کشمیر کی اصل کہانی کیا تھی؟


جب ہم 6نومبر 1947ءکے خونیں واقعات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ہندو انڈیا نے ہمیشہ مسلمانوں کی نسل کشی کی منظم مہم کو جاری رکھا ہے۔ یہ پالیسی مختلف بھیسوں میں اور انداز بدل بدل کر آج بھی جاری ہے۔

ریاست جموں و کشمیر میں پھیلی ہوئی بے یقینی کی فضا بھارتی فوج کے اس ریاست پر زبردستی قبضے کا نتیجہ ہے۔ جموں کے شہیدوں کا مشن موجودہ کشمیری نسل آج بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ ”تحریکِ آزادی و نجات“ آج بھی پونچھ سے تینتوال اور سرینگر سے گول گلاب گڑھ تک دیکھی جاسکتی ہے اور اب تو یہ تحریک لداخ تک پھیل گئی ہے۔

بھارت نے ریاست کے عوام کے دل جیتنے کی کوشش کی لیکن بہت بری طرح ناکام رہا۔ اس کی وجوہات بالکل واضح ہیں۔
i) وعدوں کی خلاف ورزی
ii) منافقت اور
iii) کٹھ پتلی حکمرانوں کا تقرر

ان بہت سارے سالوں میں بھارت نے ریاست جموں و کشمیر کو ایک وسیع قید خانے میں تبدیل کردیا ہے۔ یہاں کے عوام 6نومبر کو ہر سال اپنے اس عزم کو دھراتے ہیں کہ وہ اس مقدس سرزمین کو آخری بھارتی سپاہی سے خالی کراکر ہی دم لیں گے۔

6نومبر 1947ءکے المیے کو سمجھنے کے لئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ تقسیم ہند کے بعد ڈوگرہ فوج نے مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے قتلِ عام میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ دوسری طرف ایک ایسی جعلی اور فراڈ پر مبنی دستاویز تیار کی جارہی تھی۔ جو بھارتی حکومت اور کشمیر کے مہاراجہ کے درمیان، کشمیر پر بھارت کے قبضے سے متعلق تھی۔ چنانچہ اس جعلی معاہدے کے تحت بھارتی افواج 27اکتوبر 1947ءہی کو کشمیر میں پہنچ چکی تھیں۔

ڈوگرہ فوج، جو جموں و کشمیر کے آزاد شدہ علاقے اور سری نگر سے واپس بھاگی تھی، نے آر۔ایس۔ایس (راشٹریہ سیوک سنگھ) اور جن سنگھ کے غنڈوں کی مدد سے مسلمانوں کی بھرپور نسل کشی کی۔ یہ فوجی دستے اکتوبر 1947ءکے اواخر میں جموں کے اردگرد کے دیہاتی علاقوں میں پہنچے اور انہوں نے وہاں کے مسلمان باشندوں ے قتل عام اور نسل کشی کی مہم چلائی۔ نتیجةً بچے کھچے مسلمان بھاگ کر جموں شہر میں پہنچ گئے۔

ڈوگرہ فوجیوں نے جموں کے تمام مسلمان باشندوں کا ریزیڈنسی روڈ اور سربا بن چوک کے علاقے میں محاصرہ کرلیا۔ غیر مسلح مسلمانوں نے ڈوگرہ افواج کے اس وحشیانہ ظلم و ستم کی مزاحمت ہمت اور حوصلے سے کی۔

جب یہ افواج مسلم آبادی کی مزاحمت پر قابو نہ پاسکیں تو انہوں نے لاﺅڈسپیکروں پر اعلان کیا کہ اگر مسلمان اپنی مزاحمت روک دیں۔ تو انہیں پاکستان جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ یہ محض ایک پرفریب پیش کش تھی۔

5نومبر1947ءکو لوگوں کو پولیس گراﺅنڈ میں جمع کیا گیا اور ان کے کھانے پینے کا کوئی انتظام کئے بغیر انہیں ٹرکوں میں مویشیوں کی طرح ٹھونس دیا گیا۔

ٹرکوں کا پہلا کافلہ جموں چھاﺅنی سے سیالکوٹ کی طرف روانہ ہوا لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد ان کی سمت بدل دی گئی۔ اب ٹرک سنبھاکنٹھوا روڈ (Sanbha Kanthua Road) کی طرف چلنے لگے۔ وہاں پہنچ کر لوگوں کو لڑکوں سے اترنے کا حکم دیا گیا اور وہاں نہایت بے رحمی اور سفاکی سے ان کا قتلِ عام کیا گیا۔ صرف مٹھی بھر لوگ اس سانحے میں زندہ بچ سکے۔
اگلے دن مسلمانوں کا ایک اور قافلہ جموں چھاﺅنی کے نزدیک شہید کر دیا گیا۔

برطانیہ کے روزنامے The London Timesنے 10نومبر 1947ءکی اشاعت میں، بھارت میں اپنے نمائندہ خصوصی کے حوالے سے یہ رپورٹ شائع کی کہ مہاراجہ کی نگرانی میں جموں کے علاقے میں دو لاکھ سینتیس ہزار (2,37,000)مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔

Statesmanکے ایڈیٹر Lan Stephenنے اپنی کتاب ”Homed Moon“ میں تحریر کیا کہ موسمِ خزاں 1947ءکے خاتمے تک 5لاکھ مسلمان جموں سے غائب ہوچکے تھے۔ ان میں سے دو لاکھ کو (2,00,000)شہید کر دیا گیا جبکہ بقایا تین لاکھ (3,00,000) پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہجرت کر گئے۔

Alistair lamb نے اپنی کتاب Crisin in Kashmirمیں اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔
اسی رپورٹ اور اطلاع کی بنیاد پر The Calcutta Statesmanنے لکھا کہ 1947ءکے موسمِ خزاں کے اواخر تک پانچ لاکھ کی مسلم آبادی کو غائب کر دیا گیا۔ جس میں سے تین لاکھ کو قتل کردیا گیا اور باقیوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کر لی۔

اس کے بعد یہ گلزار وادی ایک حقیقی جہنم میں تبدیل ہو کر رہ گئی اور انسانی مصائب و تکالیف میں بے حد وحساب اضافہ ہوگیا اور کالے قوانین نافذ کر دیئے گئے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6