برینڈا، لاہور اور گرین کارڈ

آج کا انسان اس کمپیوٹر کے دور میں اپنی زندگی کے تمام امور، یادداشتیں، روز مرہ کے دوسرے معاملات سب کچھ کمپیوٹر اور موبائل کے سپرد کر کے خود کو ہر طرح کی بندشوں سے آزاد کرنے کے درپے ہے۔ اب تو کاریں بھی خودکار ڈرائیونگ کی بنیاد پر مارکیٹ میں موجود۔ محو حیرت ہوں یہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔ 1983 کی گرمیوں کی بات ہے میں شکاگو میں مقیم تھا۔ روزویلٹ یونیورسٹی کی دس منزلہ عمارت

Read more

نمکین وادی کا میٹھا سفر

لاہور سے موٹروے کا سفر للۃ انٹرچینج پر اختتام پزیر ہوا تو کھیوڑہ کی طرف جانے کے لیے ہم نے پنڈ دادن خان کی راہ پکڑی۔ ہمارے بائیں طرف کوہستانِ نمک کا وسیع سلسلہ پوری شان و شوکت کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی نومبر کی شروعات کا مژدہ سنا رہی تھی۔ سڑک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی اور کئی جگہوں پر ”آگے پلی ٹوٹی ہوئی ہے“ کے سائن بورڈ سیاحوں کا منہ چڑانے کو

Read more