اسکول کی دہلیز پر ملاقات


An-Old-Photo-of-District-Court-House-Gujranwala

جی ہاں میں احتساب عدالت کا ملزم تھا۔ میں جو ایک سال پہلے تک ایک اعلی حکومتی عہدے دار تھا آج محض نوکری سے نکالا ہوا ایک سابقہ سرکاری افسر تھا۔ مجھ پر حکومت کی جانب سے رشوت خوری، آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے، اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور ملکی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔

صرف ایک سال پہلے تک سب اچھا چل رہا تھا۔ میری سرکاری کرسی جس طرف گھومتی تھی کیس کا رخ بھی اسی طرف مڑ جاتا تھا۔ میں اپنی سروس کا بڑا ہوشیار اور سمجھدار افسر سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے مجھے پے در پے کئی حکومتوں کے ’ موسٹ فیورٹ‘ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ میرے سیاسی باسز کو ’نہ‘ سننے کی عادت نہیں تھی اورمجھے ’نہ‘ کو ’ہاں‘ میں بدلنے کے ایک ہزار طریقے آتے تھے۔ میرا وار خالی جائے ایسا بہت کم ہوتا تھا۔ میرے اسی حسن تدبیر نے مجھے ’خاص‘ حلقوں میں ’خاصان خاص‘ بنا دیا تھا۔ گنگا بہتی جاتی تھی اورمیں اقتدارمیں آنے والی ہر جماعت کو اس میں اشنان کرواتا جاتا تھا۔ خود میرے گھر لکشمی صبح و شام ماتھا ٹیکتی تھی۔ میں جو پہلے دن سے سول سروس کا ’چت پاون برہمن‘ تھا دھیرے دھیرے ’راجہ اندر‘ بن گیا تھا۔ دن میں حسین خواتین مجھے گھیرے رکھتیں۔ شام کے بعد دوستوں کی صحبت میں جام و مینا کے دور چلتے اور رنگ خوشبو ساز اور آواز ہم رقص رہتے۔

مگر پھر اچانک میرے سیاسی سرپرستوں کے برے دن شروع ہوگئے اور فطری طور پر میرے بھی۔ زلزلے کے ابتدائی جھٹکوں کی دھمک میرے ان رفیقوں کو پہلے ہی سنائی دے گئی تھی جنہوں نے کان زمین کے ساتھ لگا کررکھے تھے مگر میں ان دنوں چونکہ خاصی بلند پرواز کر رہا تھا اس لیے بروقت بدلتے ایام کی آہٹ نہ سن سکا۔ نتیجتا ایک روز وہ ہو گیا جو ایک نا ایک دن ہونا ہوتا ہے چاہے کوئی اس کے لیے تیار ہو یا نہ ہو۔ چونکہ زیر عتاب حکومت کا سب سے بڑا محرم راز میں ہی تھا اس لئے احتساب کا آغاز بھی مجھی سے ہوا۔ میں نے حالات کی نزاکت بھانپتے ہوئے ’پس پردہ طاقتوں‘ کے ساتھ معاملات ’کچھ لو کچھ دو‘ کے سنہرے اصول پر طے کرنے کی بھرپورکوشش کی مگر بے سود۔ نئی حکومت نے اپنا سکہ جمانے کے لیے عبرت کے کچھ نشان سر راہ نصب کرنے تھے سو پہلے میری گردن ناپ دی گئی۔

آغاز سرما کی ایک خوشگوار صبح جب میں اپنی عالی شان سرکاری موٹر میں دفتر پہنچا تو مجھے گمان بھی نہ تھا کہ آج میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

دفتر کے طویل کاریڈور سے گزرتا اور ٹھک ٹھک پڑتے سلیوٹوں کے جنبش سر سے جواب دیتا ہوا میں اپنے بسیط دفتر میں داخل ہوا۔ بریف کیس میز پر رکھ کر ابھی میں اپنی گھومنے والی کرسی پر براجمان ہوا ہی تھا کہ سفاری سوٹوں میں ملبوس دو اجنبی اچانک میرے دفتر میں گھس آئے۔

’ آپ لوگ کون ہیں بھئی اور بغیر اجازت کمرے میں کیسے آ گئے؟ ‘ میں نے اچنبھے سے اور قدرے ناراض ہو کر ان سے پوچھا۔

’ سر ہم احتساب کے ادارے سے آئے ہیں‘۔ ان میں سے ایک نے جو سیاہ رنگت رکھتا تھا اور محدب شیشوں والی عینک پہنے تھا مجھے بتایا اور ساتھ ہی موٹے کاغذ پے چھپی ہوئی ایک سائیکلو سٹائل سرکاری چٹھی میرے سامنے میز پر رکھ دی۔

’ یہ کیا ہے؟ ‘ میں نے ایک اچٹتی ہوئی نظر چٹھی پر ڈال کر پوچھا۔
’سر یہ آپ کے وارنٹ گرفتاری ہیں۔ ‘

’وارنٹ گرفتاری؟ غصے سے میرا سر گھوم گیا۔ یکدم ابھرتے ہوئے فشار خون نے میری کنپٹیوں پر مکے برسانے شروع کر دیے۔

’دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟ جانتے بھی ہو کس سے بات کر رہے ہو؟ ‘
’جی سر اچھی طرح جانتا ہوں اور دماغ بھی ٹھیک ہے میرا۔ ‘ اس نے اکھڑ لہجے میں کہا’ آپ یہ وارنٹ پڑھ لیں اور ہمارے ساتھ چلے چلیں۔ ایسے شور ڈالنے سے کوئی فایدہ نئیں ہو گا ‘۔

۔ ’ مائی فٹ۔ لیکن کیوں آخر؟ کس کیس میں؟ ‘
’سر آپ وارنٹ دیکھ لیں ایک دفعہ۔ باقی ڈیٹیل ہم آپ کو آفس پہنچ کر بتائیں گے۔ آئی ایم ساری سر۔ لیکن ہماری مجبوری ہے۔ آپ کو چلنا پڑے گا ہمارے ساتھ ‘۔

طیش سے کانپتے ہوئے میں نے اپنے انٹر کام کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دوسرا سفاری پوش جو تن و توش کے حساب سے کوئی پیشہ ور پہلوان لگتا تھا تیزی سے آگے بڑھا۔ اس نے میرے ہاتھ سے فون چھین کر واپس رکھ دیا اور انگلی سے مجھے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ اس کی ابلتی ہوئی آنکھوں کی وحشت دیکھ کر میں سہم گیا۔ اس کے تیوروں سے صاف ظاہر تھا کہ میرا مزاحمت کرنا بیکار تھا۔ میرے پاس گرفتاری دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ میں نے مڑ کر ایک الوداعی نظر اپنے دفتر پر ڈالی اور کمرے سے نکل گیا۔ وہ دونوں میرے دائیں اور بائیں طرف سے مجھے گھیرے ہوئے تھے۔ کاریڈور میں سے گزرتے ہوئے شاید دفترکے سبھی لوگوں نے میری ’رخصتی‘ کا یہ منظر بچشم حیرت دیکھا ہو گا لیکن مجھے نہیں پتہ چلا۔ میری نظریں فرش سے اوپر اٹھی ہی نہیں۔ پارکنگ لاٹ میں لے جا کر انہوں نے مجھے ایک سفید سرکاری کار کی پچھلی سیٹ پر بٹھا دیا اور ہم احتسابی ادارے کے صدر دفتر کی جانب روانہ ہو گئے۔

احتساب کے جس اعلی افسر کے سامنے لے جا کر مجھے بٹھایا گیا تھا میں اسے پہلے سے جانتا تھا۔ وہ سروس میں مجھ سے خاصا جونیئر تھا اورکسی زمانے میں میرے زیر تربیت رہ چکا تھا۔ میں نے اس پراپنی برتر پوزیشن کا خوب رعب جمایا اور اپنی گرفتاری پر احتجاج کے ساتھ ساتھ ا سے اس’ گستاخی‘ کے لئے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے میری کف انگیز تقریر سنتا رہا۔ میں چپ ہوا تو اس نے پانی کا ایک گلاس مجھے پیش کیا اور پینے کو کہا۔ میں نے گلاس ختم کر لیا تو اس نے پیچھے کونے میں کھڑے ہوئے اپنے ماتحت کو کچھ اشارہ کیا۔ وہ گیا اور ایک موٹی فائل لے کر آیا اور اسے میرے سامنے کھول کر رکھ دیا۔

’اسے پڑھیے سر۔ ‘ اعلی افسر نے مجھے حکم دیا۔ میں نے جز بز ہو کر فائل کے صفحے پلٹنے شروع کیے۔ جیسے جیسے میں فائل پڑھتا چلا گیا میرے چودہ طبق روشن ہوتے چلے گئے۔ اس فائل میں ابتدائی دورسے لے کر پچھلے چند ماہ تک کے میرے کیے ہوئے سارے ’کارناموں‘ کی مکمل تفصیلات موجود تھیں۔ ہر وہ کیس جسے میں نے آج تک اپنے حسابوں سات پردوں میں چھپا کے رکھا ہوا تھا یہاں مکمل عریاں پڑا تھا۔ تمام دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ۔ مجھے محسوس ہوا کہ جیسے آج تک کوئی منکر نکیر میری نگرانی کرتا اور میرے خلاف مواد جمع کرتا رہا تھا۔

میری ٹانگوں میں سے جان نکل چکی تھی مگر پھر بھی ہمت کر کے میں نے اس اعلی افسر سے کہا ’ اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو تم؟ ‘

اس نے اپنے ماتحت کو پھر اشارہ کیا تو اس نے ایک دوسری فائل میرے آگے لا کے رکھ دی۔ میں نے اسے کھولا تو جانا کہ اس میں میرے تمام ملکی اور غیر ملکی اثاثوں زمینوں جائیدادوں اور بینک اکاوئنٹس کی تفصیلات دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔ اب میرے پورے جسم پر رعشہ طاری ہو چکا تھا۔ زبان لڑکھڑانے لگی تھی۔ احتساب کا افسر میری کیفیت کو بھانپ گیا۔ اس نے پانی کا ایک اور گلاس میرے سامنے رکھا جسے میں نے فورا حلق میں انڈیل لیا۔

باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


صفحات: 1 2 3 4 5 6