گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں 1842 کے بعد غیر مقامی طاقتوں نے اپنا قبضہ جمائے رکھا ہے۔ اور صدیوں سے یہاں رائج کسٹمری لاز کی پامالی کی اور لوگوں کی ملکیتی اراضی پرکبھی مقامی راجاوں کے ذریعے قبضے ہوئے تو کبھی سرکاری مشینری کے ذریعے۔ خواہ وہ ڈوگرہ سرکار ہی کیوں نہ ہو۔ 2009 میں پیپلز پارٹی کی دور حکومت کے پہلے آرڈر کے بعد جب دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے اراضی کی ضرورت ہوئی تو سرکار نے عوام کی اراضی میں عوام کی ملکیت کو تسلیم کرتے ہوئے مارکیٹ ریٹ کے مطابق مقامی لوگوں سے زمین خریدی۔ اسی طرح دیامیر بھاشا ڈیم کی مد میں وہاں کے لوگوں کو اربوں روپے ادا کیے گئے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہاں کی زمینوں کے مالک وہاں کے مقامی لوگ تھے۔
گزشتہ کچھ وقت سے گلگت بلتستان میں مختلف اراضیوں کو خالصہ سرکار قرار دیا جا رہا ہے۔ جس کے خلاف گلگت بلتستان کے لوگوں نے کئی دفعہ احتجاج بھی کیا ہے۔ خالصہ سرکار کی مد میں آنے والی ہزاروں کنال پر مشتمل اراضیات میں چھلمش داس، ساکوار داس، ملور داس، مقپون داس شامل ہیں۔ عوام اور سرکار کے درمیان تا حال اس مسئلے کا کوئی حل سامنے نہیں آیا ہے۔ گلگت بلتستان کی عدالتوں میں بھی ان اراضیات کے حوالے سے کئی کیسز زیر سماعت ہیں۔
Read more