یہ خط آپ سب کے نام

جی ہاں۔ آپ کو بالکل بھی کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔ میں آپ سب سے مخاطب ہوں جو ان لفظوں کے اس پار کھڑے ہیں۔ اور اس پار ہوں۔ میں۔ اور یہ لفظ جو ہمارے بیچ ہیں۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے مجھے ایک عمر جکڑے رکھا یا شاید میں نے انہیں۔ کہ ان کی توقیر کرنے والا کوئی دستیاب نہیں تھا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کون ہوں؟ آپ مجھے نہیں جانتے۔ اب آپ سوچیں گے کہ

Read more

قرنطینہ زدہ زندگی کے شب و روز

”مجھے سال میں دو مرتبہ چھ چھ ماہ کی چھٹیاں درکار ہیں“
یہ ”لطیفہ“ بھلے وقتوں میں موبائل کی سکرین پہ جگمگایا تو بے ساختہ ایک آہ نکلی۔

”یہ نہ تھی ہماری قسمت۔“ اور اس معصومانہ خواہش سے ایک لطیفے کے مانند وقتی حظ اٹھا کر قدم بڑھا دیے کہ۔ ۔ ۔
”تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے“ ۔

لیکن رواجوں سے منحرف دل، چپکے سے، دماغ کے کڑے پہرے توڑتا۔ اس پر ایک حسرت بھری آمین نچھاور کیے بنا رہ نہ سکا۔ اور پھر وہ ہوا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا۔ نہ کسی سماعت نے سنا۔ اور جو ہوا اس کو دیکھ کر دماغ نے دیکھ کر ان دیکھی کی گئی آمین کا صلہ ایک خونخوار گھوری کی صورت میں دیا۔

Read more