جانی بوجھی شاخ پہ جھولتی ناسفتہ کلی اور شوق کے پردے میں عریاں بھنورا
میں: مشکل سوال ہے۔
وہ: اس میں مشکل کیا ہے؟ ہاں؟ یا نہ؟
میں: میرا خیال ہے، میں ضرور ملتا، اگر آپ چاہتیں۔
وہ: اگر میں وہاں ہوتی؟
میں: ہاں!
وہ: مگر میں وہاں نہیں ہوں، اس لیے جذبات میں مت بہیں۔ ہا ہا ہا! ورنہ یہاں اک اور قصہ چھِڑ جائے گا۔
میں: کیسا قصہ؟
وہ: کچھ نہیں۔ میں جاوں؟
میں: میری اجازت سے جانا ہے؟
وہ: ڈائیلاگ؟
میں: جائیے حضور! ٹیک کیئر۔
وہ: ہے سنو!
میں: ہوں؟
وہ: تھینکس!
میں: سو سیڈ۔
وہ: میرے لیے اہم ہے؛ میں سمجھتی ہوں، شکریہ کہنا چاہیے، تا کہ احساس بڑھے۔
میں: اپنا خیال رکھنا۔
وہ: نہیں بھلاوں گی۔
میں: میں بھول جاوں گا۔
وہ: ہو نہیں سکتا؛ مجھے معلوم ہے۔ اگر اس وقت میرے سامنے ہوتے تو جادو کی جپھی ڈال لیتی؛ قسم سے۔
میں: شکر ہے، میں سامنے نہیں۔
وہ: آہ! مجھے نیند آرہی ہے۔
میں: سوجاو۔۔۔۔ سوجائیں۔
وہ: سوجاو۔۔۔ ناٹ جائیں۔
میں: سو جاو! نیند سے پیارا کیا ہے!
وہ: خواب!

