کیا والدین ایسے سلوک کے مستحق ہیں؟

ابھی حال ہی میں میری ایک عزیز دوست سے ملاقات ہوئی۔ جو کہ کافی پریشان دکھائی دے رہی تھیں، بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس قدر پریشان میں نے انھیں آج تک نہیں دیکھا تھا۔ پوچھنے پر بتانے لگیں کہ ان کا اکلوتا بھائی اپنی بوڑھی ماں کو گھر میں رکھنے پر راضی نہیں ہے صرف اس وجہ سے کہ اس کی ماں اس کی شادی شدہ زندگی میں بے آرامی کا باعث بن رہی ہیں۔ اب وہ چاہتا ہے کہ میں بیٹی ہونے کی حیثیت سے امی کو اپنے ساتھ اپنے سسرال لے جاؤں لیکن میرے سسرال والے اس بات پر راضی نہیں۔ اس پر بھائی صاحب کا کہنا یہ ہے کہ امی کو پھر کسی اولڈ ایج ہوم بھیج دیتے ہیں تاکہ ان کی زندگی بھی آرام سے گزرے اور ہماری زندگیوں میں بھی کچھ سکون ہو۔

Read more

میں غریب ہوں، میرا کوئی بچپن نہیں

ابھی حال ہی میں ایک خبر سنی کہ ایک گاؤں میں ایک سات سالہ بچی جس کا نام ستارہ بتایا جا رہا تھا معاشی حالات کی تنگی کی وجہ سے کسی وڈیرے کی حویلی میں کام کرتی تھی۔ حویلی کے لوگ اس معصوم کو لاوارث سمجھ کر اس پر مختلف مظالم ڈھاتے۔ ایک روز بچی کے ہاتھ سے گرم چائے غلطی سے وڈیرے کی بیوی کے ہاتھ پر گرنے کی وجہ سے دونوں درندہ صفت میاں بیوی نے اس معصوم کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ اس پر اُبلتا ہوا پانی پھینک کر اس کی روح تک کو جھلسا دیا۔

Read more

دلی اطمینان اور پسند کا پیشہ

ماں باپ اپنے بچوں کے لئے بہت سی قربانیاں دیتے ہیں۔ وہ اپنی اولاد کو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو ہمیشہ اس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں، جہاں کوئی اور نہ پہنچ سکے۔ کیونکہ ان کے لئے ان کی اولاد سے بڑھ کر اور کوئی شے نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی اولاد کو ایک اونچے مقام پر دیکھنے کے لئے والدین اپنی اولاد کے بارے میں، ان کے پیشوں کے بارے میں، آنکھوں میں مختلف خواب سجاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے مڈل کلاس طبقے میں یہ بات نہایت ہی عام ہو چکی ہے کہ بچے کو بڑے ہو کر کچھ مخصوص پیشے ہی اپنانے پڑتے ہیں۔ لڑکیوں کا ڈاکٹر اور لڑکوں کا انجینئر ہونا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ جیسا کہ اگر اولاد ڈاکٹر، انجینئر اور پائلٹ جیسے شعبے نہیں اپنائے گی تو ان کو پڑھانا بے کار ہے۔ اور یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ صرف یہی پیشے اپنا کر نہایت اچھی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔

Read more

رمضان اور مخلوقِ خدا کا احساس

حال ہی میں ایک عزیز سے ملاقات ہوئی۔ موصوف کافی جلدی میں تھے۔ پوچھنے پر جواب دیا کہ ان کے گھر میں دعوتِ افطار ہے اور دعوت میں موصوف نے اپنے باس اور ان کی بیوی کو مدعو کیا ہوا تھا۔ جناب جو کہ خاصی جلدی میں تھے، یہ فرما کر رخصت ہونے لگے کہ ایک بڑے ہوٹل سے باس کے لئے افطاری لینے جا رہا ہوں، وقت پر نہ پہنچا تو کہیں ختم نہ ہو جائے۔

Read more