جانی بوجھی شاخ پہ جھولتی ناسفتہ کلی اور شوق کے پردے میں عریاں بھنورا


وہ: ایسا تو نہیں!
میں: تو پھر کیا؟ باتوں کی؟ روٹی کی؟ کپڑوں کی؟
وہ:: میں رومان چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں، وہ جان لے میں کیا چاہتی ہوں! میں کیا سوچتی ہوں۔ کیا محسوس کرتی ہوں۔
میں: رومان جسمانی تعلق کے سوا مہمل ہے۔ آپ کے بہت سے دوست ہوں گے جو آپ کو سمجھتے ہوں گے، مطلب یہ کہ محض سمجھنا کافی نہیں!
وہ: میں جسمانی ربط نہیں مانگتی، میں محبت سے ربط چاہتی ہوں۔ ان دونوں میں فرق ہے۔
میں: وضاحت کریں گی؟
وہ: کیا آپ کا کسی اور سے جسمانی ربط رہا ہے؟
میں: ہاں! مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے۔
وہ: افسوس کیوں؟
میں: بغیر ذہنی ہم آہنگی کے کسی کے ساتھ سونا گناہ ہے ناں، اسی لیے افسوس ہے۔
وہ: تو پھر کیوں سوئے؟
میں: نوجوانی کی نادانیاں۔
وہ: میں شادی کے بعد کا پوچھ رہی ہوں۔
میں: ہاں! ایک بار۔
وہ: پھر؟ کون تھی، وہ؟
میں: تھی ایک؛ نام کیا لوں! اچھے ذوق کی مالک؛ پتا نہیں کیسے سب کچھ ہو گیا۔ چھوڑو! دِل چسپ بات یہ کہ میں نے بیوی کو سچ سچ بتا دیا۔ لڑائی۔۔۔ اور معافی۔
وہ: واقعی؟
میں: آج تک طعنہ ملتا ہے۔ بیوی اچھی دوست کیوں نہیں بنتی؟
وہ: ایسی باتیں بتانے کی تھوڑی ہوتی ہیں۔
میں: ایمان داری کا تقاضا تھا۔
وہ: اگر بیوی کہتی، وہ کسی کے ساتھ سوئی ہے، تو؟ کیا کرتے؟
میں: بہت مشکل ہے، قبل از وقت کہنا؛ اگر میری طرح خود بتائے تو میں بھی معاف کر سکتا ہوں۔
وہ: کوئی مرد نہیں کرے گا۔
میں: شاید! لیکن میں‌ غلطی معاف کر سکتا ہوں۔ غلطیاں، عادت نہیں!
وہ: مجھے لگتا ہے، میں عجیب ہوں۔
میں: کیسے؟
وہ: مجھے چلنا چاہیے۔
میں: جیسے آپ کی مرضی۔
وہ: میرا موڈ خراب ہو رہا ہے۔
میں: میری وجہ سے؟
وہ: آئی ایم سوری۔ نہیں! میں ہوں ہی ایسی، موڈی! پگلی ہوں!
میں: وہ تو ہیں! جائیے اور میوزک سنیے۔
وہ: کیا میں پگلی ہوں؟
میں: ہاں!۔۔۔ سچ میں؟۔۔۔ مجھے نہیں‌ پتا۔
وہ: کیوں کہا، پھر؟
میں: پتا نہیں، بس کہ دیا۔
وہ: ہوں!
میں: شاید ہم آوارہ نہیں، موڈی ہیں۔ پگلے؛ دیوانے۔
وہ: دُرست!
میں: ہمیں کھوجنے کی چاہ ہے؛ نئے لوگ، نئی راہیں، نئے بدن، لیکن سماج سے ڈرتے ہیں۔
وہ: مجھے ہر وہ کام کرنا ہوتا ہے، جس کی ممانعت ہے۔
میں: ہوں! شکر ہے، آپ پاکستان میں نہیں، ورنہ ہم ملے بغیر نہ رہتے۔
وہ: کیا مجھ سے ملنا چاہتے ہیں؟

کچھ فاصلہ مٹنے کا امکان سا پیدا ہوا ہے۔۔۔۔ دونوں پرانے کھلاڑی ہیں ۔ اگلا صفحہ دیکھتے ہیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran