چوبیس دسمبر اور میرا مرحوم لختِ جگر

سورج سر مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے تو جانب صحرائے عدم چل دیا تنہا بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے سات سال سات مہینے اور دو دن یہی مختصر قیام تھا جو میرے بیٹے عبدالہادی نے اس فانی جہاں میں گزارا، گھر اور سکول میں وہ ایک منفرد بچہ تھا۔ وہ بچہ نہیں وہ ایک بہت بڑا انساں تھا اُسے ہر کسی کا خیال رہتا تھا۔ وہ میرے دوستوں کا

Read more

دادا جی کی محبت

میرے داداجی کا انتقال 1989 میں ہوا اور میں اس وقت کم و بیش  پانچ سال کا تھا ۔ مجھے انسانی رشتوں کی پہچان تھی مگر طفلانہ سوچ کے باعث احترام سے عاری  تھا سب چیزیں جو میری ضرورت تھیں اپنا حق سمجھتا تھا اور میری اس وقت کی فریاد صرف دادا جی تک پہنچتی تھی اور میری ہر خواہش کی تکمیل اور احترام گویا دادا جی فرض عین سمجھتے تھے۔ میں اس وقت گھر میں سب سے چھوٹا تھا

Read more