خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

تخیل نے خدوخال ترتیب دیے تو جذبات نے اظہار کی اجازت چاہی۔ الفاظ نے سیاہی کا لباس پہنا تو احساسات نے بھی زندگی کی رمق کو محسوس کیا۔ آنکھ نے عکس کو محفوظ کیا تو صفحۂ دل پر بھی نشان باقی رہ گیا۔ یادوں کے بے ترتیب خاکوں سے گرد ہٹی تو مسکراہٹوں نے ان میں رنگوں کا جال بکھیرا۔ کانوں نے کسی کے قدموں کی چاپ سنی تو دل کی دھڑکن نے قدم سے قدم ملائے۔ ادھر ایک قدم اٹھا تو ادھر ایک دھڑکن پوری ہوئی۔

Read more

اظہار محبت

ہم دونوں کی نظر ملی تو میرا دل زور سے دھڑکا۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا۔ جب بھی اس سے نظریں چار ہوتیں، مجھے یوں لگتا کہ دل حلق کے راستے باہر آ جائے گا۔ وہ کلاس کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ یا شاید محبت میں ایک ہی شخص خوبصورت نظر آتا ہے۔ لیکچر کے دوران اس کی طرف نگاہ جاتی تو میں اس کی سحر زدہ آنکھوں میں کھو سا جاتا۔ وہ مسکراتی تو گویا پوری کائنات

Read more