کشمیر کی اصل کہانی کیا تھی؟


پروفیسر صاحب اس مسئلے کو اجاگر کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ میں نے اس کتاب کا ترجمہ اور تلخیص کا بیڑا اتھایا تو سہی، تاہم یہ اتنا آسان نہیں تھا۔ پروفیسر صاحب کی نستعلیق اور انگریزی لغت میں گندھی انگلش نثر کا ترجمہ میرے لئے ایک چیلنج کی صورت اختیار کر گیا۔ بہرحال اللہ کے فضل و کرم سے میں نے ہمت نہیں ہاری اور کوشش جاری رکھی۔ ابھی پوری کتاب کا ترجمہ مکمل نہیں ہوا۔ تاہم مجھے محسوس ہوا کہ فی الوقت کشمیر سے متعلق ان حقائق کو عوام الناس کے سامنے لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ میں نے ترجمے کے ابتدائی صفحات پروفیسر صاحب کے سامنے پیش کئے تو انہوں نے نہایت خوشی سے ان کی اشاعت کروانے کی اجازت دی۔ سو اب میں کوشش کروں گی کہ یہ ترجمہ قسط وار مضامین کی صورت میں شائع ہوتا رہے اور بعد میں انہیں کتابی صورت دے دی جائے۔

کشمیر (ماضی اور حال کے آئینے میں)
”تن ہمہ داغ داغ شد“

 انتساب

”جموں و کشمیر کے لہولہان عوام کی ناقابلِ شکست جرا¿ت و حوصلہ کے نام!
ان سینکڑوں، ہزاروں مرد، خواتین اور بچوں کے نام!
جو نامعلوم افراد اور وردی والوں کے ہاتھوں نہایت بے رحمی سے شہید کر دیئے گئے۔“

 پیش لفظ

محمد فاروق رحمانی نے اس کتاب کا پیشِ لفظ تحریر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ
”نذیر احمد شال نے اپنی تازہ ترین تصنیف
Kashmir…………….
Tormented Past
and
Bruised Present
میں کشمیریوں کی آزادی اور امن کے لئے ان کی خواہش اور پیاس کو اجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب ایسے وقت میں منظرِ عام پر آئی ہے جب بہت ساری وجوہات کی بناءپر اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

i) سب سے پہلی وجہ تو یہ کہ کشمیریوں کی قسمت مستقل طور پر صلیب پر لٹکی ہوئی ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کی طرف سے اس کا حل ارادتاً بھلا دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ جنوبی ایشیاءاور مغربی ایشیاءمیں اپنے تجارتی اور فوجی مفادات کے پھیلاﺅ میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ ان مظلوم اور محکوم اقوام کی آوازوں اور فریادوں پر کان دھرنے کو تیار نہیں جو انسانی حقوق کی آفاقی چارٹر اور دستور کے تحت پر امن طور پر اپنے حقِ خودارایت کے لئے لڑ رہے ہیں۔

کچھ با اثر مسلم اور پورپین ریاستیں جو انسانی بنیادوں پر کشمیریوں کے نقطہ نظر کو واضح کر سکتی تھیں، اس ساری صورتِ حال کے لئے گونگی اور بہری ہوگئیں کیونکہ ان کے تجارتی مفادات، بھارت کی معاشی شاطرانہ چالوں سے وابستہ ہیں۔ اس طرح کشمیریوں کو بھارت اور اس کے ظالمانہ اور سفاکانہ قوانین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

ii) دوسری وجہ یہ ہے کہ اگرچہ کشمیریوں کے مطالبہ آزادی اور حقِ خود ارادیت کی تحریک کا ”دہشت گردی“ سے دور کا بھی واسطہ نہیں لیکن ان کی اس جدوجہد آزادی اور حق خود ارادیت کا تعلق بھارت کی سیاسی اور معاشی ڈپلومیسی کی شاطرانہ چالوں کی وجہ سے انتہائی مہارت سے ”دہشت گردی“ سے جوڑ دیا گیا ہے۔

iii) تیسرا یہ کہ اگرچہ کشمیر کے مسئلے کا سب سے پہلا حل کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ووٹ کے ذریعے رائے شماری پر مبنی تھا، لیکن اب اس مسئلے کو بھارت اور پاکستان کے باہمی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور اس کے ممکنہ حل موجودہ حالات کے مطابق (جہاں ہے جیسا ہے) بیان کیا جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ایک مشہور تاریخی علاقے پر بھارت کے قبضے اور اس کے حصے بخرے کرنے ( کے جرم) کو قانونی حیثیت دے دی جائے۔

افسوس! کشمیریوں کی جدوجہد آزادی و حق خود ارادیت اور اس کے لئے ان کی عظیم قربانیاں بے معنی ہو کر رہ گئیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کو یا تو سخت ترین قوانین کے ذریعے پابند کر دیا گیا یا بھارت کے طویل المدتی قبضے نے اسے حقائق کو نظر انداز کرنا سکھا دیا ہے۔

مزید یہ کہ گزشتہ دو دہائیوں کی گندی سیاست اور ظاہری CBM(Confidence Building Measures) اور نظام پاک بھارت تعلقات کی بحالی کے لئے ان میں اعتماد بڑھانے کے اقدامات کے دوران ریاست خطے کی سیاسی، معاشی اور سفارتی سازشوں کا گڑھ بن چکی ہے۔ یہاں کی آبادی کی آزادی اور حقِ خود ارادیت کے لئے اٹھنے والی آوازیں کمزور ہوتی جارہی ہیں اور خود غرضانہ اور ذاتی مفادات اسے روز بروز غیر متعلقہ بناتے جارہے ہیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6