شہباز شریف کی کراچی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منظور پشتین لاہور میں اپنا تاثر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ البتہ منظور پشتین کے ساتھ جو سلوک لاہور انتظامیہ نے کیا۔ اس کا سیدھا نقصان شہبازشریف کو ہوا ہے۔ نصرت جاوید نے اپنے کالم میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ شہباز شریف نے بطور قومی لیڈر سامنے آنے کے  اپنے امکانات کم کر لیے ہیں ۔

شہباز شریف اپنی سیاسی لانچنگ کراچی سے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صورتحال آئیڈیل ہے ایک بڑا میٹروپولیٹن شہر۔ ایک میگا شہر جس میں ساری ضرورت فراہم بھی ہوں تو بھی ان کا معیار بڑھانے کی گنجائش ہر وقت رہے گی۔ شہباز شریف اپنا لاہور ماڈل کراچی میں کافی کامیابی سے مارکیٹ کر سکتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے بھرپور کوشش بھی کر رہے ہیں۔

ایک ہفتے میں کراچی کے دو دورے۔ اس کے علاوہ کراچی کے مئیر کو لاہور بلا کر اس کے ساتھ انہوں نے الگ سے کان لڑائے ہیں۔ یعنی اپنی کہی ہے وسیم اختر کی سنی ہے۔ بات سمجھ آتی ہے شہباز شریف کو کراچی جانا ہے۔ مسلم لیگ نون وہاں سے بظاہر فارغ ہے۔ شہباز شریف کا ایک مسئلہ تو بہت ہی سادہ سا ہے جو سمجھ آتا ہے کہ کراچی میں انہیں گھومتے پھرتے چار بندے ہر جگہ درکار ہیں۔ جنہیں وہ اپنی انگل ہلا ہلا کر خطاب کر سکیں۔ انہیں بتا سکیں کہ وہ کراچی کو پیرس لندن نیویارک یا جو بھی کراچی والوں کو پسند ہو وہ بنا کر دکھا سکتے ہیں۔

الطاف بھائی کی جبری سیاسی رخصتی کے بعد کراچی کی سیاست سب کے لیے امکانات کا ایک نیا جہان ہے۔ الطاف حسین کی متحدہ کے ٹوٹے ہونے کے بعد کراچی کا سیاسی کیک کھانے کی اصل طاقت پوزیشن پی پی کی ہے۔ آصف زرداری کا سیاسی دماغ پی پی کا اثاثہ ہے تو ان کی ڈرائنگ روم سیاست پی پی کے ہی اپنے مزاج کے خلاف ہے۔ زرداری صاحب کراچی کی سیاست میں اپنے امکانات تلاش کرنے کے لیے سب کچھ کریں گے۔ ان کی بات رہنے دیتے ہیں ان کی کرتے ہیں جنہیں کچھ پتہ نہیں کہ کیا کرنا ہے۔

دوہزار تیرہ کے الیکشن نتائج نے بتایا کہ کراچی کپتان کو ویلکم کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ کپتان نے کراچی کو نظرانداز کیا دھرنوں میں بیٹھ گیا۔ اب تک بیٹھا ہے اپنی کراچی کی سیاست بھی بٹھا لی ساتھ ہے پر اٹھ نہیں رہا۔ کراچی اب شائد اس پارٹی کے ساتھ جائے گا جو وفاق کی شہر کی اور سب کی سیاست کرے۔ کراچی میں کپتان کے زیادہ حمائتی پختون ہی رہ گئے ہیں۔ پختون حمایتی ہونا ہرگز کوئی بری بات نہیں۔ البتہ کراچی جیسے شہر میں آبادی کے دوسرے گروپوں کا سائیڈ پر ہوتے جانا بری بات ہے۔

اب کراچی میں وہی پارٹی ہٹ ہو گی جس میں کراچی میں بسنے والے تمام نسلی لسانی گروہ ڈھیروں ڈھیر موجود ہونگے۔ یہ بات جو لیڈر سمجھ لے گا کراچی اس کا ہو جائے گا۔

شہباز شریف کے لیے کراچی ایسی چابی ثابت ہو سکتا۔ جو ان کے لیے ان کی پارٹی مسلم لیگ نون کے لیے سارے بند دروازے چوپٹ کھول سکتا، کیسے؟

اس کیسے کا جواب جاننے سے پہلے یہ جان لیں کہ شہباز شریف پہلے ٹیسٹ میں فیل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے منظور پشتین کا جلسہ روکنے کے لیے انتظامی حربے استعمال کیے۔ جلسہ تو ہو گیا، نوجوان پختوںوں کو کوئی اچھا میسج نہیں گیا۔ آپ نے بھلے ڈیمج کنٹرول کرنے کے لیے بعد میں ٹویٹ بھی کر دیں۔ نقصان ہو گیا۔ کراچی پختونوں کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ آپ وہاں اپنے لیے سیاسی امکانات ڈھونڈ رہے ہیں۔ ایسے میں اپنی پاور بیس لاہور میں ایک برے سیاسی میزبان بھی بن کر بہہ گئے ہیں ۔

اگر آپ نے یہ سب ان کو راضی رکھنے کے لیے کیا تھا۔ تو تسلی رکھیں وہ بھی ہرگز خوش نہیں ہوئے۔ ہم میں اکثریت سمجھتی ہے کہ اداروں میں شائد صرف اطاعت کرنے والوں کو ہی پسند کیا جاتا ہے۔ وہاں پر جناب اپنے موقف پر اصرار کرنے والوں کو اس پر ڈٹ جانے والوں کو اس کے لیے مشکل جھیلنے والوں کو بھی پسند کیا جاتا ہے بلکہ زیادہ۔ وہ بھی تو ہمارے ہی بھائی بند ہیں بس ہم سے بہت بہتر طور پر منظم ہیں۔ آپ قانون کے دائرے میں رہیں وہ آپ سے کم ہی غرض رکھیں گے ۔ البتہ جب لڑائی چھیڑیں گے تو پھر بھگتیں گے بھی ۔

واپس کراچی چلتے ہیں۔ کراچی کو پرامن کرنے میں جس جس کا کردار تھا یا ہے۔ وہ سب اب کراچی میں نئی سیاست نئی قیادت دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو امن کو برقرار رکھے ترقی کی رفتار تیز کرے شہر کی شکل صورت کو ویسا کرے جیسا اک عالمی معیار کا شہر ہونا چاہئے۔

شہباز شریف اپنے لاہور ماڈل کے ساتھ جب سامنے آتے ہیں۔ تو وہ کراچی کے لیے کتنے اچھے ثابت ہو سکتے ہیں سب کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اس وقت ہم شہباز شریف کی خامیوں پر بات نہیں کرتے۔ ان کی خوبیوں ان کی کراچی میں سیاسی مارکیٹنگ پر ہی فوکس رہتے ہیں۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 356 posts and counting.See all posts by wisi