حادثے سے بڑا سانحہ

کہاں ہیں وہ اسلام پسند وزرا جو گزشتہ دور حکومت میں تقریر جھاڑا کرتے تھے کہ جرم یا مقتول کا مجرم نا ملے اس کا مجرم حاکم وقت ہوتا ہے۔ اب اگر مجرم نہ ملے تو حاکم وقت کو سزا ملنی چاہیے۔

مجھے حیرت ہے کہ پڑھے لکھے افسر جن کی ڈیوٹی ہی امن و امان قائم رکھنا ہے کیسے منہ کھول کے کہہ دیتے ہیں کہ متاثرہ عورت رات کو اکیلی سفر ہی کیوں کر رہی تھی؟ کیا اس لاجک کو دینے کے بعد محکمہ بری الذمہ ہو سکتا ہے؟ برائے مہربانی ایسی لاجک دے کے مزید جلتی پہ تیل کا کام نہ کیا جائے۔ یہ بے حسی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ گینگ ریپ کا شکار عورت کو قانون کا رکھوالا ہو کر پولیس کا سربراہ یہ کہے کہ رات کو موٹر وے پر اکیلی عورت کو سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

Read more