سعادت حسن منٹو کی شادی کیسے ہوئی؟ منٹو کے اپنے قلم سے
رخصتی کی تاریخ میں جب صرف دس دن باقی رہ گئے تو میں چونکا۔ ایک دم اٹھا اور دفتر کے پاس ہی یعنی اسی بلڈنگ میں ایک فلیٹ پینتیس روپے ماہوار پر لے لیا۔ چالیس مجھے مسٹر نذیر سے ملتے تھے۔ میں نے ان سے کہہ دیا کہ ہر ماہ کرایہ ادا کر دیا کریں۔ اب گویا مجھے پانچ روپے ماہوار پر اپنا اور اپنی بیوی کا پیٹ پالنا تھا۔
میں نے فلیٹ کو اچھی طرح صاف کیا۔ اس کا چوبی فرش اور دروازے جو بے حد غلیظ تھے سوڈا کاسٹک سے صاف کیئے اور تالا لگا کر سینے میں ایک موہوم امید لئے نانو بھائی ڈسائی کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی کہانی کے معاوضے اور اپنی تنخواہوں کے بقایا کا تقاضا کیا ۔۔۔۔۔۔ سیٹھ صاحب نے مجھے صا ف جواب دیا ہے کہ وہ مجھے ایک ڈیڑھیا (پیسہ) بھی نہیں دے سکتے۔
میں نے جب یہ ٹکا سا جواب سنا تو میں بھنا گیا۔ غصے میں آ کر میں نے سیٹھ کو گالیاں تک دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے باہر نکال دیا گیا ۔۔۔۔۔۔ میں نے فوراً بابو راؤ پٹیل (ایڈیٹر فلم انڈیا) کو ٹیلی فون کیا۔ سارا ماجرا سنا کر میں نے ان سے کہا کہ اگر نانو بھائی نے میرا حساب نہ چکایا تو میں بھوک ہڑتال کر دوں گا۔ میرا یہ فیصلہ اٹل تھا۔
بابو راؤ جو میری ہٹ سے واقف تھا بہت مضطرب ہوا۔ اس نے فوراً نانو بھائی کو ٹیلی فون کیا اور اس سے کہا کہ اگر منٹو نے بھوک ہڑتال شروع کی تو سارا پریس اس کا ساتھ دے گا۔ اس لیئے اسے چا ہیئے کہ فوراً اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لے۔
ٹیلی فون پر تو کوئی فیصلہ نہ ہوا، لیکن جب بابو راؤ، نانو بھائی سے اس کے دفتر میں ملا تو مجھے بلایا گیا۔ نانو بھائی نے مجھ سے معافی مانگی، میرا اس سے آخر فیصلہ یہ ہوا کہ میں آدھی رقم پر راضی ہو جاؤں اس لیئے کہ کمپنی کی حالت نازک ہے۔

مجھے نو سو روپے کا ایک پوسٹ ڈیٹڈ چیک دیا گیا، چند روز گزرنے کے بعد جب میں نے نانو بھائی ڈسائی کو ٹیلی فون کیا کہ تاریخ آ گئی ہے اور میں چیک کیش کرانے جا رہا ہوں تو اس نے کہا، پہلے مجھ سے مل لو۔
میں اس سے ملا تو اس نے مجھے بڑے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ بینک میں روپیہ نہیں ہے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں پانچ سو روپے نقد پر راضی ہو جاؤں۔ میں فوراً راضی ہو گیا، حالانکہ میری حق حلال کی کمائی کے اٹھارہ سو روپوں میں سے پہلے نو سو ہوئے اور اب پانچ سو، لیکن میں مجبور تھا۔ رخصتی میں اب صرف چار دن باقی تھے۔
میں نے کمپنی کی موٹر لی، مگر اس میں صرف پٹرول پمپ تک جانے کیلئے پٹرول تھا۔ میں نے اپنی گرہ سے پٹرول ڈلوایا اور ڈرائیور سے کہا، سیدھے مارکیٹ چلو۔ پانچ سو روپے جیب میں تھے۔ میں نے ا ن سے اپنی دولہن کیلئے ساڑھیاں وغیرہ خریدیں ۔۔۔۔۔۔ جب گھر پہنچا تو جیب قریب قریب خالی تھی اور گھر تو بالکل خالی تھا۔ ٹوٹی ہوئی کرسی تک نہ تھی۔
میرے وہاں ایک بزرگ دوست تھے۔ حکیم محمد ابو طالب اشک عظیم آبادی، بڑے مرنجاں مرنج آدمی تھے۔ میں نے جب ان سے ذکر کیا کہ دولہن لا رہا ہوں مگر گھر خالی ہے تو وہ مجھے فرنیچر کی ایک دکان پر لے گئے۔ اس کا مالک ان کو اچھی طرح جانتا تھا، چنانچہ مجھے آسان قسطوں پر کچھ سامان مل گیا۔ مثال کے طور پر لوہے کی اسپرنگوں والی دو چارپائیاں، برتن وغیرہ رکھنے کی ایک الماری، ایک سنگار میز (یہ سیکنڈ ہینڈ تھی) ایک لکھنے والا میز اپنے لیئے ایک کرسی وغیرہ وغیرہ۔
جب میں نے یہ سامان فلیٹ میں سجانے کی کوشش کی تو مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ دو جہازی سائز کے کمرے تھے۔ ان میں یہ فرنیچر دکھائی ہی نہیں دیتا تھا، چنانچہ میں نے دو مونڈھے خریدے اور وہ بھی ایک کونے میں جما دیئے جو دوسرے فرنیچر کی طرح گم ہو گئے۔
ادھر ادھر سے مجھے جو چیز ملی، میں نے کہیں نہ کہیں ٹکا دی ہر چیز ٹکانے کے بعد میں کمرے پر نظر ڈالتا اور خود کو یہ فریب دینے کی کوشش کرتا کہ اب فلیٹ بھرا بھرا نظر آتا ہے۔
روز محشر آخر آ پہنچا۔ صبح مصور کے دفتر میں بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔ والدہ اب میرے پاس آ گئی تھیں۔ ان سے میں یہ کہہ کر آیا تھا کہ برات کا بندوبست کرنے جا رہا ہوں۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


