ایک ان پڑھ دیہاتی گنوار گلگتی کی باتیں!


ہوٹل کے لیے پنڈی سے خریدا ہوا سامان گلگت پہنچ چکا تھا۔ اب سامان کو پسو لے کر آناتھا۔ ایک سوزوکی ڈرائیور سے بات ہوئی۔ ڈرائیور کا نام شمس الاسلام فرض کر لیں۔ سامان کو سوزوکی پر لوڈ کرنے کے دوران میں اپنے اور ڈرائیور کے لیے چپس کے دوپیکٹ مع کوکا کولا کے دو ٹن پیک خرید کر لے آیا۔ سوزوکی روانہ ہونے کو تھی جب شمس الاسلام نے مجھے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ صاحب اپنا ایک بیٹا ہے ابھی حال ہی میں میٹرک پاس کیا ہے۔ انٹرمیڈیٹ کے فارم جمع کروانے گیا ہوا تھا ابھی وہ بھی اڈے پر آ گیا ہے۔ آپ کی اجازت ہو تو وہ بھی ساتھ چلا جائے۔ اس نے پسو نہیں دیکھا ہوا ذرا پسو دیکھ لے تفریح ہو جائے گی اس کی۔۔۔ شمس کے لہجے میں محبت سے بھرپور درخواست تھی۔

میں نے شمس کو کہا کیسی بات کرتے ہیں یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔ بلاؤ بیٹےکو۔

بیٹا بھی اڈے میں موجود کسی گاڑی کے پیچھے چھپا تھا جیسے ہی باپ کا اشارہ دیکھا ایک گاڑی کے پیچھے سے نمودار ہوا۔ وہ ایک گلگتی نقش و نگار لیے خوبصورت نوجوان تھا۔ مسکراہٹ اس کے چہرے پر جیسے کسی نے ہمیشہ کے لیے پیوست کر دی ہو۔ شمس کے بیٹے کے ہونٹ سنجیدگی تاثرات کی بناوٹ سے ہنوز نا آشنا تھا (رب کریم۔ ۔ کاش وہ ایسےہی ناآشنا رہیں)۔ وہ سوزوکی کے پچھلے حصے میں بیٹھ گیا۔

سفر شروع ہوا۔ ابھی اڈے سےنکلے ہی تھے کہ میں نے چپس کا پیکٹ کھولا اور شمس کی جانب بڑھایا۔ شمس نے پیکٹ کو دیکھا پھر بیک ویو آئینے کو دیکھا پھر پیکٹ کو دیکھا پھر بیک ویو آئینے کو دیکھا اور۔۔۔ بریک لگا دی۔

نیچے اترا اور پیکٹ پیچھے بیٹھے بیٹےکو دے کر آ گیا۔ سفر پھر شروع ہوا۔ میں نے دوسرا پیکٹ دیا اور معذرت کی کہ آپ کا بیٹا بعد میں آیا اس لیے تین پیکٹ نہیں لے سکا تھا۔

شمس بولے۔ ۔ صاحب نہیں نہیں کیوں شرمندہ کرتے ہو۔ ابھی آپ نے مجھے چپس دیے تو میں کھا لیتا لیکن آپکو پتہ ہے ناں پیچھے بیٹا بیٹھا ہو تو یہ کمبخت گلے سے نہیں اترتے۔ پھنس جاتے ہیں۔ وہ پیچھے بیٹھا ہے ناں صاحب اب وہ پیچھے بیٹھے بیٹھے چپس کھاتا رہے گا خوش ہوتا رہے گا میرا پیٹ بھرتا رہے گا۔ ۔ روح شاد ہوتی رہے گی۔

مجھے شمس الاسلام ایک دلچسپ آدمی دکھائی دینے لگا

Gulmit-Village

آپ کا نام خوبصورت ہے شمس۔ کس نے رکھا تھا یہ نام؟ میں نے پوچھاجب ہم دینیور کا قصبہ عبور کر چکے تھے

صاحب میرا یہ نام سات سال کی عمر میں مولوی صاحب نے رکھا تھا جب مجھے مدرسے داخل کرایا گیا

اور اس سے پہلے کیا نام تھا؟

کوئی نام نہیں تھا صاحب۔ شمس نے ایک پہاڑی موڑ کاٹتے ہوئے کہا۔ ماں باپ سادہ تھے انہوں نے ضرورت محسوس ہی نہیں کی۔ سات سال کی عمر میں مولوی صاحب پہلے آدمی تھے جنہیں میرے نام کی ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ بھلا اتنے بچوں میں میری شناخت کیسے کر سکتے تھے۔ پھر انہوں نے میرا نام شمس الاسلام رکھا۔ آج تک یہی چل رہا ہے۔

گاڑی قراقرم ہائی وے پر رواں تھی۔ نومل کا حسین قصبہ بائیں جانب تھا۔

صاحب ادھر آپ کی طرف کو ئی الیکشن شلیکشن ہو رہے تھے۔ عمران خان آ گیا ہے۔ چلیں اچھا ہے جو بھی آئے ملک کے لیے اچھا ہو۔ شمس الاسلام نے کہا۔

ہاں شمس ایسا ہی ہے۔ شمس ایک بات پوچھوں؟

جی جی صاحب پوچھو ناں۔ لیکن میں ایک ان پڑھ گنوار دیہاتی ہوں میں کیا جواب دوں گا؟

شمس ایک اچھے حکمران کو آپ کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ میں نے شمس الاسلام کے عجز پر مبنی بیانئے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا

صاحب ایک اچھے حکمران کو بس نظام چالو رکھنا چاہیے اور۔ ۔ بس

نظام چالو رکھنا چاہیے اور بس۔ ۔ کیا مطلب؟ میں نے حیرت سے پوچھا

شمس الاسلام نے بیک ویو مرر میں دیکھا۔

قیاس یہی ہے کہ بیٹے کو دیکھا۔

ثبوت یہ ہے کہ آئینے کو دیکھ کر مسکرایا

Passu Cones and The Mighty KKH Gojal Hunza Gilgit

صاحب یہ بے وقوفانہ بات ہے اگر میں کہوں کہ مجھے حکومت نوکری دے۔ یہ بے قوفانہ بات ہے اگر میں یہ کہوں کہ میں غریب ہوں اس لیے حکومت میرے گھر پیسے دے۔ میرے ہاتھ پاؤں ٹوٹے ہوئے نہیں ہیں، پچیس سال سے مزدوری کر رہا ہوں۔ نظام چالو رکھنے سے میری مراد یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت کو کنٹرول میں رکھے اور امن و امان ہو۔ یہ دو باتیں اگر ہو جائیں تو ہم ہارنے والے نہیں ہیں۔ پٹرول زیادہ ہو جائے تو مزدوری میں سے گاڑی کا پٹرول نکالیں تو مزدوری کم ہو جاتی ہے اور مزدوری کی رقم مزید اس لیے کم پڑ جاتی ہے کہ گھر کا سودا سلف سب مہنگا ہو جاتا ہے۔ پٹرول کی قیمت کم ہو تو سب نظام چلتا ہے۔ امن و امان ہو تو سب نظام چلتا ہے۔ یہ دونوں باتیں ہمارے بس میں نہیں ہوتیں یہ حکمران کے بس میں ہوتیں ہیں۔ اس لیے کہتا ہوں کہ حکمران جیسا بھی ہو بس نظام چالو رکھے۔ ہمارے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں ہم ہارنے والے نہیں ہیں۔

صاحب آپ نے پوچھا میں نے بتا دیا۔ لیکن آپ پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ میں ان پڑھ آدمی ہوں۔ پڑھے لکھے اور ان پڑھ میں وہی فرق ہوتا ہے جو دن اور رات میں ہوتا ہے۔

میں نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا، شمس آپ کا گاؤں چھموگڑھ ہے اور آپ کے ساتھ جلال آباد ہے۔ آپ کے گاؤں میں سنی رہتے ہیں اور ساتھ والے گاؤں میں شیعہ۔ تو کیسے تعلقات رہتے ہیں؟

صاحب صدیوں میں ہمیں تو کبھی پتہ نہیں چلا اس سب تقسیم کا۔ ہمارا باپ سنی ہوتا تھا تو ماں شیعہ۔ کبھی ماں اسماعیلی ہوتی تھی تو باپ شیعہ۔ کسی کو ذرا برابر پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ شادی کے بعد بھی میاں بیوی اپنے مذہب پر رہتے۔ ماں جماعت خانہ جا رہی ہوتی تو باپ مسجد۔ بچوں کا موڈ ہوتا تو کبھی جماعت خانے چلے جاتے تو کبھی مسجد۔ کسی کو کچھ پتہ نہ تھا کہ اس فرق کی بنیاد پر نفرت کی جا سکتی ہے حتی کہ جان بھی لی جا سکتی ہے۔ کسی کو کچھ معلوم نہ تھا۔ پھرسب کچھ میرے سامنے سامنے ہوا۔ اسی کی دہائی میں ساری بربادیاں اپنی نظروں کے سامنے ہوتی دیکھیں۔ رشتے ٹوٹتے دیکھے۔ بندے مرتے دیکھے۔ بڑا ظلم ہوا خدا کی قسم بڑا ظلم ہوا۔ کسی کا کھیل ٹھہرا اور ہمارا معاشرہ تقسیم ہو گیا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 180 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik