کشمیر کی اصل کہانی کیا تھی؟


ڈبلیو۔ ویک فیلڈ (W. Wake-field) کہتے ہیں:
”مول تول اور بھاﺅ تھاﺅ کی عادت، جو اکثر ہماری قومی پالیسی پر حاوی رہتی ہے اور جس کی وجہ سے نپولین اعظم نے ہمارے اوپر ”دوکانداروں کی قوم“ کی پھبتی کسی تھی، اس کیس میں (یعنی کشمیر کی فروخت) غالب رہی۔ کیونکہ ہمیں حاصل شدہ تمام مفادات ترک کرتے ہوئے جو اس ریاست پر قبضے کی وجہ سے ہمیں حاصل تھے، حاکمِ اعلیٰ نے اس خوبصورت وادی کو راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ نہایت کم اور بے حیثیت قیمت یعنی صرف 75(پچھتّر)لاکھ روپوں میں فروخت کردیا جو ہماری رقم کے مطابق محض 750,000/-پاﺅنڈز بنتے ہیں۔ “

لیفٹیننٹ کرنل ٹارنس (Lt. Colonel Torrans) لکھتے ہیں:
”بیچارہ کشمیر !!!!!
ایک غیر ملکی اجنبی تسلط میں غلامی کے کئی دور گزارنے کے بعد ایک طاقتور، انصاف پسند اور مہربان حکومت نے فوج کشی کے ذریعے اس علاقے پر قبضہ کر لیا اور ایسا معلوم ہونے لگا کہ اب تکلیفوں کا زمانہ ختم ہونے والا ہے تو اس کی دیرینہ بدقسمتی نے اسے دوبارہ آن گھیرا۔ “
”اسی مہربان حکومت کے ہاتھوں کشمیری باشندوں کو انتہائی اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ دوبارہ جاہل اور غیر تربیت یافتہ لوگوں کے حوالے کردیا گیا۔
یہ آخری حالت ان کی پہلی حالت سے کہیں بدتر تھی۔ کیونکہ گلاب سنگھ اپنی رعایا کے استحصال اور اس پر ٹیکس لگانے میں اپنے پیش رووں سے کہیں آگے نکل گیا۔ “
”یہ سچ ہے کہ ان پر بھاری ٹیکس لگائے جاتے تھے لیکن اس راجہ نے تو لوگوں کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا۔ پہلے حکمران تو ان کی زرعی پیداوار یعنی اناج اور پھلوں کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ، ان کی کھڈیوں کے منافع اور ان کی دستکاریوں کی کمائی کا ایک بڑا حصہ ٹیکس کی مدمیں وصول کرتے ہی تھے لیکن اس حکمران نے اپنی تجوریوں کا پیٹ بھرنے کے لئے ان کی کھال تک ادھیڑ دی۔ “
”کوئی انگریز بھی کشمیر کی فروخت پر اظہارِ افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ایک شاندار مستقبل کی حامی ریاست سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ اگر ایسا ہوتا اور یہ ریاست آج ہمارے پاس ہوتی تو مجھے امید ہے کہ ہم بھی اس سے اتنا ہی فائدہ اٹھاتے جتنا کہ یہاں کے باشندے“

لیگ آف نیشنز کی افتتاحی تقریب میں سر محمد اقبال نے فرمایا؛ کشمیر کے حکمران تبدیل ہوتے رہے تاہم کشمیر یوں پر عذاب ابھی تک کم نہیں ہوا۔ ایک سو چو ّن (154) سال پر محیط ڈوگرہ راج اپنے ساتھ جموں اور کشمیر کے لوگوں کے لئے ناقابلِ تصور مصائب اور تکالیف لے کر آیا تاہم دہشت گردی کی شکار ”انسانیت“ نے ان ناجائز قابضین اور نا انصافی کے مرتکب مجرموں کے مقابلے کا جزبہ اور عزم کبھی سرد نہیں ہونے دیا۔
گلاب سنگھ کے خلاف بغاوت کا پہلا بھرپور مظاہرہ پونچھ میں ہوا۔ مادرِ وطن کے دوبہادر فرزند مالی خان اور شہباز علی اس بغاوت کے سرخیل تھے۔ گلاب سنگھ نے اپنے خلاف اٹھی ہوئی اس آواز کو دبانے کے لئے بنفسِ نفیس حصہ لیا۔
مالی خان اور شہباز علی کو قید کر لیا گیا۔ گلاب سنگھ نے جلاد کو حکم دیا کہ وہ زندہ ان کی کھال کھینچے سر سے نیچے کی طرف نہیں بلکہ پاﺅں سے اوپر کی طرف۔ تاکہ قیدیوں کو انتہائی دردناک اور اذیت ناک موت نصیب ہو۔ تشدد کا یہ غیر انسانی فعل یہیں پر ختم نہیں ہوا۔ بلکہ مالی خان اور شہباز علی کی موت کے بعد یہ حکم دیا گیا کہ ان کی کھالوں میں بھُس بھروا کر انہیں ایک درخت کی شاخ پر لٹکا دیا جائے۔

Wakefield اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے۔
”گلاب سنگھ کے بیٹے نے، جو وہاں قیدیوں کی اذیت کا نظارہ کرنے کے لئے موجد تھا، مارے دہشت کے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا۔ لیکن گلاب سنگھ نے اسے گردن سے پکڑا اور اسے مجبور کیا کہ جو کچھ ہورہا تھا، اسے دیکھے اور لوگوں پر حکمرانی کا فن سیکھے۔“
جب گلاب سنگھ کے کمانڈر انچیف نے بلتستان پر قبضہ کیا تو مسلمانوں کو انتہائی بدنصیبی کا سامنا کرنا پڑا۔ پچھلی بغاوت کے دولدّاخی قیدی رحیم خان اور حسن خان کو ایک رنگ کے احاطے میں لایا گیا اور انہیں دو خیموں کے درمیان باندھ دیا گیا۔ وہاں تیل کے ایک برے برتن میں تیل پہلے سے ابل رہا تھا۔

جلاد آگے بڑھا اور اس نے رحیم خان کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا۔ پھر باقی حصے پر ابلتا ہوا تیل ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے رحیم خان کی ناک اور اس کے کان کاٹ کر علیحدہ کر دئیے اور آخر میں اس کی زبان لی جسے بعد میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ ھرکٹے ہوئے باقی ماندہ حصے پر، خون روکنے کے لئے گرم گرم ابلتا ہوا تیل ڈالا جاتا۔ آخر کار اس مصیبت زدہ، اعضاءبریدہ شکار کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے خوفزدہ ہجوم کے سامنے پھینک دیا گیا۔

حسن خان زیادہ خوش نصیب تھا کہ اس کے دونوں ہاتھ کاٹے گئے اور اس کی زبان کھینچ لی گئی تاکہ وہ اس بات کی زندہ مثال بن کر جیئے کہ جو بھی ڈوگروں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرے گا اسے کیسی سزا ملے گی۔ حسن خان انتہائی سخت اذیت میں مبتلا ہو کر صرف دو دن تک زندہ رہا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6