جانی بوجھی شاخ پہ جھولتی ناسفتہ کلی اور شوق کے پردے میں عریاں بھنورا


وہ: وہ اجنبی، اسی لیے اچھا لگتا ہے! سوری یار، میں تھوڑی اُلجھی ہوئی تھی۔
میں: ہوں! کلِین چِٹ؟
وہ: مجھے وہ لوگ پسند نہیں ہیں، جو چِپکو ہوں۔
میں: میں ہوں؟
وہ: نہیں!
میں: حالاں کہ ہوں۔
وہ: آپ نہیں ہیں۔ بلا وجہ فری ہونا، برا لگتا ہے۔
میں: یہی بات مجھے چیٹنگ سے روک رہی تھی۔ کہا ناں، تہذیب مار دیتی ہے، مزہ کرکرا کرتی ہے۔ تہذیب کی ایسی کی تیسی۔
وہ: کیا بات چیٹنگ سے روک رہی تھی؟
میں: یہی کہ چِپکو نہ لگوں، حالاں کہ چِپکو ہوں۔
وہ: نہیں یار، ایسے تھوڑی ہوتے ہیں، چِپکو۔
میں: کیسے ہوتے ہیں؟ اُن کے چہرے پر لکھا ہوتا ہے، چِپکو؟
وہ: ہاں ناں! اتنے بڑے بڑے حروف میں۔ آپ نہیں ہیں ایسے۔
میں: اگر لڑکا پیچھے پڑے تو چِپکو، اگر لڑکی پیچھے پڑے، تو؟
وہ:: چھِپکلی۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔ ویسے میرے بارے میں ایک بات جان لیں، میں بہت موڈی ہوں۔ کبھی کبھی میرا مزاج نہیں ملتا۔
میں: کس سے؟
وہ: خود سے۔
میں: اچھا ہے، خود سے مزاج نہیں ملنا چاہیے، دوسرے تنگ ہوں گے۔

وہ: کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتی ہوں؟
میں: پوچھیے۔
وہ: عجیب سا سوال ہے۔
میں: غریب بھی چلے گا۔
وہ: برا نہ مانیے گا، کبھی کبھی ہم ایسے سوال ہر کسی سے نہیں پوچھ سکتے۔
میں: تمہید چھوڑیے، سوال کیجیے۔
وہ: کوئی میرا فیس بک پروفائل پڑھ کر کیا تاثر لیتا ہوگا؟
میں: یہی کہ یہ خاتون ہے۔ ہا ہا ہا۔
وہ: سچ بتائیے نا!
میں: کچھ بھی نہیں؛ جب اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتی ہیں تو لگتا ہے، آزاد روح ہیں۔ لیلٰے بننا چاہتی تھیں، اور مجنوں بن کر جی رہی ہیں۔
وہ: واہ! آپ کمال ہیں۔
میں: نوازش!
وہ: ایک نارمل آدمی ایسا جواب نہیں دے سکتا۔
میں: ایب نارمل؟
وہ: ایب نارمل نہیں، ڈِفرنٹ، جینئَس۔ آپ عام مردوں کی طرح نہیں سوچتے۔
میں: جینئَس بھی تو ایب نارمل ہوتا ہے، اسی لیے خوش ہوتا ہوں، جب کوئی ایب نارمل کہے۔
وہ: ہا ہا ہا، جو بھی ہے، جانتی ہوں، زیادہ جینئَس مت سمجھیے گا، اپنے آپ کو۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔ مجھے چلنا چاہیے۔
میں: قسم سے یہی سوچ رہا تھا، کہ اب جانا چاہیے، لیکن اخلاقیات روک رہی تھیں۔
وہ: ہائے تمیز داری!
میں: باقی پھر، نو تھینکس۔ آیندہ میں پہل کروں گا؛ یعنی چِپکو، بائے! ہیو آ نائس ڈے۔
وہ: خوشی سے؟ آئی لک فارورڈ ٹو

باقی آنکھ مچولی پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran