آزاد پاکستان اور آزاد ہندوستان کے درمیان ڈوبتا گلگت بلتستان

ایک سادہ سا مطالبہ۔ آئینی حقوق چاہیے۔ یعنی کس آئین میں حقوق چاہیے؟ سب کہتے ہیں کہ آئین پاکستان۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے کے بعد یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے۔ کہ مملکت پاکستان کے آئین میں ایسی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ وہ گلگت بلتستان کو آئین پاکستان میں شامل کرکے اس سے پاکستان کا حصہ بنائے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم پاکستان کے آئین میں شامل نہیں اور نہ شامل ہو سکتے ہیں۔

Read more

چیف جسٹس صاحب ایک نظر ادھر بھی

چیف جسٹس صاحب۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ آپ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے قابل اور فرض شناس جج ہیں۔ انصاف کرنے والا چاہے نچلی عدالت کا ہو یا اعلی عدالت کا اس کا کام انصاف کی ہی فراہمی ہے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں۔ کہ آپ نے اپنی پوری ہمت، طاقت اور فہم سے وہ فیصلے کیے ہیں جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ سرزمین بے آئین کے اس بندہ

Read more

حق ملکیت و حق حاکمیت اور گلگت بلتستان کا قومی سوال۔

گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں 1842 کے بعد غیر مقامی طاقتوں نے اپنا قبضہ جمائے رکھا ہے۔ اور صدیوں سے یہاں رائج کسٹمری لاز کی پامالی کی اور لوگوں کی ملکیتی اراضی پرکبھی مقامی راجاوں کے ذریعے قبضے ہوئے تو کبھی سرکاری مشینری کے ذریعے۔ خواہ وہ ڈوگرہ سرکار ہی کیوں نہ ہو۔ 2009 میں پیپلز پارٹی کی دور حکومت کے پہلے آرڈر کے بعد جب دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے اراضی کی ضرورت ہوئی تو سرکار نے عوام کی اراضی میں عوام کی ملکیت کو تسلیم کرتے ہوئے مارکیٹ ریٹ کے مطابق مقامی لوگوں سے زمین خریدی۔ اسی طرح دیامیر بھاشا ڈیم کی مد میں وہاں کے لوگوں کو اربوں روپے ادا کیے گئے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہاں کی زمینوں کے مالک وہاں کے مقامی لوگ تھے۔

گزشتہ کچھ وقت سے گلگت بلتستان میں مختلف اراضیوں کو خالصہ سرکار قرار دیا جا رہا ہے۔ جس کے خلاف گلگت بلتستان کے لوگوں نے کئی دفعہ احتجاج بھی کیا ہے۔ خالصہ سرکار کی مد میں آنے والی ہزاروں کنال پر مشتمل اراضیات میں چھلمش داس، ساکوار داس، ملور داس، مقپون داس شامل ہیں۔ عوام اور سرکار کے درمیان تا حال اس مسئلے کا کوئی حل سامنے نہیں آیا ہے۔ گلگت بلتستان کی عدالتوں میں بھی ان اراضیات کے حوالے سے کئی کیسز زیر سماعت ہیں۔

Read more

کھیل کود نعمت سے کم نہیں

جب ہم بچپن اور جوانی کے دنوں تک کھیل کود میں حصہ لیا کرتے تھے تو اس بات کا پتہ ہی نہیں تھا کہ کھیل کود سے ہماری صحت پہ کتنا مثبت اثر پڑتا ہے۔ گرمیوں میں بہتے دریا میں تیراکی کرنا روز کا مشغلہ تھا۔ مشکل حالات کے باوجود موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی خالی کھیتوں کو میدان بنا کر والی بال کھیلنا تو جیسے جنون تھا۔ جب گھر والے ہمیں میدان میں دیکھتے تو دوڑیں لگ

Read more

محبت کا آخری خط

خزاں کا موسم تھا۔ درخت کے پتوں پر سبز رنگ کی جگہ اب ہر قسم کے رنگوں نے جگہ لی تھی۔ برآمدے میں کرسی پہ ٹیک لگائے احمد پرانی یادوں کے اوراق کو ٹٹول رہا تھا۔ آج کئی برسوں بعد اس سے پرانی یادوں کا ایک انبار ملا تھا۔ جو وہ ایک ایک کرکے حسرت سے پڑھ رہا تھا۔ ایک ڈائری اور اس کے اندر سوکھے ہوئے گلاب کے پھول، کچھ پرچیاں اور کاغز کے دو تین اوراق جس میں

Read more

گلگت بلتستان کی ڈوبتی سانسوں کو سہارا دو

یہ مت دیکھو کہ ترقی کتنی ہوگی۔ یہ دیکھو کہ تمھاری عزت کتنی محفوظ رہے گی۔ کہتے ہیں کہ سی پیک سے ترقی کا ایک نیا باب شروع ہوگا۔ جو لوگ سوچ رہے ہیں ’چین کی ترقی‘ تو وہ بالکل ٹھیک سوچ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو یہ سوچ رہے ہیں کہ ’پاکستان کی ترقی‘ تو یقین جانیے، وہ بھی ٹھیک سوچ رہے ہیں۔ لیکن اس راہ داری کے درمیان ایک خطہ ایسا بھی ہے جو اپنا بیس فی صد

Read more

Whistle Blow سرکاری آفیسروں کا پُل صراط

محترم و مکرمی جناب عمران احمد خان نیازی صاحب وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان آپ کا پہلا خطاب جو قوم کے ان لوگوں کے لئے تھا جو انتہائی پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن کی تعلیم و ترقی کے لئے کبھی کسی نے کوئی کام نہیں کیا۔ لیکن آپ کے خطاب نے ان کے دلوں کے اندر یہ اُمید بھر دی ہے کہ کبھی وہ وقت بھی آئے گا کہ یہاں کا غریب بھی سمجھے گا کہ یہ اسی کا

Read more