جانی بوجھی شاخ پہ جھولتی ناسفتہ کلی اور شوق کے پردے میں عریاں بھنورا


تئیس اپریل دو ہزار گیارہ:

وہ: فرینڈ رِکویسٹ ایکسپٹ کی، شکریہ۔ آپ نے ”وال“ بند کی ہوئی ہے۔
میں: شکریہ کیوں؟ آپ اپنا تعارف پیش کرنا پسند کریں گی؟
وہ: لگتا ہے، اپ پیش کرنا ہی پڑے گا؛ آپ نے پوچھا ہی ایسے ہے۔ لیجیے پیشِ خدمت ہے؛ میرا نام دُردانہ ہے، میں پیرس میں پلی بڑھی، لیکن اب برونائی میں رہتی ہوں۔ شادی کے بعد دس سال پاکستان میں گزارے۔ میرے دو پیارے پیارے سے بچے ہیں۔ بورنگ لگا ناں؟
میں: کچھ بھی بورنگ نہیں تھا؛ تعارف کا شکریہ۔ میرا نام تو آپ جانتی ہی ہیں، میری بیوی کا نام دُرِ شہوار ہے، ہمارے چار ”عام“ سے بچے ہیں۔ ”وال“ دست یاب ہے۔
وہ: اوہ! مطلب آپ کی لائف میں آل ریڈی ایک ”دُر“ یعنی موتی موجود ہے! آپ تو خوش قسمت ہیں، مجھے یقین ہے، آپ کے بچے بہت پیارے ہوں گے؛ خوب صورتی کو شکلوں سے نہیں‌ ماپنا چاہیے۔ ”وال“ کھولنے کا شکریہ؛ اب چھیڑنے میں آسانی ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُنیس جون دو ہزار گیارہ:

میں: ہائے۔
وہ: ہیلو! ہاو آر یو؟
میں: گریٹ۔ اینڈ یو؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اٹھارہ جولائی دو ہزار گیارہ:

میں: ہائے۔
وہ: ہائے؛ ہاو آر یو؟
میں: فائن! یو؟
وہ: آئی ایم فائن؛ تھینکس! سوری! چیٹ سلَو ہے۔
میں: پھر سہی، خیریت ہی جاننا تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو اکتوبر دو ہزار گیارہ:

وہ: (اسمائلی)
میں: آخر! کیسی ہیں؟
وہ: کیا؟
میں: کیسی ہیں؟
وہ: الحمد اللہ! ”آخر“ کیا؟
میں: ”آخر“ کچھ نہیں! یونھی۔
وہ: کچھ تو ہے، خیر!
میں: بہت دنوں سے چَیٹ کرنے کا سوچ رہا تھا، آخر آپ ہی کو خیال آیا، آخر!
وہ: تو کیوں نہیں کِیا چَیٹ؟
میں: آپ لاگ اِن نہیں دکھائی دیں۔
وہ: تو آپ رائٹر ہیں؟
میں: چھوٹا سا۔
وہ: کتنا چھوٹا؟
میں: ننھا منا۔
وہ: Lol؛ بہت اچھا لکھتے ہیں، آپ۔
میں: شکریہ۔
وہ: پڑھ کر مزہ آتا ہے، لکھنے کا انداز خوب ہے۔
میں: اس سے زیادہ تعریف کریں گی۔۔۔ تو شرم آتی ہے۔۔۔ کوئی اور بات کیجیے۔
وہ: اچھی چیز کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہے۔ کیجیے کوئی اور بات۔
میں: کیا مصروفیت ہے، آپ کی آج کل؟
وہ: ویل، کوئی اور بات کریں؛ اپنے بارے میں بتانا، تھوڑا آڈ لگتا ہے۔
میں: ہوں! کیا سن رہی ہیں، آج کل؟ کیا پڑھ رہی ہیں؟ بچے کیسے ہیں؟
وہ: بچے، الحمد اللہ! آج کل ایک پرانا ناول ہاتھ آیا ہے، ”بِن روئے آنسو“۔
میں: رائٹر کون ہے، ”بِن روئے آنسو“ کا؟ خواتین ڈائجسٹ ٹائپ لگ رہا ہے۔
وہ: فرحت اشتیاق۔ ہاں! رومینٹک گھِِسی پِٹی اسٹوری ہے، مگر مجھے اچھی لگتی ہے۔
میں:رومینس خود گھِسا پٹا نہیں؟
وہ: رومینس گھِسا پٹا ہے؛ متفق ہوں، کہ بکواس ہے۔ آپ اپنے بارے میں بتائیے؟
میں: رومینس، گھِسا پِٹا ہو کر بھی نیا ہے۔ یعنی اپنے بارے میں بات کروں؟ جب کہ آپ کہتی ہیں، ایسا کرنا آڈ لگتا ہے۔
وہ: کبھی کبھار آڈ بھی چلتا ہے۔
میں: اپنے بارے میں اتنا بتا دوں، کہ ایک مظلوم شوہر ہوں، جیسے سب مظلوم شوہر ہوتے ہیں، اور میری بے چاری بیوی بھی مظلوم ہے، اس لیے کام چلتا ہے۔
وہ: ہا ہا ہا۔
میں: خوب گزرتی ہے، جب مل بیٹھتے ہیں‌ بے چارے دو۔
وہ: خوب کہا! اصل چیز تو انڈر اسٹینڈنگ ہوتی ہے، ناں۔ ایک مظلوم؛ دوسرے مظلوم کو سمجھتا ہے۔
میں: پارٹنرز میں اصل چیز انڈر اسٹینڈنگ ہے، یا محبت؟
وہ: میرا خیال ہے، انڈر اسٹینڈنگ سے محبت نمو پاتی ہے۔
میں: محبت سے انڈر اسٹینڈنگ نمو پا سکتی ہے؟
وہ: اگر آپ اُس کو سمجھو گے، تو اُس کے دِل میں محبت کا احساس جاگے گا۔ نہیں! محبت سے انڈر اسٹینڈنگ نہیں پھوٹتی۔
میں: دُرست! دشمن ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں!؟
وہ: اگر وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکتے، تو دشمن ہی کیوں ہوتے؟
میں: واہ! یہ خوب کہا۔۔۔ میری بیوی بہت اچھی ہے، ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کو سمجھتے نہیں۔
وہ: وہی تو!
میں: کیا؟ سپنے اور حقیقت کا مِلاپ؟
وہ: میرا خیال ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے سے محبت نمو پاتی ہے، لیکن بہ ذات خود محبت، سمجھنے نہیں دیتی۔
میں: ہوں! المیہ!
وہ: محبت، اندھی ہوتی ہے، ہر لحاظ سے۔ محبت کے بل بوتے پر رشتے کم زور ہوتے ہیں، انھیں ضرورت ہے، سمجھوتوں اور سمجھ داری کی۔
میں: انڈر اسٹینڈنگ پیدا کی جا سکتی ہے؟ کیسے؟
وہ: سمجھوتوں سے۔ اپنا آپ مٹانے سے۔ یقین دلانے سے۔
میں: اپنا آپ محبت ہی کے لیے مٹایا جا سکتا ہے!
وہ: ویسے ایک بات تو بتائیے؟
میں: جی؟
وہ: آپ مجھ سے، یہ سب کچھ، کیوں پوچھ رہے ہیں؟
میں: ویسے ہی۔ اپنے آپ کو کھوج رہا ہوں، سوال کرنے سے جواب بھی ملتے ہیں۔
وہ: جواب پسند آیا۔۔۔ اور جوابوں سے، سوال بھی اُبھرتے ہیں۔
میں: جی! ۔۔۔۔۔ دائرہ!
وہ: میں محبت کے خلاف نہیں ہوں۔
میں: میں بھی۔
وہ: در اصل مجھ سا پاگل تو کوئی ہی ہوگا۔
میں: سب یہی سمجھتے ہیں۔
وہ: مگر کبھی کبھی سب کچھ ڈھکوسلا لگتا ہے، فلمی سا۔
میں: ڈھکوسلا؟ جب اداکاری کرنا پڑے تو چھوڑ دینی چاہیے۔
وہ: آپ کیسے جان سکتے ہیں، کہ محبت ”اصلی“ ہے؟
میں: اگر دِل میں گدگدی باقی ہے، تو محبت باقی ہے۔
وہ: وہ دن تو گئے۔۔ Lol
میں: جب کوئی کسی کو چاہتا ہے، تو کب دیکھتا ہے، کہ ”اصل“ کیا ہے!
وہ: متفق! آپ نے محبت کی ہے؟
میں: سوچنا پڑے گا۔
وہ: ہا ہا ہا؛ واقعی یہ ایک سخت سوال ہے، آج کل دِل لگی کو لوگ محبت کہتے ہیں۔
میں: سچ کہوں، تو نہیں کی۔ پتا ہے کیوں؟
وہ: کیوں؟
میں: مجھے ہمیشہ یہ ڈر رہا کہ دوسرے کیا کہیں گے، تو پھر خاک محبت! محبت کو کسی کی پروا نہیں ہونی چاہیے۔
وہ: ہا ہا ہا۔ پیار کِیا، تو ڈرنا کیا!
میں: خوامخواہ سنجیدگی اور مہذب بننے کی ایکٹنگ کرتا ہوں، یعنی جہاں محبت کا امکاں ہوتا ہے۔
وہ: میں سمجھ سکتی ہوں۔
میں: تہذیب بڑی بری شے ہے، مزہ برباد کرتی ہے۔ کھانا تمیز سے کھاو، تہذیب سے بیٹھو، وغیرہ۔ جو مزہ جوس کو ”شر شر“ کر کے پینے میں ہے، وہ بھلا تمیز سے پینے میں ہے؟
وہ: محبَت ایٹے کیٹس والی اچھی لگتی ہے۔
میں: نہیں! جنونی۔ مجنونانہ۔
وہ: ویسے، میں تمیز پسند ہوں۔
میں: ہا ہا ہا ہا۔ میں اندر سے جنگلی ہوں، تہذیب نے مار ڈالا۔ نہ خدا ملا، نہ وصالِ صنم والا معاملہ ہے۔
وہ: میرے خیال سے، عموماً مرد ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کم سے کم آپ سچ بول رہے ہیں، اچھا لگا؛ آپ سے بات کر کے۔
میں: مجھے بھی۔ ایک بات؟
وہ: جی؟
میں: ہم اجنبی لوگوں سے دِل کی بات کیوں کرتے ہیں؟
وہ: کیوں کہ وہ ہمیں جانتے نہیں، اور ہمیں‌ یہ ڈر نہیں ہوتا، کہ ہمارا پردہ فاش ہوجائے گا۔ دوسرا یہ کہ وہ ہماری کم زوریاں نہیں جانتے، تو ہمیں جج نہیں کرتے۔
میں: صحیح! صد فی صد درست۔
وہ: lol.
میں: قصہِٴ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے۔
وہ: ویسے، یہ ہماری پہلی چَیٹ ہے؟
میں: آپ کی اور آپ کے میاں کی؟
وہ: ہا ہا ہا۔۔۔ مجھے لگتا ہے، میں آپ سے پہلے بات کر چکی ہوں۔
میں: ہاں ناں! تو کی ہے ناں۔ دو تین بار۔ آپ کا کیا خیال ہے، میں پہلی بار میں اتنا کھلا ہوں؟ کیا مطلب ہے تمھارا، ڈی؟
وہ: میں بھی یہی سوچ رہی تھی، ویسے بندے بہت اچھے ہیں، آپ۔
میں: توبہ! مجھے افسوس ہوا، کہ آپ بھول گئیں۔
وہ: توبہ؟
میں: آپ کی یاد داشت؟
وہ: بہت اچھی طرح یاد ہے۔
میں: میری بیوی کا نام، دُرِ شہوار ہے، ڈی۔ یاد آیا؟
وہ: ہاں!
میں: شکر ہے۔
وہ: مجھے پتا ہے، آپ وہی ہیں۔ آپ کا نام۔۔۔۔ کچھ فرق تھا۔ ہم نے اُس رات بہت دِل چسپ باتیں کی تھیں، اور پھر آپ اُس کے بعد کہیں دکھائی ہی نہیں دیے!؟
میں: آپ غائب تھیں۔
وہ: دیکھا؟ میری یاد داشت! میں تو یہیں تھی۔ ویسے آپ کو یاد ہے، ہم نے کیا باتیں کی تھیں، اُس رات؟
میں: اسی طرح کی، اپنے آپ کو تلاش کرنے کی باتیں۔ اے اجنبی، تو بھی کبھی، آواز دے کہیں سے۔
وہ: اور؟
میں: اُداس آنکھیں! ہیں ناں؟
وہ: یاد ہے آپ کو! مجھے بہت ہنسی آرہی ہے، میں سمجھی تھی، وہ کوئی سراب تھا۔ وہ رات!۔۔۔ اور آپ تھے ہی نہیں۔
میں: کیا مطلب، میں نہیں تھا؟
وہ: مطلب، اس کے بعد، آپ سے کبھی اس طرح بات نہیں ہوئی، ”وال“ پر تبصرے بھی آپ کے عجیب سے ہوتے ہیں۔
میں: مجھے اسی موڈ کا انتظار تھا، جب آپ اسی موڈ میں ہوں، اسی لیے لکھا تھا، ”آخر“۔۔۔ اب سمجھیں؟
وہ: مطلب یہ کہ سوچی سمجھی اسکیم تھی؟ کافی صابر ہیں آپ! میں نہیں ہوں۔ اگر آج آپ سے خود بات نہ کرتی، تو آپ کبھی نہ کرتے؟
میں: میں آپ کا مزاج سمجھ گیا ہوں، اسی لیے پروا نہیں تھی۔
وہ: کیسا مزاج ہے میرا؟
میں: آپ اچھے مزاج کی ہیں۔ ایک بات تو بتائیں، اگر آپ کو وہ چَیٹ یاد نہیں تھی، تو کیا جان کر، آج چَیٹ اسٹارٹ کی؟
وہ: میں مخمصے میں تھی، مجھے اُلجھاو تھا، جو میں‌ دُور کرنا چاہتی تھی، کیوں کہ مجھے یقین نہیں تھا، کہ آپ وہی ہیں، جس سے میں نے کہا تھا، اے اجنبی، تو بھی کبھی، آواز دے کہیں سے۔
میں: ہا ہا ہا، وہ اجنبی، کسی کو آواز نہیں دیتا۔

دونوں ادھر ادھر کی ہانکنے میں قیمتی گھڑیاں گنوا رہے ہیں۔۔۔۔ خیر اگلا صفحہ دیکھتے ہیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran