بھارت میں اس شخص کو مسلمانوں کا کتنا ہمدرد اور غمگسار تصور کیا جائے گا کہ جو نئی دہلی، گجرات، یوپی یا کرناٹک کے کسی علاقے میں پرہجو م پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کرے کہ ہمارے مذہب میں چونکہ گائے حلال ہے، اس کی قربانی ہمارے مذہبی عقائد کا حصہ اور باعث ثواب ہے، لہذا ہمیں برسرعام گائے ذبح کرنے کی نہ صرف اجازت دی جائے بلکہ اس کے خلاف آنے والے عوامی ردعمل کو روکنے اور تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں اقلیت مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ جہاں ٹرین میں معمولی سے تو تکرار پہ درجنوں افراد ملکر پانچ نوجوانوں کو شدید تشدد کے بعدیہ بہانہ تراش کے موت کے گھاٹ اتاردیں کہ ان کا جرم گائے کی شان میں گستاخی تھا۔ جہاں لڑکی کے انکار پہ متعدد اوباش غریب کے گھر میں گھس کر پوری فیملی کو یہ کہہ کر کاٹ دیں کہ یہ بڑے کا گوشت پکا رہے تھے، یا جس معاشرے میں پجاری اپنی ہوس پوری نہ کرنے والی اقلیتی خاتون کو بھگوان کی بیحرمتی کا مرتکب قرار دے کر زندہ جلانے کی سزا سنائے۔
جہاں اکثریتی آبادی کا بحیثت مجموعی یہ مزاج بنا دیا جائے کہ وہ اپنے ہر بے ضرر ذاتی مخالف کو مذہب کے لئے ضرررساں قرار دینے پہ آماد ہ ہو اور من مطلب کی سزا سنانے کی آرزمند، اس معاشرے میں اقلیتی نمائندگی کا لبادہ اوڑھ کر کوئی شخص عوام کے بیچوں بیچ میڈیا کے سامنے گلا پھاڑ کے ایسا مطالبہ کرے، ایسی خواہش کا اظہار کرے کہ جس سے پورے معاشرے کی دل آزاری کا احتمال ہویا مذہبی، مسلکی مقدسات کی بیحرمتی کارنگ غالب ہوتویقینی طورپر اس کا یہ مطالبہ، یہ خواہش اپنی قوم اور انتظامیہ کو ایک نئے امتحان میں جھونکنے کی کوشش ہی قرار پائے گی۔
Read more