سعادت حسن منٹو کی شادی کیسے ہوئی؟ منٹو کے اپنے قلم سے


Baburao-Patel-with-his-wife-and-editorial-assistant,-Sushila-Rani-Patel

مسٹر نذیر نے مختلف لوگوں کے نام رقعے بھیج دیئے تھے جن میں سے اکثر فلم لائن سے وابستہ تھے۔ میری برات گویا ایک فلمی برات تھی۔ میاں کاردار، ڈائریکٹر گنجالی اس زمانے کے مشہور ایکٹر، ای بلی موریا او ڈی بلی موریا، نور محمد چاولی اور مرزا مشرف، بابو راؤ پٹیل اور پہلی رنگین فلم کی ہیروئن پدما دیوی، یہ سب شریک ہو رہے تھے۔

بابو راؤ پٹیل کو جب معلوم ہوا تھا کہ منٹو کے گھر میں صرف اس کی ماں ہے جسے اکیلی مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا پڑے گی تو اس نے پدما دیوی کو ہمارے ہاں بھیج دیا تھا کہ وہ میری والدہ کا ہاتھ بٹائے۔

میں نے کرائے پر کرسیاں منگوا لی تھیں اور پاس والے ایرانی رستوران سے ومٹو کی بوتلیں۔ اس پر جو خرچ اٹھتا وہ میں اطمینان سے ادا کر سکتا تھا، اس لیئے مجھے اس طرف سے کوئی تردد لاحق نہیں تھا، لیکن میں اس تکلیف دہ سوچ میں غرق تھا کہ گھر بار چلے گا کیسے۔

میں دفتر میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ ’ماہم‘ سے میری بہن کا ٹیلی فون آیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا، کہو کیا حال ہے ۔۔۔۔۔۔ میں نے جواب میں آغا حشر کا مشہور فقرہ دہرایا۔ ’’شیر لوہے کے جال میں ہے۔ عجب مخمصے میں گرفتار ہوں۔ برات کی تیاریاں کر رہا ہوں، لیکن جیب میں صرف ساڑھے چار آنے ہیں۔ چار آنے میں سگریٹ کی ڈبیا آ جائے گی۔ دو پیسے کی ماچس ۔۔۔۔۔۔ چلو قصہ پاک ۔۔۔۔۔۔!

میری بہن بے چاری میری مدد کرنے سے مجبور تھی، اس کے شوہر نے تو اس کو اتنی اجازت بھی نہیں دی تھی کہ وہ رخصتی کی رسم میں شریک ہوتی اور اپنے بھائی کو دولہا بنا ہوا دیکھتی، پھر بھی اس نے مجھ سے کہا ’’سعادت، میں تمہارے واری جاؤں۔ ذرا کی ذرا اپنی موٹر میرے گھر کے سامنے روکنا ۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں!‘‘

میں نے اور زیادہ گفتگو نہ کی، کیونکہ وہ بہت زیادہ جذباتی ہو رہی تھی۔ ٹیلی فون کا سلسلہ منقطع کرنے کے بعد میں اٹھا اور پڑوس کے سیلون سے بال کٹوائے ۔۔۔۔۔۔ حمام میں غسل کیا ۔۔۔۔۔۔ یہ سب ادھار۔

شام تک میں نے سگریٹ کی ساری ڈبیا پھونک ڈالی۔ اب میری جیب میں صرف ایک ماچس تھی، وہ بھی آدھی۔

کپڑے تبدیل کر کے میں نے وہ سوٹ پہنا جو مجھے سسرال سے ملا تھا۔ ٹائی باندھی۔ آئینے میں جب میں نے اپنی شکل دیکھی تو ایک کارٹون سا نظر آیا۔ میں خوب ہنسا۔

بتیاں جلنے سے پہلے پہلے سارے براتی جمع ہوئے۔ پدما دیوی اور میری والدہ نے سب کی خاطر تواضع کی۔ اس کے بعد یہ قافلہ جو دس پندرہ موٹروں پر شامل تھا ماہم کی طرف روانہ ہوا۔

میں مانو بھائی ڈسائی کی موٹر میں تھا۔ بغیر سہرے کے۔ سر سے ننگا، بالوں کی لمبائی معقول تھی۔ جب ہم جعفر ہاؤس کے قریب پہنچے تو میں نے ڈرائیور سے کہا تھوڑی دور آگے لے جائے۔ باہر فٹ پاتھ پر میری بہن کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ جب اس نے میرے سر پر محبت کا ہاتھ پھیرا، دعائیں اور مبارکباد دی تو میں جلدی سے واپس موٹر میں بیٹھ گیا اور ڈرائیور سے کہا کہ بیک کرے۔

خالہ جان نے اوپر کھلے ٹیرس پر دعوت کا انتظام کیا تھا جو بہت اچھا تھا۔ رفیق غزنوی، ڈائریکٹر نندا اور آغا خلش کاشمیری کے درمیان بڑی پرلطف نوک جھونک ہوتی رہی۔ سب نے ڈٹ کر کھایا، کیونکہ کھانا بہت عمدہ اور لذیذ تھا، کشمیریوں کی روایت کے عین مطابق۔

کھانا کھانے کے بعد خوش گپیاں شروع ہوئیں۔ آغا خلش صاحب نے ایک پرمزاح نظم پڑھی جو انہوں نے فی البدیہہ کہی تھی۔ یہ سلسلہ ختم ہوا تو مجھے نیچے بلایا گیا اور دولہن کو میرے سپرد کر دیا گیا۔

یہ سب مجھے ایک خواب سا معلوم ہوتا ہے۔ دماغ میں جانے کتنے خیالات تلے اوپر آ رہے تھے۔ دولہن میرے ساتھ تھی۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور لرزاں آواز میں کہا۔ ’’چلو بھئی۔‘‘

منٹو کی صاحبزادی نزہت منٹو اپنے بیٹے کی ہمراہ

ہم نیچے اترے۔ بلی موریا نے اپنی کار پیش کی۔ والدہ میرے ساتھ تھیں۔ پہلے انہوں نے دولہن کو بٹھایا، اس کے بعد آپ بیٹھیں، پھر مجھے اندر آنے کو کہا ۔۔۔۔۔۔ وہ میرے اور دولہن کے درمیان تھیں۔ گھنٹوں پر مخملیں جزدان میں لپٹا ہوا قرآن تھا۔ میری اور دولہن کی گردن ہاروں سے لدی پھدی تھی۔ موٹر اسٹارٹ ہوئی تو والدہ نے زیرلب کوئی آیت پڑھنا شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔ میں اب کسی قدر سنبھل چکا تھا، میرا جی چاہتا تھا کہ دولہن سے ذرا چھیڑ خانی کروں مگر ۔۔۔۔۔۔ والدہ بیج میں بیٹھی تھیں اور پھر کلام پاک پڑھ رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔ میری یہ شریر خواہش وہیں کی وہیں سرد ہو گئی۔

مجھے معلوم نہیں راستہ کیسے اور کتنے عرصے میں کٹا۔ بس ایک دم گھر آ گیا۔ وہ بلڈنگ جو بہت پرانی وضع کی تھی جس کی ساخت میں لکڑی زیادہ اور اینٹیں کم استعمال ہوئی تھیں اس کے متعلق مشہور تھا کہ کسی زمانے میں یہ بمبئی کا بڑا عالی شان ہوٹل ہوا کرتا تھی، اسے ہزہائی نس سر آغا خان نے ایک دوست سے شرط میں جیتا تھا۔

والدہ دولہن کے ساتھ اوپر فلیٹ میں چلی گئیں۔ میں نے اپنے دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔ اتنے میں مرزا مشرف اس ٹرک میں آن پہنچا جس میں دولہن کا جہیز تھا۔ کھانے کا میز، کرسیاں، اسپرنگوں والا پلنگ، تپائیاں، صوفہ سیٹ اور صندوق وغیرہ۔

یہ اسباب اتروایا تو مرزا مشرف کا ٹرک والے سے کرائے پر جھگڑا ہو گیا جو کافی دیر تک جاری رہا۔ مرزا مشرف نے اپنے مسخرے پن کا جی بھر کے مظاہرہ کیا۔ آخر جب یہ جھگڑا نپٹا اور سارا سامان فلیٹ میں پہنچ گیا اور عارضی طور پر ادھر ادھر ٹکا دیا گیا تو مرزا مشرف نے جاتے ہوئے میرے کان میں کہا ’’منے، دیکھو، ہماری ناک نہ کٹ جائے کہیں!‘‘

میں تھک کر چور چور تھا۔ حلق سوکھ کے لکڑی ہو رہا تھا،اس لیئے مسخرے مرزا کے اس مذاق کا کوئی جواب نہ دے سکا ۔۔۔۔۔۔ دوسرے دن میں نے محسوس کیا کہ میرے وجود کا ایک چوتھائی حصہ شوہر میں تبدیل ہو چکا ہے، اس احساس سے مجھے بہت اطمینان حاصل ہوا ۔۔۔۔۔۔ مجھے باہر بالکنی میں ایک رسی تنی نظر آنے لگی جس پر پوتڑے اور کلوٹ ٹنگے ہوئے تھے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6