الیکٹبلز کا رشتے داریوں کی مدد سے بُنا گیا جال
تحریک انصاف میں بھی شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے درمیان مقابلہ آرائی اور دھڑے بندی پارٹی میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے حوالے سے ہے دونوں شخصیات پارٹی میں الیکٹبلز کو شامل کروانے کی دوڑ میں مصروف تھے جو الیکٹبلز جس کے ذریعے سے پارٹی میں شامل ہوں گے وہ اس کی لابی اور دھڑے کا حصہ بن جاتے ہیں
ان با اثر شخصیات کی رشتہ داریاں صرف با اثر سیاسی اشرافیہ تک محدود نہیں بلکہ اعلیٰ افسر شاھی عسکری حکام اور کاروباری شخصیات بھی اس فہرست میں شامل ہیں رحیم یار خان کی کاروباری سیاسی شخصیت چوھدری منیر کی شریف خاندان اور با اثر لوگوں سے رشتہ داریوں نے اس خاندان کے سیاسی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ کیا گجرات کا چوھدری خاندان اس ضمن میں بہت مشہور اور باثر ہے ان کے خاندان کی رشتہ داریاں اٹک کے کھٹر خاندان سرگودھا کے چیمہ خاندان منڈی بہاوالدین کے وڑائچ خاندان سیالکوٹ کے چیمہ خاندان وزیر آباد کے چھٹہ خاندان میانوالی کے روکھڑی خاندان اور ہری پور کی گوھر ایوب خاندان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے
اس کے علاؤہ بہت سے اعلیٰ سول اور عسکری حکام سے ان کی قریبی رشتہ داریاں ہیں اس کے علاؤہ اشرافیہ کے اعلی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم رھنے کی وجہ سے ان لوگوں کے سیاسی اور سماجی روابط میں اضافہ ہوتا ہے ایچی سن کالج گورنمنٹ کالج لاہور ایف سی کالج لارنس کالج وغیرہ سے وابستگی ان لوگوں کے سیاسی اور سماجی روابط میں اضافہ کرتی ہے اور ایک لابی کی حثیت اختیار کرتی ہے پاکستان کے اعلی افسر شاھی سیاستدان ان اداروں سے تعلق رکھتے ہیں عمران خان چوھدری نثار اور سابق وزیر اعلی کے پی کے پرویز خٹک ایچی سن کالج میں کلاس فیلو رھے یہی وجہ ہے کہ 2013 کے انتخابات میں کے پی کے اسمبلی کے انتخابات میں بہت سے نوجوان اور پہلی دفعہ رکن اسمبلی منتخب ہونے والے لوگ اسمبلیوں میں پہنچے لیکن تبدیلی کے دعویدار عمران خان نے اپنے کلاس فیلو اور دوست عمران خان کو وزیر اعلی کے لئے نامزد کیا
چوھدری شجاعت حسین کے ایف سی کالج میں کلاس فیلو جنرل مشرف کے دوست اور پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز نے دونوں کے درمیان رابطے استوارکیے اور جنرل مشرف کے اقتدار میں چوھدری خاندان کی گنجائش پیدا کی اور یوں چوھدری پرویز الٰہی کا وزیر اعلیٰ بننے کا خواب پورا ہوا اور چوھدری شجاعت وزیراعظم بنے
آج تمام سیاسی جماعتیں ان الیکٹبلز کے ہاتھوں یرغمال ہیں آصف علی زرداری پنجاب میں پیپلز پارٹی کا احیا الیکٹبلز کے ذریعے کرنا چاھتے تھے جنہوں نے آخری وقت پر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شمولیت اختیار کرلی اور منظور وٹو جیسے دوستوں نے آزاد الیکشن لڑنے پر ترجیح دی اور مسلم لیگ ن نے جن بہت سے الیکٹبلز کو مخلص اور درمیانے طبقے کے نظریاتی کارکنوں پر ترجیح دی انہوں نے جیپ کے نشان پر الکشن لڑنے کو ترجیح دی جب تک سیاسی جماعتیں عوام کی جڑوں میں اور نچلی سطح تک منظم نہ ہوں گی بلدیاتی ادارے نچلی سطح تک مضبوط نہ ہوں گے سیاست نظریات اور ایشوز کے گرد نہیں گھومے گی ہماری سیاست پر الیکٹبلز کا تسلط قائم رہے گا۔
Published on: Jul 18, 2018

