شوکت صدیقی کے ناول ”خدا کی بستی“ میں سماجی مسائل (حصہ دوم)

مصنف پہلے کی طرح ایک اور اہم پہلو کو زیر بحث لاتے ہیں، سلمان جو بڑا جوشیلا طالب علم ہے وہ انسانیت کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے اس مقصد کے لیے ایک تنظیم میں شامل ہوتا ہے جس کا نام ”فلک پیما“ ہے، وہ فلاحی تنظیم تھی، اس تنظیم نے ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا، اس کے فنڈز کا بڑا مسئلہ تھا لیکن جیسے تیسے کر کے پورا کر لیا جاتا ہے، جب ہسپتال کی

Read more

شوکت صدیقی کے ناول "خدا کی بستی” میں سماجی مسائل

سرمایہ داریت، فرد کو جہاں احساس برتری میں مبتلا کر دیتی ہے وہیں وہ دوسروں پر اس قدر حاوی ہونے کی کوشش بھی کرتی ہے کہ وہ ان کے جذبات، خواہشات اور صلاحیتوں کو چھین کر انہیں اپنا غلام بنا لے اور پھر اپنی مرضی ان پر مسلط کر دے۔ میرے خیال میں اس سے سماج میں تین طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ پہلی قسم جس میں لوگ ہمیشہ کے لیے اپنی سوچنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیتیں

Read more