طاوس فقط رنگ


طاوس فقط رنگ نیلم احمد بشیر کا ایک خوب صورت بیانیہ ناول ہے، جس کا عنوان اقبال کے معروف مصرِع:

بلبل فقط آواز ہے طاوس فقط رنگ
پر رکھا گیا ہے۔ ناول کا عنوان ہی کسی مور کے پر کی طرح ہمارے وجدان میں سہ رنگی سوال کے خیالات بھرنے لگتا ہے اورذہن خود بخود اقبال کی مغربی طرز زندگی اور معاشرتی روایتوں پر تنقیدی نظر کی طرف پرواز کرنے لگتا ہے جس کا اشارہ اسی کلام کے اگلے شعر میں انھوں نے کچھ یوں کیا ہے:

چیتے کا جگر چاہیے شاہین کا تجسس جی سکتے ہیں بے روشنی دانش فرہنگ
کہ بلبل و طاوس کی تقلید سے توبہ بلبل فقط آواز ہے طاوس فقط رنگ

اقبال کے فکری میلانات سے قطع نظر نیلم احمد بشیر کے طاوس فقط رنگ کی پرسراریت مغرب کے تولیدی گلوبل معاشرے اور اس میں بسنے والی مشرقی و نیم مشرقی تہذیبی اقدارکے درمیان کش مکش کی وہ تصویر ہے جس میں جا بجا بدلتے ہوئے سماج اور افراد کے رشتے کبھی سیاسی تو کبھی معاشی، کبھی مذہبی تو کبھی نفسیاتی مسائل میں ڈھل کر طاوس کی موجودگی یا غیر موجودگی پر سوالات کی صورت رنگ بکھیرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ آئیں ان رنگوں کے امتیاز کو سمجھنے کے لیے ہم کچھ دیر اس جنگل کی طرف نکلتے ہیں جہاں یہ مور اپنے خوش نما پر پھیلائے اک بے خودی کے عالم میں ناچ رہا ہے اور اِس کو دیکھنے والوں کے ذہن و دل کو متحرک کر کے ان کی زندگیوں میں ایک حرارت پیدا کررہا ہے۔

اِس جنگل کا ایک معاشرتی پس منظر ہے جو ایک امریکی مذہبی جنونی جم جونز کے سماجی تخریبی شعور کے اثرات سے شروع ہوتا ہے اور ایک سعودی مذہبی جنونی اسامہ بن لادن کے سیاسی تخربی شعور کی صورت اِس میں تخلیق کیے ہوئے کرداروں کو متاثر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ نیلم احمد بشیر اِس قدرے پے چیدہ سفر کے دوران ان بڑے شہ تیروں کا جا بجا تذکرہ کرتی ہوئیں ملتی ہیں، جو اِس طرح کے سماجی و سیاسی حادثات کا تاریخی سبب بنتے ہیں۔
کہانی کا آغاز یوں تو ستمبر ۱۱ کے واقعہ سے ہوتا ہے مگر اس کا پس منظر فلیش بیک کی صورت جم جونز کی۱۹۷۰ میں شمالی گیانہ میں انسانی حقوق کی زیادتیوں اور ماساکر یعنی قتل عام سے منسوب ہے۔ جس میں ناول کا ایک فکشن جوڑا سواور لیو جنسی جبر کا شکار ہوتا ہے۔ سو اور لیو جم جونز ہی کے دیے گئے ہندوستانی نژاد مسلمان لڑکی قمر النسا اور چینی نژاد کرسچن لڑکے برائن چین کے نام ہیں جو اور دیگر مظلوموں کی طرح ٹم جونز کے پپلز ٹیمپل کے زیرِ سایہ بسائی ہوئی نام نہاد کمیونسٹ کمیونٹی پیپلز ایگرکلچرل پروجیکٹ میں پھنس جاتے ہیں۔ سو کے ساتھ ہونے والی ٹیم جونز کی جنسی زیادتی کے نتیجے میں ایک بچی میری گولڈ پیدا ہوتی ہے، جب کہ لیو کو زبردستی ایک اپاہج لڑکی سلویا کے ساتھ سلایا جاتا ہے، جس کے بدن سے انجلیکا پیدا ہوتی ہے۔ گیانا میں ہونے والا یہ دل سوز واقعہ ایک ہزار افراد کے قتل عام اور بڑی مقدار میں جنسی ظلم و زیادتیوں کا سبب بنتا ہے اور بالآخر امریکی حکومت کی دخل اندازی کے بدولت اپنے منطقی انجام یعنی جم جانز کی خودکشی پر ختم ہوتا ہے۔

بد قسمتی سے سواور لیو جب یہاں سے جان بچا کر نکل رہے ہوتے ہیں تو جم جونز سے پیدا ہونے والی سو کی بیٹی میری گولڈ اُن سے بچھڑ جاتی ہے اور یوں وہ صرف انجلیکا کے ساتھ امریکا آ جاتے ہیں، جہاں وہ اُسے ایک نیا نام شیریں کا دیتے ہیں اور خود بھی مسٹر اور مسز چین کے نام سے نیویارک کے شہر کوئنزز میں بس جاتے ہیں۔ دوسری طرف میری گولڈ ایک امریکی جوڑے جولیا اور نکولس کے ہاتھ لگتی ہے جسے وہ ڈیلائلا کا نام دیتے ہیں اور بعد ازاں اتفاق سے نیویارک ہی میں آ کر بس جاتے ہیں۔ ناول کے پس منظر میں پرورش پانے والے اِس کہانی کے کردار اور ستمبر ۱۱ کے حادثے سے بالواسطہ متاثر ہونے والی ایک پاکستانی نژاد مسلمان امریکی فیملی کے درمیان کش مکش کی ایک داستان ہے۔ سجیلہ جو ایک طلاق یافتہ مسلمان پاکستانی خاتون ہیں، جن کے دولت مند شوہر عاقل بیگ کسی امریکی عورت سے شادی کر کے نیو یارک سے باہر کہیں آباد ہیں، مگر بچوں کی وجہ سے گاہے گاہے رابطے میں ہیں۔ سجیلہ ایک رِٹائرڈ جنرلسٹ ہیں، جو کبھی اپنے بیٹے مراد کے ساتھ اسٹیٹن آئی لینڈ میں تو کبھی اپنی بیٹی کنول کے ساتھ نیو جرسی میں زندگی گزار رہی ہیں، جو کسی یوینورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کی طالبہ ہے اور ایک میڈیکل اسٹوڑنٹ ارسلان کو پسند کرتی ہے۔

مراد یوں تو مردانہ وجاہت سے بھرپور خوب رُو نوجوان ہے، مگر سماجی و نفسیاتی لحاظ سے غیر مستقل مزاج اور ازدواجی و غیر ازدواجی رشتوں کو قائم رکھنے میں مسلسل ٹوٹ پھو ٹ کا شکار ہے۔کہنے کو ناول کے مرکزی کردار مراد اور ڈیلائلا ہی ہیں، جن کے درمیان کے تعلقات ایک سلسلہِ واقعات کی کڑی میں نفسیاتی الجھنوں کے ساتھ پروئے گئے ہیں، جو پڑھنے والے کوایک مسلسل تجسس و تردد میں رکھتے ہیں۔ نیلم احمد بشیر نے واقعات کے اِن تانے بانوں کو کرداروں کے داخلی و خارجی تصادم کی صورت کچھ یوں فنی چابک دستی اور روانی سے پیان کیا ہے کہ کہانی کا ارتقا اُس کی رفتار اور اُس کا کلائمکس بیک وقت اِن کرداروں کی الجھی ہوئی نفسیاتی گھتیوں کو سلجھاتا بھی جاتا ہے اور ایک شعوری سماجی و سیاسی تعارف بھی اُس مغربی دنیا کا دیتا چلا جاتا ہے، جو سرمایہ دارانہ زندگی کے میکانی اثرات کی وجہ سے جنگل کے سایوں کی صورت چاروں اطراف پھیلا ہوا ہے۔ مثلا جہاں ڈیلائلا ایک نفسیاتی مریضہ کی صورت انتہائی پززسو اور اِن سیکیور (غیر محفوظ) نظر آتی ہے اور اپنی بچپن کی گم شدگی کو اپنے ماں باپ کی طرف سے ریجکشن سمجھ کر اپنی ہر خواہش کو اپنا پیدائشی حق سمجھ کر بے دردی سے حاصل کرنے میں جت جاتی ہے۔ مراد ایک طلاق یافتہ جوڑے کی اولاد ہونے کے ناتے سے ایک مستقل غیر مستحکم کردار کی صورت دکھائی دیتا ہے، جو رشتوں کو قائم کرنے اور انھیں سنبھالنے میں انتہائی کم زور ثابت ہوتا ہے، تو دوسری طرف سجیلہ اپنے جنرلزم کے پس منظر کی بدولت امریکا کا سیاسی و سماجی تعارف کچھ اس انداز سے کرا رہی ہوتی ہیں
’’ہم پر الزام دھرنے والے امریکی خود اپنے بارے میں نہ سوچتے ہیں اور نہ ہی انھیں خیال آتا ہے کہ وہ خود سب سے بڑے اور اولین دہشت گرد ہیں۔ ہر ملک میں چھلانگ مار کر جا گھستے ہیں اسے تباہ کرتے ہیں اور پھر اس پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ ان کا اپنا ملک اور یہ جزیرہ اس قدر دور ہے کہ وہاں کوئی پہنچ نہیں پاتا ۔ سب سے پہلے گورے خود یورپ سے یہاں آ پہنچے مقامی انڈین لوگوں سے ان کا ملک چھینا، ان پر ظلم ڈھایا اُن کو تقریبا نیست و نابود کیا پھر کالوں کو ان کے دور دراز افریقی ملکوں سے اٹھا لائے انھیں غلام بناکر ان سے خدمت لینا، کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے‘‘؟

اور اب بھی کچھ کم ظلم نہیں کر رہا انکل سام افغانستان و عراق ۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ بربادی پھیلا رہا ہے مگر اس مخصوص پاکستانی سوچ کے جواب میں مراد کا یہ جملہ اقبال کےمحض رنگ کے تصورِ طاوس کو بیج جنگل میں یوں برہنہ کر دیتا ہے۔
“اوکے تو پھر آپ لوگ امریکا آئے ہی کیوں تھے؟ یہ تو سپر امپائر ہے اور بڑی بادشاہتیں تو ایسا ہی کرتی ہیں”۔

نیلم احمد بشیر کے لاشعور سے نکلے ہوئے یہ لفظ یکایک میرے شعور کو مسلمانوں کے اُس ہزار سال تک کے پھیلے ہوئے جنگل میں چھوڑ آئے جب ایک اسلامی انقلاب نے آدھی سے زیادہ دنیا پر تلوار کے زور پر بادشاہت قائم کر لی تھی۔ کیا ملکیت کے اُس دور میں بھی ایسے ہی کچھ طاوس محض رنگوں کی صورت ناچتے ہوئے نہیں پھر رہے تھے؟ بالکل اسی طرح ناول کے کرداروں کا مغربی و مشرقی اخلاقی اقدارکی بنیادوں پر شعوری تقابلی جائزہ اور جانب دارانہ مشرقی اخلاقیات کا طرہ امتیاز، مجھے بارہا اُس تہذیبی فضا کی بھی سیر کراتے رہے، جہاں کی حیوانی صداؤں میں بھی اب کسی بلبل کا کوئی وجود نہیں ۔۔۔ محض آوازیں ہیں۔

طاوس فقط رنگ کا پلاٹ انتہائی مربوط ہے۔ اس کا قصہ پن اور واقعہ نگاری بہت جامع ہے۔ نیلم احمد بشیر نے اپنی پوری فنی چابک دستی سے ا مریکی پاکستانیوں کی زندگی کے مختلف پہلووں، اُن کے خارجی و داخلی حالات، محبتوں کے گونا گوں انداز، امریکا کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی زندگی کے مناظر اور اُس میں پوشیدہ سرمایہ دارانہ نظریات اور ان کے عملی تجربات غرض یہ کہ اِس طاوس کے سہ رنگوں کو کچھ یوں پیش کیا ہے، کہ کہانی ختم کرنے کے بعد ہماری نظر ایک بار پھر ناول کے ٹائٹل کور پر جاکر ٹھیر جاتی ہے، جس کا استعاری اشارہ مور کے پر کی صورت ایک تاریک شہر کے بیک گراونڈ میں طاوس فقط رنگ کی صورت صاف دکھائی دیتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).