مائنس عمران ہوا تو مسلم لیگ نون بھی پلس نہیں ہو گی

ترکی کے ادیب اورحان پاموک سے کسی نے پوچھا کہ آپ کیوں لکھتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میرے اندر ایک دھن سی پیدا ہوتی ہے جو مجھ سے لکھواتی ہے یا جیسے غالبؔ نے ”آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں“ کہا ہے۔ کارل مارکس نے کہا تھا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے، پہلے سانحے اور پھر تماشے کی صورت میں۔ آج پاکستان میں تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، بس منظرنامہ بدل چکا ہے

Read more

مریم نواز اور مسلم لیگ (ن)۔

مریم نواز شریف اپنے والد کے بعد مسلم لیگ نون کی دوسری مقبول ترین لیڈر کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ ان کے سخت گیر بیانیے کی وجہ سے مسلم لیگ نون آج اقتدار میں ہے۔ جہاں ان کے مزاحمتی بیانیے کو عوام میں غیرمعمولی پذیرائی ملی، وہیں بعض لوگ ان کے خاندان سے روٹھے بھی رہے۔ مریم نواز جب بڑے بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا کرتی تھیں اور بغیر کسی خوف کے کھل

Read more

کچھ ایسے بھی اٹھ جائیں گے اس بزم سے جن کو

چار سال کی انتھک کوششوں اور محنت کے بعد گرے لسٹ سے نکلنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں آنے کا باضابطہ اعلان تو نہیں ہوسکا مگر اشارے یہی بتا رہے ہیں کہ اب آپ خود کو وائٹ لسٹ میں تصور کر سکتے ہیں۔ مجھ سمیت ہر محب وطن پاکستانی نے گرے لسٹ میں ہونے کی بہرحال قیمت ادا کی ہے۔ وطن عزیز کو بڑے معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ عالمی دنیا ہم

Read more

اسٹیبلشمنٹ کی چوائس کون، شہباز شریف یا عمران خان؟

یہ حقیقت ہے کہ شہباز شریف اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی کے خلاف ہیں، جانتے ہیں کہ پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک میں اداروں کا کردار ختم کرنا ممکن نہیں بلکہ سیاستدان اپنی کارکردگی سے اس کردار کو محدود کر سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ بات ہضم کرنا بہت مشکل ہے کہ جس شہباز شریف پر وہ تکیہ کرنے کا سوچتے ہیں وہ نواز شریف کا بھائی ہے، لیکن جب کارکردگی اور صلاحیتوں کا موازنہ کرتے ہیں تو شہباز شریف کی کارکردگی کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے۔

اسٹیبلیشمنٹ کے مسیحا بھی یہ بات دل سے تسلیم کرتے ہیں کہ اگر کبھی مسلم لیگ نون سے بات چیت ہوئی تو اسی دروازے سے ہوگی۔ مارگلہ کی اوٹ میں بنے ہوئے کچھ گھروں میں شام کو یہی باتیں ہوتی ہیں کہ ”نواز شریف اپنے مخالف کو کبھی نہیں بھولتا“

Read more