کشمیر کی اصل کہانی کیا تھی؟
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کشمیر کا تنازعہ پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات پر حاوی ہوچکا ہے۔ تاہم شال نے یو۔کے میں کشمیریوں کے حقوق اور امن کے ذہین اور قابل وکیل کی حیثیت سے ہماری مقبوضہ اور بدنصیب ریاست جموں و کشمیر کے رہنے والوں کی خواہشات اور امنگوں کو صحیح طور پر نہایت کامیابی سے واضح کیا ہے۔
مسٹر شال طویل عرصے سے کشمیر سے متعلق رجحانات اور مختلف اقدامات کا جائزہ لیتے رہے ہیں۔ مصنف خود کو یو۔کے اور پاکستان میں کشمیر کی تحریکِ آزادی کی سیاسی اور سفارتی سرگرمیوں سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے برطانیہ اور یورپ میں اپنی سیاسی و سفارتی سرگرمیوں سے قابل قدر کام سر انجام دیا ہے۔
وہ اپنی کتاب میں کئی متعلقہ سوالات کو زیرِ بحث لائے ہیں۔ جیسے؛
مسئلہ تشمیر کے تناظر میں کشمیریوں کا سیاسی مطالبہ
ان کا حقِ خود ارادیت
ریاستی دہشت گردی
کشمیر اور کشمیر سے متعلقہ تنازعات کی بناءپر پاکستان اور بھارت کے غیر یقینی تعلقات
دونوں ممالک کے سربراہوں کی ملاقاتیں اور متفقہ اعلانات اور کشمیر کی پیچیدہ گتھی کو سلجھانے کے لئے منصفانہ اور باوقار طریقے سے کسی مستقل حل تک رسائی
مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب مشرق و مغرب کے لوگوں پر تنازعہ کشمیر کے حقائق کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرے گی اور مجھے یہ امید بھی ہے کہ عالمی طاقتیں بھی ان خطرات کو معمولی نہیں سمجھیں گی جو کشمیریوں کے پیدائشی حق یعنی حقِ خودارادیت کو نظر انداز کرنے کے سبب (دنیا کے امن کو) لاحق ہیں۔
محمد فاروق رحمانی
پروفیسر نذیر احمد شال :
اپنی کتاب کے ابتدائیے میں رقمطراز ہیں:
”میں اپنی کتاب Kashmir’s Tormented Past & Bruised Present “
کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں۔ اس کتاب کو تحریر کرنے کا مقصد آپ کے سامنے ان حوادث اور اندوہ ناک واقعات کو پیش کرنا ہے جو ریاست جموں و کشمیر کے باشندے ایک لمبے عرصے سے، خصوصاً 1846ءسے لے کر اب تک، برداشت کرتے آئے ہیں۔
پہلا عنوان ریاستی دہشت گردی کے اس دور سے متعلق ہے جو گلاب سنگھ کی حکومت کے آغاز سے لے کر۔ بھارت کے موجودہ راج میں، وزیرِ اعظم منموھن سنگھ کے دورانِ حکمرانی تک پھیلا ہوا ہے۔
کشمیر میں ریاستی دہشت گردی گلاب سنگھ سے منموہن سنگھ تک
ریاست جموں و کشمیر مستقل طور پر دہشت گردی کی لپیٹ میں چلی آرہی ہے۔ 1846ءکے شرمناک معاہدہ¿ فروخت کے نتیجے میں یہ ڈوگرہ راج کے قبضے میں آگئی۔
اس غیر مقبول معاہدے پر جسے کشمیر کی فروخت کے معاہدے کی حیثیت سے مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے 16مارچ 1846ءکو لارڈہارڈنگ (Lord Harding) کی طرف سے مسٹر کری اور برے وٹ (Mr. Curie & Bruit) اور میجر ہنری منٹگمری لارنس (Maj. Henry Montgomery Lawrence) کے اور گلاب سنگھ نے بذات خود امرتسر میں دستخط کئے۔
کشمیر کی فروخت پر تبصرہ کرتے ہوئے پنڈت پریم ناتھ بزاز نے کہا،
”برطانوی راج میں اقتدار منتقل کرتے ہوئے برطانیہ نے کشمیری عوام سے اس موضوع پر رائے لینا بھی ضروری خیال نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ان کے لیڈروں سے بھی، کسی ایک سے بھی مشورہ نہیں کیا۔ یہ سارے کا سارا خود غرضی پر مبنی شرمناک معاملہ تھا جو مکمل طور پر انصٓف، شفافیت اور قانونی تقاضوں سے مبرّا تھا۔ “
”وادی کشمیر اور گلگت کے دو ملین لوگوں کوایک بیرونی مہم جو شخص کے ہاتھ بھیڑ بکریوں اور مویشیوں کی طرح فروخت کر دیا گیا اور یہ سارا لین دین ان کی لاعلمی میں کیا گیا۔ اس معاہدے کی دس (10) دفعات تھیں۔ لیکن کسی ایک میں بھی عوام کے حقوق اور ان کے مستقبل کے مفادات کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ “
Letter from India & Kashmirکے مصنف کے مطابق
”کشمیر برطانوی حکومت کی طرف سے راجہ کے ہاتھ پچھتر ہزار لاکھ میں فروخت کر دیا گیا لیکن اس شرط پر کہ راجہ ان کی بالادستی کو قبول کرے گا اور علامتی طور پر ہر سال اعلیٰ نسل کے بارہ (12) بکریاں اور کشمیری شال کے تین جوڑے تحفے کے طور پر دیا کرے گا۔ ان کی قیمت آج کے دور میں 288بکریوں اور چھ درجن شالوں کی قیمت کے برابر ہے۔ یہ فیصلہ ان سیاسی غلطیوں میں سے ایک ہے جو ہم محض دولت کے حصول کے لالچ یا ہوسِ ملک گیری کے ہاتھوں مجبور ہوکر، کر بیٹھتے ہیں اور پھر ساری عمر پچھتاوے کی لکیر پیٹتے رہتے ہیں یا پھر ان قومی روایات کی موت پر گریہ کناں رہتے ہیں جنہیں ہم نے بزورِ بازو حاصل کیا ہوتا ہے لیکن اپنی ڈپلومیسی کے ہاتھوں ان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ “
”چونکہ کشمیر کے باشندوں کی تعداد چھ سو ہزار (600,000)تھی۔ لہٰذا یوں سمجھیے کہ انہیں 25شلنگ فی کس کی قیمت پر فروخت کیا گیا۔ گو یا دورِ جدید میں غلاموں کی تجارتی منڈی کا سب سے بڑا سودا۔ “
اس سودے کے ایک اور انتہائی اہم پہلو پر مسز جے۔سی۔مری ایسلے نے یوں تبصرہ کیا ہے۔
”کیسا المناک نتیجہ نکلا ہے ہمارے اس زرخیز اور شاندار ملک کو ایک متعصب ہندو کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا، جس کا سارا عملہ اسی کا ہم عقیدہ ہے جبکہ اس کی رعایا مسلمان ہے۔ “
”تاریخ شاہد ہے ہماری اپنی ملکہ میری کے حوالے سے اور نیدر لینڈ میں سپین کے فلپ کے حوالے سے کہ کوئی قانون اس سے بڑھ کر ظالم نہیں ہوسکتا کہ ایک متعصب شخص کو ایسے لوگوں پر حکمران بنا دیا جائے جو اس کے ہم عقیدہ نہ ہوں۔ “
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے




