الطاف صدیقی تھا صورت گر کچھ خوابوں کا

روزنامہ مساوات کراچی سے جاری ہوا تو ابتدائی طور پر جن صحافیوں کو چنا گیا ان میں، میں بھی شامل تھا اور میرے ذمہ ثقافتی سرگرمیوں کا صفحہ تھا۔ آغاز میں مختلف شہروں میں جو نمائندے مقرر ہوئے، ان سے رابطہ ہونے لگا اور متعلقہ نمائندوں سے خبریں آنا شروع ہوئیں تو پہلی مرتبہ الطاف صدیقی کا نام سامنے آیا، جو کوئٹہ میں نمائندے تھے۔

Read more

فیض صاحب کے ساتھ ایک سفر

سنہ 1966 کی بات ہے۔ کراچی آئے ہوئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ ملازمت کی تلاش جاری تھی۔ سندھ کے شہر نواب شاہ میں میرے بہنوئی ایم ایم فرشوری سرکاری ملازمت کے علاوہ مقامی رائٹرز گلڈ کے سیکریٹری بھی تھے اور اچھے مقامی شعرا میں شمار ہوتا تھا۔ ان کا فون آیا کہ میں فوری طور پر فیض صاحب سے رابطہ کروں اور مقررہ تاریخ پر مشاعرہ میں شرکت کے لیے نواب شاہ لے کر آؤں اس خبر نے میرے اندر کئی طرح کی لہریں دوڑا دیں اور زیادہ وقت اس میں لگا کہ پہلی ملاقات کے موقع پر اپنے آپ کو کیسے پیش کرنا ہے۔ گر لرزہ طاری ہو تو اظہار کیسے روکنا ہے۔ متاثر کرنے کے لیے رسمی جملے کیا ہوں گے اور اگر وہ کچھ دریافت کریں تو بغیر ہکلاہٹ کے جواب کیوں کر ممکن ہو۔

Read more