیکن 1978 میں افغانستان میں بائیں بازو کے انقلاب کے بعد افغانستان میں مداخلت کے فیصلے نے پاکستان کے داخلی سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

افغانستان میں بائیں بازو کی غیر مقبول بغاوت نے افغانستان میں دیرینہ معاشرتی اور ثقافتی اقدار کو چیلنج کیا تھا۔ افغانستان میں بائیں بازو کے نظریات کو سیاسی یا معاشرتی بنیاد پر کبھی قبولیت حاصل نہیں تھی۔

افغان فوج کے ذریعے برپا کی گئی بغاوت کو صرف دو چھوٹے شہری گروپوں کی حمایت حاصل تھی۔ لیکن عوامی سطح پر بائیں بازو کو وہ غیر معمولی حمایت حاصل نہیں ہو سکی جو کسی کامیاب انقلاب کے لیے درکار ہوتی ہے۔

Read more

کشمیر : موقف میں لچک اور غیر روایتی حل کے ضرورت

کشمیر، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک انتہائی سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ پون صدی ہونے کے قریب ہے لیکن اس تنازعہ کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ اس حوالے سے پاکستان کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہے۔

کانگریس نے آزادی سے پہلے ہی شیخ عبداللہ کے ساتھ ایک موثر تعلق قائم کر لیا تھا۔ چونکہ مسلم لیگ 1937 تک ایک فعال سیاسی جماعت نہیں تھی اس لئے مسلم لیگ کا کشمیر میں بھی کچھ زیادہ سیاسی اثر و رسوخ نہیں تھا۔

شیخ عبد اللہ نظریاتی طور پر کانگریس کے قریب تھے اور انہوں نے کبھی پاکستان کے قیام کی حمایت نہیں کی تھی۔ 1947 میں تقسیم کے وقت بھی وہ انڈیا کے ساتھ ہی رہنے کے حامی تھے اور دل چسپ امر یہ ہے کہ خود مسلم لیگ نے بھی اس وقت تک کبھی کشمیر کو پاکستان سے ملانے کی بات نہیں کی تھی۔ کسی بھی سیاسی اثر کے نہ ہونے کے باعث آزادی کے فوراً بعد پاکستان کے پاس کشمیر سے تعلق رکھنے کا کوئی سیاسی راستہ نہیں تھا۔ تا ہم بہت سے پاکستانی کشمیر کو پاکستان میں شامل دیکھنا چاہتے تھے۔

Read more

مصنوعی نہیں حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہے

پچھلی صدی میں دو بڑے انقلاب لائے گئے تھے۔ روس میں دعوا کیا گیا تھا کہ لوگوں کی زندگیوں میں انقلابی اور بنیادی تبدیلی لائی جائے گی۔ کم و بیش یہی وعدے چین میں بھی کے گئے تھے۔ مگر ستر سال گزرنے اور لاکھوں لوگوں کے جان سے چلے جانے کے باوجود حالات دوبارہ وہیں پہنچ گئے جہاں سے شروع ہوئے تھے لوگوں نے انقلاب کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

پاکستان میں بھی دو سال قبل تبدیلی کے نعروں نے نئی بلندیوں کو چھو لیا تھا۔ ایک نیم سیاسی جماعت کی طرف سے انقلاب کے نعروں کو سونامی کا نام بھی دے دیا گیا تھا۔ انقلاب کی بات اتنی زور پکڑ گئی تھی کہ بہت سارے لوگ انقلابی بینڈ ویگن میں شامل ہو گئے۔ لیکن حکومت میں آنے کے بعد آج ان سب کو بد ترین ناکامی کا منھ دیکھنا پڑ رہا ہے۔

Read more

دو قدم پیچھے ہٹنے کا وقت ہے

کمزور سیاسی اور جمہوری نظام میں عوامی مزاج کو سمجھنے میں غلطی کی کافی گنجائش ہوتی ہے۔ معلومات کے پھیلاؤ کا ناقص عمل، عوامی مزاج کا درست اندازہ نہ لگانے سے فیصلہ سازی کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ جس سے ایک کے بعد دوسرا بحران جنم لیتا چلا جاتا ہے۔ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات میں ٹکراؤ اور مستقل بحرانوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔

اس وقت خطے میں جو نئے حقائق ابھر رہے ہیں، وہ طاقت کے حقیقی مرکز کے عزائم سے متصادم نظر رہے ہیں سعودی عرب کے حوالے سے جو بحران پیدا ہوا ہے اس سے منطقی طور پر مزید بحران ابھریں گے۔ موجودہ بحران شاید پیدا نہ ہوتا اگر 2018 میں غیر حقیقی تبدیلی مسلط نہ کی گئی ہوتی۔

Read more

سلامتی اور معاشی پالیسیوں میں ہم آہنگی کی ضرورت

پاکستان اپنے خطے کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو اپنے قیام کے بعد سے اب تک اپنے مشرق اور مغرب کے پڑوسی ملکوں کے ساتھ اختلافات حل نہیں کر سکا ہے۔ باہمی تنازعات کا کوئی حل نہ نکل سکنے کے باعث پاکستان معاشی جمود کا شکار ہے جس کی وجہ سے سیاسی طور پر بھی وہ عدم استحکام سے مستقل دو چار رہتا ہے۔

پاک بھارت تعلقات میں تناؤ اور کشیدگی، طاقت ور غیرجمہوری عناصر کے لئے ضروری ہے۔

تین دہائی پہلے بھارت کی سیاسی اور کارپوریٹ قیادت نے فیصلہ کیا تھا کہ ہندوستان کی اہم ترجیح پائیدار معاشی ترقی ہے لہذا بڑے معاشی اہداف کے حصول کے لئے پاکستان سے کسی بڑی جنگ کو ہر قیمت پر روکنا اس کے مفاد میں ہو گا۔ پاکستان اسی طرح کے اسٹریٹیجک فیصلے کبھی نہ کر سکا۔ پاکستان میں قومی سلامتی اشرافیہ کسی ایسی پالیسی کی تشکیل یا تائید کرنے سے گریزاں ہے جو ملک کی معاشی ترقی اور سلامتی کی ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔

Read more