ایک نیوڈ ماڈل کی داستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیچ مانگ کی چوٹی اور ماتھے پر چمکتی سندور بندی والی یہ خاتون تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی بس اسٹاپ پہنچتی ہیں۔

وہ اپنے گھر سے دہلی یونیورسٹی کے آرٹس ڈیپارٹمنٹ تک پورے راستے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہتی ہیں۔

پلکیں نہ جھپکنے کے برابر جھپکتی ہیں۔ سوالوں کے چھوٹے چھوٹے جواب دیتی ان خاتون کو دیکھ کر ان کے پیشے کا بالکل بھی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

کرشنا نیوڈ ماڈل ہیں۔

بغیر کپڑوں کے ماڈلنگ کرتی ہیں یا پھر مہینے کے چند روز زیریں حصے پہ انتہائی چھوٹے سے کپڑے کے ساتھ۔ پوز کرتی ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کیلئے پچھلے 18 سالوں سے یہ کام کر رہی ہیں۔

جس معاشرے میں دودھ پلاتی ماں بھی سیکس آبجیکٹ ہوتی ہے،وہاں اس پیشے کیلئے مضبوطی نہیں،مجبوری چاہیے ہوتی ہے۔

'ایک نیوڈ ماڈل کی داستاں:6 گھنٹے بغیر کپڑوں اور بغیر حرکت کئے بیٹھنے کے ملتے 220 روپئے

پیٹ کی خاطر نیوڈ ماڈلنگ کرنے والی درمیانی عمر کی کرشنا جب پورٹریٹ روم میں بیٹھتی ہیں تو ان میں اور کسی مجسمہ میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا ۔

دھڑکنوں کے اٹھنے گرنے سے ہی فرق کیا جا سکتا ہے یا پھر کبھی  پلکوں کے جھپکنے سے۔ کمرے میں چاروں جانب رنگوں کی بوچھاڑ ہوتی ہے اور تیز روشنی تاکہ جسم کی باریک سے باریک لکیر بھی اٹھتی اور گرتی نظروں سے اوجھل نہ ہو پائے۔ آسانی سے نظر آ سکے۔

model-fea

انہیں وہ دن بہت اچھے سے یاد ہے،جب پہلی مرتبہ کئی انجان مردوں کے سامنے کپڑے اتارنے پڑے۔

بتاتی ہیں کہ 6 گھنٹے میں3 مرتبہ چھٹی ملتی اور میں خوب روتی۔

پلکیں جھپکانا منع ہوتا ہے۔ جتنا ہو سکے میں دھیرے دھیرے پتلیاں گھماتے ہوئے ہر چہرے کو غور سے دیکھتی، کہیں کوئی مجھے گندی نظروں سے تو نہیں دیکھ رہا؟ پھر کالج کے پروفیسروں اور بچوں نے اتنا پیار دیا کی میں کھل گئی۔

پہلے کوٹھیوں میں صفائی کا کام کرتی تھی ۔ ایسے ہی ایک دن پتہ چلا کہ کالج میں پینٹنگ کیلئے ماڈل چاہئے ہوتی ہے۔

میں کس کر لمبی چوٹی باندھا کرتی ،ماتھے پر بڑی بندی، چٹکی بھر سندور اور ڈھیر ساری چوڑیاں۔ کبھی چست کپڑے نہیں پہنے تھے۔ جس نے مجھے نیوڈ ماڈلز کا بتایا اس نے کہا کہ وہ ہم تم جیسی ہوتی ہیں۔

تب جوان تھی،لگا کر لوں گی۔ شروع میں کپڑوں کے ساتھ ماڈلنگ کرتی۔ ساڑھی یا شلوار کرتی پہن کر ،آنچل ذرا ادھر سے ادھر نہیں ہونے دیتی تھی۔

تب وہ بھی آسان نہیں لگتا تھا۔

گھنٹوں بغیر ہلے جلے بیٹھے رہنا ہوتا، ہاتھ پاؤں کام کرنا بند ہو جاتے یعنی سن پڑ جاتے۔

الگ الگ طرح سے بٹھایا جاتا،کئی مرتبہ نسیں کھنچ جاتی ۔اکثر مجھ سے بام کی مہک آتی۔

 یہ سفر آسان نہیں تھا۔

یوپی کی کرشنا کی 14 سال کی عمر میں شادی ہو گئی ۔شوہر کی دوسری شادی تھی۔

پہلی بیوی سے تین بچے تھے۔ چھوٹی سی کرشنا کو اماں پکارتے ۔

بعد میں خود کے 2 بچے ہوئے۔ بات چیت کرتےہوئے جب بھی بچوں کا ذکر آتا،کرشنا انہیں 5 ہی گنتی کہتی ہیں۔ بچوں کو بریڈ ،جیم دینے کا خیال سب مائیں نہیں کرپاتیں میں انہیں بس بھرا پیٹ سوتے دیکھنے کیلئے کام کرتی رہی اور اب ان کے شادی بیاہ کیلئے کررہی ہوں۔ جب پورے کپڑوں میں کام کرتی تھی تو پیسے کم ملتے تھے۔

ایک دن کے 100روپے، ہاں نیوڈ میں 220 روپئے ملتے تھے۔ اس لئے میں یہ بھی کرنے لگی۔ اب دن بھر کے 500 روپے ملتے ہیں۔ جب پہلی کمائی لیکر گھر آئی تو شوہر خوش ہونے کے بجائے سلگ اٹھا۔ وہ روز 12 گھنٹے ،پورے مہینے کے کام کے بعد 1500 کماتا ،میں 2200 لیکر آئی تھی۔ اس نے شک کرنا شروع کر دیا۔ میرا جانا بند ہو گیا۔ تبھی کالج سے ایک سر آئے۔ اپنی گاڑی میں بٹھا کر میرے آدمی کو کالج لے گئے۔ سب دکھایا،تب جاکر اسے یقین ہوا۔ ایک روز کام سے لوٹتے ہوئے وہ میرے لئے چھتری لے آیا۔ کہا دھوپ میں جاتی ہے، یہ ساتھ رکھ،کرشنا ہنستے ہوئے یاد کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •