کشمیر کی اصل کہانی کیا تھی؟
ڈوگرہ راج اپنے ساتھ انتہائی اذیت ناک اور ررعایا کو کچلنے والا نظام لے کر آیا۔ ریاست کے مسلم باشندوں کے خون چوسنے کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے گئے۔
لارنس کے مطابق ”یوں سمجھیے کہ ہوا اور پانی کے سوا ہر چیز پر ٹیکس عائد کر دیا گیا“
وہ مزید لکھتے ہیں۔
”ختنوں پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا۔ 1871ءمیں اس ٹیکس کی مد میں 600روپے (چھ سو روپے) جمع کئے گئے۔ چنار کے پتوں کی فروخت پر بھی ان لالچی اور جاہل حکمرانوں کی تجوریوں میں 25روپے جاتے۔ 1871ءمیں بکریوں اور بھیڑوں پر ٹیکس کی مد میں ایک لاکھ، سات ہزار، تین سو گیارہ روپے (1,07,311) جمع ہوئے۔ مسلمانوں کو اپنی شادیوں پر بھی ٹیکس ادا کرنا پڑتا۔ یہ بات واضح ہے کہ شادیوں پر ٹیکس مسلم آبادی میں اضافے کو روکنے کے لئے لگایا گیا۔ ختنوں پر ٹیکس ان کے عقیدے پر براہ راست طمانچہ تھا۔ خصوصاً مسلمانوں کے غریب ترین طبقوں کے واسطے“
ڈوگرہ راج نے تاریخ کے سب سے زیادہ قابل نفرت غیر انسانی فعل کو بھی متعارف کرایا اور وہ تھا، تمام جفاکش مسلمانوں سے جبری مزدوری کرانے کا فعل۔ ڈوگرہ فوج ایک پورے گاﺅں کو محاصرے میں لے لیتی۔ وہ وہاں کے رہنے والوں کو ہر طرح ذلیل کرتے۔ پھر مردوں کو جبری مزدوری کے لئے ہانک لے جاتے۔
ڈوگرہ راج اپنی تمام تر تلخیوں اور مصائب کے ساتھ زندہ رہا۔ یہاں تک کہ لوگوں نے اپنے آپ کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس
کے جھنڈے تلے ایک سیاسی تحریک کی صورت میں منظم کیا۔ اب کی بار لوگوں میں ”تحریک آزادی و نجات“ کا شعلہ ایک مردِ جانباز عبدالقدیر نے پھونکا۔ اس نے خانقاہ شاہ ہمداں سرینگر کے مقام پر ایک جذباتی تقریر کی۔
”میرے مسلمانوں بھائیو! اب وقت آگیا ہے کہ ہم طاقت کا مقابلہ زیادہ طاقت سے کریں تاکہ ان مظالم اور درندگیوں کو ختم کر سکیں جن کو آج تک تم بھگتتے آ رہے ہو۔ یہ لوگ قرآن مجید کی بے حرمتی جیسے مسئلے کا خاطر خواہ حل نہیں نکال سکیں گے۔ تمہیں چاہیے کہ خود اپنی طاقت پر بھروسہ کرو اور غلامی کے خلاف ایک لگاتار جنگ جاری رکھو۔ “پھر محل کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے وہ گرجا،
”اسے زمین بوس کردو۔“
اسے 25جون 1931ءکو اس کے مالک کی ہاﺅس بوٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس پر پینل کوڈ کی دفعات 124/Aاور 153کے تحت بغاوت اور اس پر اکسانے کا الزام لگایا گیا۔
جب مسلمانوں کو اس کی گرفتاری کا علم ہوا تو شہر بھر میں احتجاج کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوا۔ ان کے جذبات خاص طور پر اس لئے بھی مجروح ہوئے کہ یہاں ان کے ایک مسلم بھائی نے، جس کا تعلق ریاست سے باہر کے علاقے سے تھا، ان کے لئے اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لئے گرفتاری پیش کی تھی۔ یہ معاملہ چونکہ جذباتی نوعیت کا تھا۔ لہٰذا لہوگ انتہائی حساس ہوگئے۔
13جولائی 1931ءکو ہزاروں مسلمان سنٹرل جیل کے باہر جمع ہوگئے اور سیشن جج کے کمرہ عدالت میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے کمپاﺅنڈ میں داخلے کا مطالبہ کر دیا۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ مولوی محمد عبداللہ نے انہیں پر امن رہنے اور انتظامیہ سے تعاون کرنے کی نصیحت کی۔ ان کی بات مانتے ہوئے ہجوم خاموش ہوگیا۔ لوگ گیٹ سے پرے ہٹ کر خاموشی سے بیٹھ گئے اور اندر سے آنے والی خبروں کا انتظار کرنے لگے۔
اس وقت کوئی بھی غیر متعلقہ شخص جیل کے احاطے میں موجود نہیں تھا۔ اور عین اس وقت جب لوگ، ایک بجے دوپہر کے قریب، جیل سے باہر نماز کے لئے صفیں سیدھی کر رہے تھے، گورنرنے پولیس کو جھاڑ پلائی کہ انہوں نے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے افرادکو اپنی تحویل میں کیوں نہیں لیا؟ اور یہ کہ پولیس ان کو فوری طور پر گرفتار کرلے۔ پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کرلیا۔ نتیجةً ہجوم نے بے قابو ہوکر احتجاج شروع کردیا اور لوگ گورنمنٹ کے خلاف اور عبدالقدیر کے حق میں نعرے بلند کرنے لگے۔
اس موقع پر حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے اور ہجوم نے زبردستی جیل کے احاطے میں گھسنے کی کوشش کی۔ وہ اپنے لوگوں کی فوری رہائی اور عبدالقدیر کے خلاف جاری کیس کی کاروائی کو بچشمِ خود دیکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ معاملات کو حکمتِ عملی سے سنبھالنے کی بجائے گورنر نے غصے سے بے قابو ہو کر پولیس کو لوگوں پر فائر کھولنے کا حکم دے دیا۔ دلال انکوائری کمیشن (Dalal Inquiry Commission) کے سامنے پیش شدہ سرکاری شہادت کے مطابق ہجوم پر ایک سو اسی (180) راﺅنڈ فائر کئے گئے۔ 17مسلمان موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ جبکہ 40شدید زخمی ہوئے۔ جن میں سے پانچ بعد میں جامعہ مسجد میں شہید ہوگئے۔
روزنامہ ہندو ٹریبیون (Tribune) نے 28جولائی 1931ءکی اشاعت میں تسلیم کیا کہ فائرنگ کے نتیجے میں 22مسلمانوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔
یہ کریڈٹ بھی کشمیری مسلمانوں کو جاتا ہے کہ Wakefieldکے مطابق ”جاں بحق کشمیریوں کے سارے زخم سینے پر تھے“ لیکن اس قتل و خونریزی کے باوجود ہجوم کو منتشر نہیں کیا جاسکا۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے




