سعادت حسن منٹو کی شادی کیسے ہوئی؟ منٹو کے اپنے قلم سے
ایک غلیظ کھولی حاصل کرنے کیلئے مجھے کتنے جتن کرنے پڑے تھے۔ مالک مکان کو معلوم ہو گیا تھا کہ فلم کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ بڑی سفارشوں کے بعد وہ انجام کار راضی ہوا تھا۔
میں سخت پریشان ہوا۔ میں یہ خبر سننے کیلئے بالکل تیار نہیں تھا۔ میرا دماغی توازن اس وقت اور بھی زیادہ بگڑ گیا۔ جب والدہ نے کہا کہ انہوں نے بات پکی کر دی ہے۔ میں نے ان سے کچھ نہ کہا اور دن رات اٹھتے بیٹھتے اس سوچ میں غرق رہنے لگا کہ یہ مصیبت جو میں نے خود مول لی ہے، اس سے نجات کیسے ہوگی ۔۔۔۔۔۔
بہت سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اب سوچ بچار بالکل فضول ہے۔ ہرچہ بادا باد کہہ کر مجھے اپنی کشتی اس منجدھار میں ڈال دینی چاہیئے۔
میں نے یہ فیصلہ تو کر لیا، مگر نکاح کی رسم کیلئے روپیہ کہاں سے آئے؟ یہ سوال بہت ہی پریشان کرنے والا تھا۔ کمپنی سے اب ایڈوانس ملنا بھی بند ہو گیا تھا۔ ادھر والدہ نے تاریخ مقرر کر دی تھی۔
میں نے کئی مرتبہ سوچا کہ بمبے سے بھاگ جاؤں، لیکن کسی غیر مرئی طاقت نے میرے پاؤں جکڑ رکھے تھے۔ ایک ہی صورت تھی کہ میں سیٹھ آرڈیشر سے ملوں اور ان سے اپنے نکاح کے اخراجات کے لئے کچھ روپے مانگوں۔
کمپنی کی طرف میرے قریب قریب ڈیڑھ ہزار روپے نکلتے تھے، اگر یہ مل جاتے تو سمجھئے میرا سب تردّد دور ہو جاتا ۔۔۔۔۔۔ بلکہ عیش ہو جاتے۔
میں آرڈیشر صاحب سے ملا۔ ان کو اتنی فرصت نہیں تھی کہ میری داستان غور سے سنتے۔ ٹہلتے ٹہلتے، جو کچھ میں نے کہا، بدرجہ مجبوری سنا۔ آخر میں مجھ سے کہا ’’دیکھو، کمپنی کی جو حالت ہے، وہ تم جانتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اگر حالت اچھی ہوتی تو ہم تمہاری شادی خود کر دیتے !‘‘
یہ صحیح ہے کہ جب کمپنی کی حالت اچھی تھی تو وہ اپنے ملازموں کو بے دریغ مالی امداد کیا کرتے تھے۔ بڑے مخیر تھے، مگر اب ان کا ہاتھ اس قدر تنگ تھا کہ انہیں اس احساس سے بڑی الجھن ہوتی تھی کہ وہ کسی سائل کی مدد نہیں کر سکتے۔
میری مایوسی کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں۔ میں چلنے لگا تو انہوں نے مجھے آواز دی اور پاس بلا کر کہا ’’میں صرف اتنا کر سکتا ہوں کہ تمہیں ضروری چیزیں لے دوں ۔۔۔۔۔۔ جاؤ حافظ جی کو بلا لاؤ۔‘‘
میں حافظ جی کو ان کے پاس لے کر گیا تو انہوں نے دوکانوں کا پتہ ان کو بتایا۔ ایک چٹ پر لکھ کر دیا اور کہا ’’منشی منٹو کو اپنے ساتھ لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔ اور جو کچھ اسے چا ہیئے لے دو۔‘‘
میں حافظ جی کے ساتھ ہو لیا۔ ہم موٹر میں ایک بزاز کی دکان پر پہنچے وہاں سے دو ساڑھیاں لیں، سیٹھ آرڈیشر کے ذاتی اکاؤنٹ میں۔ دوسری دکان جوہری کی تھی۔ وہاں سے ایک آدمی میرے ساتھ کر دیا گیا، کیونکہ میں چاہتا تھا کہ لڑکی خود اپنے لیئے زیور پسند کر ئے۔
میں اور جوہری کا آدمی دونوں ’جعفر ہاؤس‘ پہنچے۔ لڑکی کی والدہ کو جن کو میں خالہ جان کہتا تھا، جوہری کے آدمی نے کچھ زیورات دکھائے۔ انہوں نے صرف ایک ہیرے کی انگوٹھی، موتیوں کی ’بوٹیاں‘ (کانوں کا زیور) ایک پنڈنٹ، دو طلائی چوڑیاں پسند کیں۔ میں نے خالہ جان پر بہت زور دیا کہ وہ چند اور زیورات بھی رکھ لیں، مگر وہ مجھ پر زیادہ بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے تھے۔ کاش میں نے ان سے کہہ دیا ہوتا کہ خالہ جان ایسا موقع مجھے پھر کبھی نہیں ملے گا۔ مجھے کمپنی سے ڈیڑھ ہزار روپیہ لینا ہے ۔۔۔۔۔۔ جاتے چور کی لنگوٹی نہ چھوڑیئے، مگر افسوس کہ اس رقم سے مجھے صرف چار پانچ سو روپے ہی وصول ہوئے، کیونکہ کمپنی میرے نکاح ہونے کے فوراً بعد مرحوم ہو گئی۔
اب نذیر صاحب نے میری ماہوار تنخواہ پھر چالیس روپے کر دی، جس سے کچھ ڈھارس ہوئی کہ شام کو بیئر کی بوتل کا سلسلہ جاری رہے گا۔
’نکاح‘ میرے لیئے ظاہر ہے کہ بہت ’مہلک‘ ثابت ہوا۔ کمپنی سے جو روپیہ لینا تھا وہ الگ غرق ہوا اور گھٹنا الگ زخمی ہوا۔
اس کی داستان بھی سن لیجئے ۔۔۔۔۔۔ بمبے میں کوئی دوست تھا نہ عزیز، بہن تھی، لیکن وہاں میرا حقہ پانی بند تھا۔ مجھے سارے کام خود ہی کرنا تھے۔ چند آدمیوں کو اطلاع دینا تھی کہ میرا نکاح ہو رہا ہے۔ چھوہارے اور الائچی دانے خریدنا تھے۔ بال کٹوانے تھے اور بس پر سوار ہو کر محاذ پر جانا تھا۔
شاہجہان محل ہوٹل کے مالک سید فضل شاہ کو رسم نکاح میں شرکت کرنے کی دعوت دے کر جب لوٹ رہا تھا تو پتھریلے فرش پر میرا پاؤں پھسلا ااس زور سے گرا کہ بے ہوش ہو گیا۔
میں زندگی میں صرف تین مرتبہ بے ہوش ہوا ہوں۔ سب سے پہلے اپنے نکاح پر سید فضل شاہ (مرحوم) کو دعوت شرکت دینے پر، دوسری مرتبہ اپنی والدہ کی اچانک موت پر، پھر اپنے لڑکے کی وفات پر۔
یہ گر کے بے ہوش ہو جانا بھی اچھا شگون تھا۔ چوٹ اس قدر شدید تھی کہ جب مجھے ہوش آیا اور میں سیڑھیاں اترنے لگا تو میری مضروب ٹانگ نے چلنے سے انکار کردیا۔ بڑی مشکل سے مارکٹ تک پہنچا۔ درد اس قدر تھا کہ ہر قدم پر بلبلا اٹھتا۔
خیر، چھوہارے اور الائچی دانے لیئے اور ماہم پہنچا۔ جعفر ہاؤس کی سیڑھیاں افتان و خیزاں طے کیں اور نکاح کی محفل میں جا پہنچا۔ پندرہ بیس اشخاص موجود تھے۔ میں گاؤتکیئے کا سہارا لے کر بیٹھ گیا۔ زخمی ٹانگ دوہری نہیں ہوتی تھی۔ اس لیئے اسے الگ لیٹے رہنے دیا، گو یہ بڑی بدتمیزی تھی، مگر جب قاضی مرگھے (عجیب و غریب نام ہے) نے مجھے دو زانو بیٹھنے کیلئے کہا تو جی کڑا کر کے اور درد کی ساری ٹیسیں پی کر ان کا حکم ماننا ہی پڑا۔
ایجاب و قبول کی رسم ختم ہوئی تو میری جان میں جان آ ئی ۔ ٹانگ سیدھی کی درد کے کئی اور گھونٹ پئے۔ مبارکبادیں وصول کیں اور لنگڑاتا لنگڑاتا اپنے گھر پہنچا۔ مٹی کے تیل کا لیمپ روشن کیا اور کھٹملوں بھری کھاٹ پر دراز ہو کر سوچنے لگا کہ آیا سچ مچ میرا نکاح ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ میں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں کہ جیب میں چھوہارے اور الائچی دانے ہونے اور گھٹنے کی چوٹ کے باوجود مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ میری زندگی کا اتنا بڑا حادثہ وقوع پذیر ہو چکا ہے۔
میں قریب قریب شادی شدہ تھا۔ فرق بس صرف اتنا تھا کہ میری بیوی میری نو روپے ماہوار کی کھولی میں موجود نہیں تھی۔ قانون کی رو سے میں جب بھی چاہتا اسے اپنے ساتھ چلنے کوکہہ سکتا تھا، لیکن اتنی ہمت کہاں تھی۔ اسے کھلاتا کہاں سے، سامنے وا لے ایرانی کے ہوٹل سے اور وہ بھی ادھار۔ رکھتا کہاں ؟ کھولی میں تو ایک سے زائد کرسی کیلئے بھی جگہ نہیں تھی۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے




