خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
تخیل نے خدوخال ترتیب دیے تو جذبات نے اظہار کی اجازت چاہی۔ الفاظ نے سیاہی کا لباس پہنا تو احساسات نے بھی زندگی کی رمق کو محسوس کیا۔ آنکھ نے عکس کو محفوظ کیا تو صفحۂ دل پر بھی نشان باقی رہ گیا۔ یادوں کے بے ترتیب خاکوں سے گرد ہٹی تو مسکراہٹوں نے ان میں رنگوں کا جال بکھیرا۔ کانوں نے کسی کے قدموں کی چاپ سنی تو دل کی دھڑکن نے قدم سے قدم ملائے۔ ادھر ایک قدم اٹھا تو ادھر ایک دھڑکن پوری ہوئی۔
Read more
