ایک ان پڑھ دیہاتی گنوار گلگتی کی باتیں!

ابھی آپ کو یہاں پرانی نسلوں میں جو اب دادا اور دادیاں ہیں یہ بات آپ کو نظر آئے گی کہ دونوں کے مذہب مختلف تھے۔ لیکن اس کے بعد کی نسل میں ایسے شواہد کم نظر آئیں گے۔ صاحب ایک بات سمجھ میں آئی ہے کہ اگر کوئی کسی کی قومیت پوچھتا ہے کہ کہاں سے آئے ہو تو یہ بری بات نہیں ہے لیکن اگر کسی جگہ لوگ آپ سے آپ کا مذہب پوچھتے ہیں تو یہ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ کسی سے اس کاوطن پوچھنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن مذہب عقیدہ پوچھنا۔ ۔ مجھے ایسے لگتا ہے جیسے کوئی اجنبی پہلی ملاقات پر ہی سلام کے بعد یہ پوچھے آپکی بیوی کا نام کیا ہے؟ یہ تو ذاتی باتیں ہوتی ہیں۔ اسی لیے مجھے ہنزہ ، غذر اور ادھر سکردو کی جانب نوربخشی لوگ بہت اچھے لگتے ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ آپ کا عقیدہ کیا ہے۔ وہ بس یہ کہتے ہیں کہ خود جیو اور ہمیں جینے دو۔ خود خوش رہو اور ہمیں خوش رہنے دو۔
گاڑی کے چھوٹے سے کیبن میں خاموشی بھرگئی۔ تھوڑی دیر بعد میں نے گھبرا کر ہلکا سا شیشہ نیچے کیا۔ باہر سے شاں شاں ہوا کاایک ریلا اندر آیا جیسے اندر بیٹھی خاموشی کی بلی کو ہش ہش کر کے بھگا رہا ہو۔
صاحب یہ سڑک بڑی خطرناک ہے۔ شمس نے یہ کہہ کر خامشی کو حتمی مات دی
کیسے شمس ، یہ تو اتنی اچھی سڑک ہے۔ کوئی جمپ نہیں کوئی کھڈا نہیں؟ میں نے حیرت سے پوچھا

نہیں صاحب اس حوالے سے نہیں کہہ رہا۔ یہ جو مہمان آتے ہیں ان کی ڈرائیونگ سے ڈر لگتا ہے۔ یہ سڑک بہت خطرناک ہو جاتی ہے۔ گلگت سے میرا گاؤں پچیس منٹ کی مسافت پر ہے لیکن میں بہت بہت آہستہ آہستہ اور احتیاط سے گاڑی چلاتا ہوا جاتا ہوں۔ شروع میں تو مجھے سمجھ ہی نہیں آتی تھی۔ مجھے یاد ہے ابتدا میں میں جب اس سڑک پر تین تین گاڑیوں کو ایک دوسرے کے متوازی دوڑ لگاتے اور اوور ٹیک کرتے دیکھتا تھا تو قسم سے یہی سوچتا تھا کہ یہ کسی چور ڈاکو کا پیچھا کر رہے ہیں جو خدا نخواستہ ان کا کوئی بچہ اغوا کر کے لے جا رہا ہے۔ پھر جب یہ منظر تواتر سے دکھائی دینے لگا تو سمجھا کہ یہ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں۔ ابھی بھی گاؤں تک توبہ استغفار پڑھتا ہوا جاتا ہوں۔
ہم گنیش کو عبور کر کے عطاآباد کی جانب رواں تھے۔ احمد آباد کا گاؤں دریا پار بائیں جانب تھا
توبہ صاحب میں تو کبھی ایسی جگہ گھر نہ بناؤں۔ یہ ہنزہ والے دلیر بھی ہیں اور محنتی بھی بہت ہیں
کیوں شمس، آپ کا گھر بھی تو پہاڑوں میں ہی ہے تو پھر وہاں آپ کیسے رہتے ہیں؟میں نے پوچھا
نہیں میرا گھر پہاڑوں میں ضرور ہے لیکن پہاڑ سر پر اس طرح سے معلق تو نہیں ہے۔ ہمارے گاؤں سے دوسری جانب دریا کے پار قراقرم ہائی وے ہے جس کے سر پر پہاڑ ہے۔ پوری زندگی گزر گئی جس رات بارش ہو صبح تک نہیں سو پاتا۔
کیوں شمس ؟ آپ کے سر پر پہاڑ تو نہیں ہے آپ سے تو قدرے دور ہی ہے میرا مطلب لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ تو نہیں ہوتا۔ میں نے پوچھا
گھر کو خطرہ نہیں ہوتا صاحب۔ میں ساری رات اس لیے نہیں سو سکتا کہ سامنے قراقرم ہائی وے پر گاڑیا ں گزرتی ہیں۔ جب کوئی گاڑی گزرتی ہے اٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں اور دعا کرتا ہوں یا اللہ اس کو محفوظ رکھنا۔ مسافر ہو گا۔ نہ جانے کہاں سے آیا ہو گا۔ تھکا ہوگا۔ کیا پتہ کھانا بھی نہ کھایا ہو۔ یا خدا آپ کی مہربانی اس کو محفوظ گزر جانے دینا۔ پھر لیٹتا ہوں کہ کسی اور گاڑی کی لائیٹ نظر آتی ہے۔ بس بارش کی رات اسی کشمکش میں گزر جاتی ہے۔

صاحب میں ڈرتا بہت ہوں اصل میں۔ ابھی بھی آپ کو پسو چھوڑوں گا تو واپسی پر رات ہو جائے گی۔ لیکن خیر ہے آج بیٹا ساتھ ہے۔
شمس اس سڑک پر تو امن ہی امن ہے۔ آپ کس بات سے ڈرتے ہو؟
نہیں نہیں صاحب وہ تو یہاں اللہ کا شکر ہے۔ میں کسی اور ڈر کی بات کر رہا ہوں۔
اور کس ڈر کی؟ میں نے حیرت سے شمس کی جانب دیکھا
صاحب وہ پریوں سے ڈرتا ہوں۔ ۔ شمس نے سنجیدگی سے کہا
ہائے میں صدقے (یہ میں نے دل میں کہا) شمس کیا مطلب پریوں سے ڈرتے ہو؟ تم سمجھتے ہو پریاں ہوتی ہیں؟
پہلے نہیں ڈرتا تھا۔ ویرانوں میں گھومتا تھا۔ ایک دفعہ ایک ویران نالے میں تھا کہ بزم کی آواز آئی۔۔۔
بزم کی؟ کیا مطلب بزم کی آواز آئی؟ میں نے شمس کو درمیان میں ٹوکا
بزم یعنی یہ جو ڈھول شہنائی وغیرہ کی۔۔۔ پھر میں نے دیکھا اوپر پہاڑ کی ایک چوٹی پر پریاں تھیں جنہوں نے میری جانب کنکریاں پھینکیں۔ میں ڈر گیا۔ میرے حلق سے آواز نہیں نکلتی تھی۔ بڑی مشکل سے میں نے اتنا کہا کہ بڑے پتھر مت پھینکنا۔ ۔ بس پھر مجھے یاد نہیں میں گھر کیسے پہنچا اگلے دن تپ چڑھا اور ایک ہفتہ اس میں سلگتا رہا۔ بس اس کے بعد دل میں ڈر بیٹھ گیا ہے
ایک موڑ پر پسو گلیشئیر نظر آیا۔ شمس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔ سبحان اللہ کیسے بغیر کسی دیوار کے اللہ کا منجمد ڈیم کھڑا ہوا ہے۔
پسو آ گیا۔ شمس السلام نے بیٹے کے ساتھ صرف چائے پی۔ ایک پینا ڈول کی فرمائش کی کہ بیٹے کو کچھ ٹھنڈ لگ گئی تھی۔ اس کے سر میں درد تھا۔ شمس الاسلام چائے پیتا تھا۔ کن اکھیوں سے بیٹے کے چہرے کو دیکھتا تھا۔ اس کے چہرے پر تشویش تھی۔ درد کے باوجود بیٹے کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جو کسی نے اس کے چہرے پر مستقل پیوست کر دی تھی۔ (رب کریم کاش وہ مسکراہٹ ایسے ہی پیوست رکھے)
پھر باپ بیٹھا اٹھے اور گاڑی میں بیٹھ کر چل دیے۔
شمس اپنی روح کے ہمراہ چلا گیا۔
میں پسو ان میں سیب کے درخت کے نیچے بیٹھا یہ سوچ رہا ہوں کہ شمس کے ساتھ اپنی تعلیم اور اس کی ان پڑھی کا سودا کر لیتا تو۔۔۔
۔۔۔ ہم میں سے وہ کون ہوتا جو خسارے میں رہتا۔ ۔ کیونکہ یہ برابری کا سودا بہرحال ہر گز نہیں تھا!

