نواز شریف اسپتال کیوں نہیں جاتے؟

نواز شریف اپنی سیاسی زندگی کے کٹھن ترین حالات سے گزررہے ہیں۔ کسی نے گوالمنڈی کے اس نوجوان کے بارے میں کہا تھا کہ یہ اپنی قسمت خود لکھ کر پیدا ہوا ہے۔ ظاہر ہے دو ٍمرتبہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بننا اور پھر تین مرتبہ عوامی ووٹ کی طاقت…

Read more

جنگ نہیں امن

پاکستان ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے بڑی قربانیاں دے کر اس خطہ پاک کو حاصل کیا ہے۔ آج بھی دادا جان قیام پاکستان کی ہولناک داستانیں سناتے ہیں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ انسانی تاریخ کی شاید سب سے بڑی خونی ہجرت تھی۔ دادا جان کو آج بھی تقسیم برصغیر کے واقعات ازبر ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ ہمارے خاندان سمیت ایسے لاکھوں خاندان اس وطن عزیز میں بستے ہیں، جن کے پیاروں کی گردنیں راستے میں ہی کاٹ دی گئی تھیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی تشویشناک ہے مگر پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو واپس کر کے امن کی کوشش کو ایک اور موقع دیا ہے۔ اگر آج وزیراعظم پاکستان عمران خان کے اس اقدام کو نہ سراہا گیا تو بہت زیادتی ہو گی کیونکہ جو بھی وزیراعظم خطے میں دائمی امن کے لئے اقدامات کرے، ہمیں اس کو پوری طرح سپورٹ کرنا چاہیے۔ ماضی کے چند تلخ حقائق بھی البتہ گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے جب بھارتی وزیراعظم کو لاہور آمد کی دعوت دی تو انہیں غدار قرار دیا گیا حالانکہ انہوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے خوش گوار تعلقات استوار ہوں تاکہ پاکستان کی پھلتی پھولتی معیشت جنوبی ایشاء کی مضبوط ترین معیشت بن جائے۔

Read more

شہباز کرے پرواز

یہ تاثر عام تھا کہ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے منظورِ نظر ہیں، ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ وزارت عظمیٰ کی خاطر بڑے بھائی کی پیٹھ میں بھی چھرا گھونپ سکتے ہیں، وقت آنے پر اگر مسلم لیگ (ن) کو ٹیک اوور کرنا پڑا تو بغیر کسی تاخیر کے کر گزریں گے، عمومی تاثر تھا کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کمزور اعصاب کے مالک ہیں، کسی بھی آزمائش کا خندہ پیشانی سے مقابلہ نہیں کرسکتے، اس لئے آزمائشی حالات سے بچنے کے لئے اداروں سے بنا کر رکھتے ہیں۔

Read more

سیاستدانوں کی بے توقیری کیوں؟

اگر اسے شاعرانہ تعلی نہ سمجھا جائے تو حقیت یہ ہے کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اور ماں سے کبھی کوئی خوفزدہ نہیں ہوتا۔ جس گھر میں ماں خوف کی علامت بن جائے، وہ گھر اجڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح ریاست میں چیف ایگزیکٹو اور ریاستی اداروں کے سربراہان کو ماں کی حیثیت…

Read more

نوازشریف کی ہار اور مسلم لیگ ن

سابق وزیراعظم نوازشریف گرمجوشی سے جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا کا استقبال کررہے تھے، جبکہ چیئرمین نیب چوہدری قمر الزمان ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ پی اے ایس آفیسر چوہدری قمر الزمان کے ڈرائیونگ روم میں لگی یہ تصویر تقریباً بیس سال پرانی معلوم ہورہی تھی۔ یہ شاید اس وقت کی تصویر تھی جب…

Read more

پنجاب کیوں مایوس ہے؟

امین صاحب اب بہت بوڑھے ہوچکے ہیں۔ ہمارے دادا جان کے ساتھ ہی امین صاحب ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آگئے تھے۔ دوران ہجرت امین صاحب کے والدین وعزیز و اقارب جس ٹرین میں سوار تھے، بدقسمتی سے امرتسر کے قریب وہ پوری بوگی ہی کٹ گئی تھی۔ پاکستان آکر امین صاحب بھی دادا جان کے ہمراہ ڈیرہ غازی خان آگئے اور یوں دادا جان نے اپنی تمام زمینوں کی نگرانی امین صاحب کو سونپ دی۔ حال ہی میں اپنے اور وزیراعلیٰ پنجاب کے آبائی شہر ڈیرہ غازی خان جانے کا اتفاق ہوا تو ایک دن زمینوں پر امین صاحب کے ساتھ بھی وقت گزارنے کا موقع ملا۔

کسی دور میں امین صاحب کے پاس پرانا اینا لاگ ریڈیو ہوا کرتا تھا، مگر بینائی کی کمزوری کی وجہ سے اب وہ اس سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ کہنے لگے کہ کوئی شہباز شریف کو سمجھاتا ہی نہیں ہے، اچانک ہر چیز خراب ہوگئی ہے، شہر سے خبر پہنچی ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں ایک ہفتے کے دوران پانچ قتل ہوئے ہیں۔ دیہات میں مغرب کے بعد کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔ تین چار ماہ ہوئے ہیں، پنجاب پر سے شہباز شریف کی توجہ ختم ہوگئی ہے۔ بزرگ امین صاحب کی بات مکمل ہوئی تو خاکسار نے انتہائی آرام سے کہا کہ جی اب شہباز شریف پنجاب کا وزیراعلیٰ نہیں رہا۔ میری بات سن کر امین صاحب مایوس چہرے کے ساتھ اٹھے اور اپنی چارپائی پر جاکر لیٹ گئے۔

Read more

ترک قیادت وزیراعظم عمران خان کی سادگی پر حیران

اسلا م آباد (حذیفہ رحمان) وزیراعظم عمران خان کو ترکی میں غیر معمولی پروٹوکول دیا گیا، ترک قیادت پاکستانی وزیراعظم کی سادگی دیکھ کر حیران رہ گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے تمام میٹنگز میں سادہ شلوار قمیض پہننے کو ترجیح دی۔

Read more

نواز شریف کا مستقبل

90 کی دہائی میں نوازشریف ملک کے وزیراعظم تھے۔ آج کا ایف بی آر اس وقت سی بی آر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ سینٹرل بورڈ آف ریونیو کا دفتراسلام آباد میں فیض آباد کے نزدیک زیرو پوائنٹ پر ہوا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ سی بی آر کے سربراہ نے نوازشریف کو بطور وزیراعظم کسی تقریب میں مدعو کیا۔ نوازشریف زیرو پوائنٹ، اسلام آباد میں سی بی آر کے دفتر پہنچے تو انہوں نے اپنی تقریر کے دوران چیئرمین سی بی آر سے کہا کہ جس ملک کا سی بی آر ہی زیر وپوائنٹ پر ہو، اس ملک نے کیا ترقی کرنی ہے۔

تقریب کے بعد چیئرمین سی بی آر نے نوازشریف سے درخواست کی کہ جس جس ادارے کا ذکر آئین پاکستان میں موجود ہے۔ اس کا دفتر شاہراہ دستور پر ہے۔ سی بی آر (موجودہ ایف بی آر) کا ذکر بھی آئین پاکستان میں موجود ہے۔ مگر ہمارے دفتر کے لئے شاہراہ دستور پر کوئی جگہ نہیں ہے، براہ کرم چیئرمین سی ڈی اے کو ہدایت دیں کہ سی بی آر کے لئے شاہراہ دستور پر پلاٹ الاٹ کرے۔ یوں سی بی آر (موجودہ ایف بی آر) کا دفتر شاہراہ دستور پر منتقل ہوا۔

Read more

بے احتیاطیاں

تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سرکاری افسران پرامید تھے کہ سیاسی مداخلت ختم ہوجائے گی،عہدے میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر دئیے جائیں گے۔مگر معاملہ اس کے الٹ چل رہا ہے۔خلاف میرٹ لگنے والے افسران نے من مانی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔کچھ سرکاری بابو کمزور سیاسی حکومت کا بھرپور فائدہ اٹھارہے…

Read more

سول افسران اور عمران خان

اگر اسے شاعرانہ تعلی نہ سمجھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ حوا کی ایک کمزور بیٹی انیتا تراب نے عدالت عظمیٰ کے سامنے سرکاری افسران کی حالت زار اور بے توقیری کا مقدمہ پیش کیا۔ ایسے سول افسران جو حکمرانوں کی ذاتی پسند ناپسند کا شکار ہوتے ہیں اوراپنے فرائض حقیقی طور…

Read more
––>