جانی بوجھی شاخ پہ جھولتی ناسفتہ کلی اور شوق کے پردے میں عریاں بھنورا
چھہ اکتوبر دو ہزار گیارہ:
وہ: ہیلو! ہائے! بِِزی؟ ڈونٹ وری، آئی وونٹ کال یو؛ چِپکو۔
میں: ہائے! ہیلو! کچھ ٹائپ کر رہا تھا؛ اس لیے وقت پر نہ دیکھ سکا۔
وہ: وضاحت کی ضرورت نہیں، اِٹس فائن۔
میں: کیا ہورہا ہے؟ اتنے دن دیکھتا رہا، لاگ اِن نہیں دِکھیں؟
وہ: بہت نیند آرہی ہے۔
میں:: سو جائیں۔
وہ: کیا ہوا؟
میں: آپ کو نیند آرہی ہے ناں!
وہ: آپ نے کہا سو جاو۔
میں: سو گئیں؟ اتنی تابِع فرمانی! کہاں تھیں اتنے دِن سے؟
وہ: آپ انتظار کر رہے تھے؟
میں: جی!
وہ: واقعی؟
میں: واقعی۔
وہ: ہاؤ سویٹ!
میں: دن بھر بوریت رہی، اس لیے آپ سے بات کر کے توجہ بٹانا چاہ رہا تھا۔
وہ: ہوں! کل بھی خاصی تھک گئی تھی؛ ویسے آن لائن کم آتی ہوں۔ ہر طرف سے لائٹس فلیش ہونے لگتی ہیں۔ آئی کانٹ ہینڈل اِٹ؛ سمجھ نہیں آتا کس کس کو جواب دوں۔
میں: جس سے بات نہ کرنی ہو، اس کو جواب ہی نہ دیں، یا آپ جینڈر کے خانے میں ”میل“ لکھ لیں۔
وہ: ہا ہا ہا، اتنی بے قدری بھی نہیں ہوں میں۔ مگر یار، اِٹس اری ٹیٹنگ؛ کچھ لوگ تو اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں، آئی مِین، کم آن، ہر کسی کی اپنی لائف ہے۔ واے ڈُو پِیپل ایکسپیکٹ سو مچ؟
میں: یہاں ہلکی بارش ہورہی ہے، آپ جانتی ہیں، جب بارش آئے، تو بجلی چلی جاتی ہے؟ ایک وقت میں ہمیں تمام نعمتیں نہیں ملتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نو اکتوبر دو ہزار گیارہ:
میں: تو! چِپکو ہئیر۔
وہ: ہائے! ہاؤ آر یو؟
میں: اُس دن بارش ہوگئی اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ آئی ایم فائن ایز آل ویز۔
وہ: اور؟
میں: آج پھر بارش نہ ہو جائے، اِس ڈر میں ہوں۔
وہ: آئی لَو بارش۔
میں: آئی ہیٹ لوڈ شیڈنگ۔ بارش کا سن کر کپکپی لگ گئی۔
وہ: آپ لوگوں کے یہاں خاصی نا انصافی ہوتی ہے۔
میں: کیسے کامریڈ؟
وہ: لوڈ شیڈنگ! اِٹس رانگ۔
میں: ویسے ہمارے یہاں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی۔
وہ: تو؟
میں: بارش کی وجہ سے، اُس دن کوئی فالٹ تھا۔
وہ: اوہ!۔۔۔۔ مجھے نیند آرہی ہے، جی۔
میں:: گُڈ نائٹ!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تئیس اکتوبر دو ہزار گیارہ:
میں: میں نے آپ سے اپنا کوئی مسئلہ ڈسکس کرنا ہے؛ کب ملو گی اجنبی؟
وہ: اچھا! ٹھیک ہے، اس وقت تو نہیں، میں آپ کو جلد ہی بتاتی ہوں کہ کب۔ از اٹ او کے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتیس اکتوبر دو ہزار گیارہ:
وہ: سلام۔
میں: وعلیکم السلام۔ اِس وقت؟
وہ: ہا ہا ہا، کیوں؟
میں: ایویں ای۔
وہ: دراصل میں گھر میں تھی، نیٹ کھولا تو آپ کو دیکھا؛ بہت دنوں سے بھاگم دوڑی میں تھی؛ آپ یقیناً یہ سمجھے ہوں گے، کہ میں آپ کو نظر انداز کر رہی ہوں۔ سوری فار ڈیٹ۔
میں: نہیں تو۔۔۔ میں خود ہی گم تھا۔
وہ: خیریت؟ آپ اُس دن کچھ کہنا چاہتے تھے!
میں: ہوں! کچھ نہیں، اُس دن ڈِپریس تھا، اب ٹھیک ہوں۔
وہ: ہوں! تو آپ اس متعلق بات نہیں کرنا چاہتے، پھر سے ڈِپریشن ہوگیا تو؟
میں: نہیں! میں بات نہیں کرنا چاہتا، پھر کبھی۔
وہ: سوچ لیں۔
میں: سوچ لیا، انجام ہی کیوں؟
وہ: اگر مجھے زرا بھی اندازہ ہوتا، کہ آپ ڈِپریس ہیں تو وقت نکال لیتی؛ آئی ایم سوری یار۔
میں: کوئی بات نہیں، رات گئی بات گئی۔
وہ: ویسے، یہ میرا موسٹ ڈِس لائک ایکسپریشن ہے، رات گئی بات گئی۔ آپ چپ ہوگئے؟
میں: اِس وقت بچے بغل میں بیٹھے کَہ رہے ہیں، ”ابو! کمپیوٹر کے سامنے سے کب اُٹھیں گے؟ ابو؟ اوں اوں“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکتیس اکتوبر دو ہزار گیارہ:
وہ: کین آئی ڈِسٹرب یو؟
میں: یُو ڈِڈ آل ریڈی۔
وہ: تو آپ کَہ دیں، کِہ کوئی گھر پہ نہیں ہے۔
میں: گھر پہ ہوں۔
وہ: پکا؟
میں: تو؟
وہ: ایسے ہی؛ آپ کی یاد آ گئی۔
میں: اللہ! مر ہی نا جائے چِپکو ۔۔۔ میرے ٹیکسٹ لیٹ ہیں یا جواب سوچنے پڑتے ہیں؟ اب آپ ڈِسٹرب کررہی ہیں، مطلب خاموشی ڈِسٹرب کررہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یکم نومبر دو ہزار گیارہ:
وہ: سوری یار! میں سوگئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تئیس دسمبر دو ہزار گیارہ:
وہ: (اسمائلی)
میں: زہے نصیب! کیسی ہیں؟
وہ: گڈ! اینڈ یو؟
میں: خوب صورت! ایک مدت کے بعد ملاقات ہوئی۔
وہ: ہاں! صحیح کہا۔ آپ تو مجھ سے بھی مشکل باتیں کرتے ہیں۔
میں: کیسے؟
وہ: بس یونھی۔
میں: ہوں! فرمائیے؟
وہ: آپ پہیلیاں بجھواتے ہیں۔ ایک بات پوچھوں؟
میں: جی! صرف ایک؟
وہ: فی الحال ایک!
میں: فوراً پوچھیے۔
وہ: محبت کی حقیقت ہے یا یہ محض پرکشش سراب ہے؟
میں: محبت ایک عادت ہے۔
وہ: وضاحت کیجیے۔
میں: ہمیں کچھ لوگوں کی عادت ہوجاتی ہے؛ ہم کہتے ہیں، وہ ہمیں اچھے لگتے ہیں؛ کچھ عرصہ دُور رہیں تو عادت کم ہوجاتی ہے؛ پھر جب وہ نزدیک آئیں تو عادت جاگ جاتی ہے۔ کیا آپ سیگرٹ پیتی ہیں؟
وہ: نہیں تو!
میں: شراب؟
وہ: بالکل بھی نہیں!
میں: کون سی عادت ہے؟
وہ: محبت!
میں: کس سے؟
وہ: سب سے؛ زندگی سے؛ خود سے؛ اپنے بچوں سے؛ خوشیوں سے؛ رنگوں سے؛ مردوں سے۔ ہا ہا ہا۔
میں: روحوں سے؟ کہ جسموں سے؟
وہ: دونوں سے! روح سے بھی۔
میں: ہوں! روح سے بھی!
وہ: اور بدن سے!
میں: کس طرح کے بدن سے؟
وہ: میں وفا نچھاور کرنا چاہتی ہوں؛ اُس پر جو مجھے چاہے۔ میں محبت کے لیے جینا چاہتی ہوں۔ مجھے ڈر لگتا ہے۔
میں: کس سے؟
وہ: میرا خیال ہے؛ یہ سب غلط ہے؛ اسی لیے ڈرتی ہوں۔
میں: میرا نہیں خیال۔
وہ: اور میں اپنے آپ سے خوف زدہ ہوں۔
میں: وہ تو میں بھی ہوں۔
وہ: اس لیے کہ میری محبت میں شدت ہے۔
میں: ہونی بھی چاہیے۔
وہ: شدت سے زخم ملتا ہے۔ مجھے رنج سے نفرت ہے۔ سوری! آج میں تھوڑے عجیب موڈ میں ہوں۔
میں: سوری کیوں؟
وہ: آئی ڈونٹ نو، بس!
میں: آپ مجھے بے ضرر جان کر بات کریں؛ ہم کبھی ملیں گے نہیں۔
وہ: آئی نو؛ فِیل سیف وِد یو۔
میں: تھینکس! آپ کی اپنے شوہر سے انڈر اسٹینڈنگ نہیں ہے؟ یا وہ، وہ نہیں، جس کی آپ کی روح کو تلاش تھی؟
وہ: دونوں صحیح۔
میں: کیسے؟
وہ: انڈر اسٹینڈ صرف میں اُنھیں کرتی ہوں، وہ مجھے نہیں کرتے۔
میں: یہ دعوا وہ بھی کرسکتے ہیں!
وہ: نہیں کرسکتے۔ آئی ایم آ پرفیکٹ وائف۔
میں: اِن یَور وَرڈز۔
وہ: اِن ہِز وَرڈز! لیکن اب مجھ سے نہیں ہوتا؛ میں تھک چکی ہوں۔
میں: ڈی! یہ کیسے ہوجاتا ہے، کہ ہم ایسے پارٹنر سے بچے پیدا کرتے ہیں، جس سے محبت نہیں ہوتی؟ جسٹے فائے کیسے کریں گے؟ کیا ہم آوارہ نہیں؟
وہ: ہاں!
میں: کیا ہاں؟
وہ: آج اُنیس سال کے بعد مجھے احساس ہوا، کہ میں واقعی آوارہ ہوں؛ میرے اندر کچھ نا مکمل ہے۔
میں: ہا ہا ہا! آئے ایم سیریئَس۔
وہ: سو ایم آئے!
میں: سب نا مکمل ہیں۔
وہ: پتا ہے؟ یہ تڑپ ہے؛ ہر کچھ عرصے کے بعد، یہی جذبات محسوس ہوتے ہیں، مجھے۔
میں: کہ؟
وہ: جیسے کہ میں نا مکمل ہوں۔ پیار! مجھے پیار چاہیے۔
میں: ہوں!
وہ: میں چاہتی ہوں، وہ مجھے سمجھے، کِہ میں کیا ہوں۔
وہ: اُنیس سال کے بعد؟
وہ: ایسی! جیسی کہ میں ہوں؛ ایسے نہیں جیسی میں اُس کی بیوی ہوں، اجنبی! ساری عمر اِس احساس کے ساتھ گزر گئی، کِہ کل وہ مجھے سمجھ لے گا۔
میں: ڈی! لگتا ہے، اُس طرف میں ہوں۔
وہ: کس طرف؟
میں: تمھاری طرف!
وہ: میرا نام دُردانہ ہے، ڈی مت کہو۔
میں: مجھے معلوم ہے کِہ دُردانہ ہے، لیکن ڈی کہنا پسند ہے۔ او کے! جو احساسات آپ کے ہیں وہی میرے بھی ہیں، لیکن یا کوئی ہو جو اپنا بن سکے تو بات بھی ہے، ایسے ہی بوجھ ہلکا کر لیا کریں۔
وہ: آپ کا بھی یہی مسئلہ ہے؟
میں: ہاں! میں بھی ایک آوارہ ذہن کا مالک ہوں، صرف آوارہ ذہن، خود آوارہ نہیں۔
وہ: میں ہر اُس شخص میں وہ محبت کھوجنے لگتی ہوں، جو مجھے اچھا لگتا ہے۔
میں: ہوں! اچھی بات ہے۔
وہ: نہیں! میں سمجھتی ہوں، یہ غلط ہے۔
میں: میں ایسا نہیں سمجھتا۔
وہ: اور پتا ہے؟ کبھی کبھی میں اُن لوگوں سے ڈر جاتی ہوں، جو میرے جیسے ہیں، گہرے! اتھاہ گہرے!
میں: کتنے لوگ ملے جو آپ کی گہرائی کو پہنچتے ہیں؟
وہ: بہت کم؛ نہ ہونے کے برابر۔
میں: کیا آپ کو سیکس کی تلاش ہے؟
المدد شوق کہ بس آ پہنچے ۔۔۔۔۔ سامنے کوچہء رسوائی ہے۔۔۔۔ مزید پڑھنا ہو تو اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

