اسکول کی دہلیز پر ملاقات
ملک کی مشرقی سرحد پر واقع ایک دورافتادہ اور پسماندہ گاؤں۔ تحصیل دار کے منشی کا بڑا لڑکا جس نے انت غربت میں آنکھ کھولی تھی مگر زندگی سے ہار نہ ماننے کا عزم لے کر پیدا ہوا تھا۔ وہ میلوں پیدل چل کر سکول جاتا رہا۔ موسموں کی سختیاں سہیں۔ فاقے بھی کیے مگر ہر جماعت میں اول آتا رہا۔ علاقے کے ایک مخیرمگر خدا ترس آدمی کی مالی امداد سے کالج کی تعلیم مکمل کی۔ ایک اخبارکے پریس میں معمولی نوکری شروع تو کسی پارکھ کی نظر پڑگئی جس نے اسے مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کا مشورہ دیا۔ ساتھ کچھ مالی امداد بھی کی اور رہنمائی بھی۔ وہ لڑکا دن میں نوکری کرتا اور رات میں پڑھتا رہا۔ اور پھر ایک دن معجزہ رونماہو گیا۔ اسی اخبار میں جہاں سے وہ ہر شام کالے ہاتھ لے کر نکلا کرتا تھا اس کے مقابلے کے امتحان میں نمایاں پوزیشن لینے کی خبر شائع ہوگئی۔ شہرکے بالا ایوانوں سے لے کر گاؤں کی کچی ہٹی تک دھوم مچ گئی کہ ایک گمنام گاؤں کا ایک غریب لڑکا سی ایس پی ہوگیا تھا۔
وہ غریب لڑکا جب تربیتی اکیڈمی میں داخل ہوا تو ایک یکسر نئی دنیا اس کی منتظر تھی۔ ابتدا میں اس کی دیہاتی وضع دیکھ کرکئی پیشانیوں پر بل پڑے مگر اسے اب کسی کی پروا نہ تھی۔ اس نے تو زمانے پر اپنا سکہ جمانے کا عزم کر رکھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اس چار دیواری کے اندر بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی تھیں۔ یہاں پانچ دریا سمندر سے ملتے تھے۔ کہیں پربت صحراوں کے دامن گیر تھے تو کہیں سنگلاخ چٹانیں سبز بیلوں کو سہارا دیتی تھیں۔ کئی پھول بھنوروں کی تلاش میں رہتے تھے۔ کہیں جاگیرداریت پرولتاریوں سے محجوب تھی تو کہیں متوسط طبقہ نودولتی صنعتی اشرافیہ سے مرعوب نظر نہ آنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ جہاں چیفس کالج والوں کی ٹولیاں گشت کرتی تھیں وہیں پر کہیں نیلے پیلے سکولوں کے نمونے بھی دکھائی دے جاتے تھے۔ مگر سودا سب کے دماغ میں ایک تھا۔ گریڈ بائیس تک پہنچنا اور اپنی ’پاور‘ کے مزے لوٹنا۔ ان جغادریوں کے بیچ میں وہ ایسے تھا جیسے انارکلی بازار میں بھولی مج۔
اکیڈمی آ کر پہلے تو کئی روز وہ الو بنا رہا مگر پھر دھیرے دھیرے اس نے ماحول کے تقاضوں سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنا شروع کر دیا۔ وہ ذہین تھا اس لئے یہ بات سمجھنے میں اسے زیادہ دن نہ لگے کہ نوکر شاہی کے اس کھیل میں کامیابی کے قواعد کیا ہیں۔ اس نے جانا کہ یہاں مجرم صرف وہ گردانا جاتا ہے جو پکڑا جائے۔ جو سب کچھ کرے اور پکڑائی نہ دے وہ’ کام کا بندہ‘ کہلواتا ہے۔ نوکر شاہی کی اس منڈی میں حاکم وقت کی چشم وابرو کا اشارہ ہی سکہ رائج الوقت ہوا کرتا ہے۔ دیگر احوال فقط زیب داستاں کے لیے ہے۔ اور قانون کی کتابیں تو محض دیمک کی خوراک بننے کے لیے ہوتی ہیں۔ یہ سبق یاد ہونے کی دیر تھی کہ ’کامیابیوں‘ کے دروازے اس پر کھلنے لگے۔ کچھ ہی سالوں میں وہ سروس کے سب سے زیادہ ’کام کے بندوں‘ میں شمار کیا جانے لگا۔
یادوں کی یہ پرانی فلم کب ختم ہوئی معلوم نہیں۔ رات کے کسی پہر مجھے اچانک نیند نے آ لیا۔ جاگا تو اگلے دن کا سویرا طلوع ہو چکا تھا۔
کچھ روز بعد میرا وکیل جیل میں آ کر مجھ سے ملا تو میری ابتر حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ اس نے مجھے جیل میں چند سہولتیں دلوانے کی کوشش کا وعدہ کیا۔ اس نے یہ اطلاع بھی دی کہ میری سزا کے خلاف اگلی عدالت میں اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی گئی تھی اور وہاں سے بہتر فیصلہ آنے کی امید تھی۔
کچھ ہفتوں بعد میری اپیل کی سماعت شروع ہوگئی۔ انصاف کا گرانڈیل پہیہ نظر نہ آنے والی رفتار سے گھومنے لگا تھا۔ فیصلے کا انتظارکرنے کے لئے میرے پاس اگلے دس سال تھے۔ اس دوران مجھے صرف زندہ رہنے کی کوشش کرنا تھی اور اس کے لیے مجھے خود ہی ہاتھ پاوں مارنا تھے۔
میرے وکیل نے اپنی بات کی لاج رکھی اور مجھے کسی بہتر جیل میں متقل کروانے کے لئے اپنی بھرپور کوششیں کی۔ آخر کوئی چھے ہفتے بعد مجھے بہتر والی جیل الاٹ ہو گئی اورمجھے وہاں منتقل کر دیا گیا۔ نئی جیل میں میرا سیل پہلے کے مقابلے میں روشن اور ہوادار تھا۔ اس میں لکڑی کے تختوں والی چارپائی کے ساتھ ایک کرسی اور میز بھی موجود تھا۔ مجھے ایک مشقتی بھی دیا گیا تھا۔ کھانا گھر سے منگوانے کی سہولت بھی میسر تھی اوراس کے ساتھ ساتھ کتابیں رکھنے کی اجازت بھی۔ میں نے اپنے پسندیدہ مغربی مصنفوں کی کتابوں کی ایک فہرست اپنے وکیل کے سپرد کر دی۔ کچھ ہی روز ہوئے تھے کہ میرا مشقتی ایک چھکڑے کے برابر کتابیں ڈھو کر میرے جیل کے کمرے میں چھوڑ گیا۔ ان میں معاشیات تاریخ سیاسیات اور سوانح غرض کہ میرے ہر پسندیدہ موضوع پر کتابیں تھیں۔ اتنی بہت سی کتابوں کو یکجا دیکھ کر مجھے وہ دن یاد آگئے جب میں مقابلے کی امتحان کی تیاری میں مصروف تھا اور یونہی کتابیں میرا اوڑھنا بچھونا ہوا کرتی تھیں۔ مگر پھر زندگی کے کسی موڑ پر مطالعے کی عادت چھوٹ گئی۔ پڑھائی صرف دفتری فائلوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔ آج دہائیوں بعد میں نے کسی کتاب کو ہاتھ لگایا تھا۔
مجھے جیل میں آ ئے ہوئے اب قریبا ایک سال ہو چلا تھا۔ اس عرصے میں میرے دل و دماغ نے زندگی کے اس نئے روپ سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔ ابتدائی دنوں کی وحشت اب کم کم تھی اور جیل کے دیوار و در اور چہرے مانوس لگنے لگے تھے۔ مجھے شام کے وقت تھوڑی دیر کے لئے جیل کے احاطے میں موجود مختصر سے سبزہ زارمیں چہل قدمی کی اجازت بھی دے دی گئی تھی۔ ایک شام میں پھولوں کی ایک روش کے کنارے چلتا ہوا جا رہا تھا کہ جب اچانک میری نظر اسی خوبرو نوجوان پر پڑ گئی جسے میں نے اس روز کچہری میں پا بہ زنجیر دیکھا تھا۔ میں نے اسے فورا پہچان لیا۔ وہ سرمئی رنگ کا معمولی شلوار قمیص پہنے تھا مگر اس کی رعنائی اور سج وہی تھی۔ اتنے عرصے میں صرف یہ تبدیلی آئی تھی کہ ان نے ہلکی سی داڑھی رکھ لی تھی جو اس پر اچھی لگ رہی تھی۔
اسے دوبارہ دیکھ کر دل کو خوشی کا سا احساس ہوا تھا۔ یہ حسن اتفاق تھا کہ ہم ایک ہی جیل میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ شاید اب میرے تشنہ سوالوں کے جواب مجھے ملنے والے تھے۔ میں فورا آگے بڑھا اور ’السلام علیکم‘ کہہ اس سے مصافحہ کیا۔ وہ اپنی دھن میں مگن چلا آ رہا تھا۔ ایک مکمل اجنبی شخص کے یوں اچانک پیش قدمی کرنے سے وہ ایک لمحے کو سٹپٹا گیا۔ مگر پھر اس نے جلدی سے اپنے آپ پر قابو پایا۔ میرے سلام کا جواب بہت شائستہ انداز سے دیا اور پھر بڑے سلیقے سے مجھے اپنا تعارف کروانے کو کہا۔ میں مسکرایا اور اپنا مختصر تعارف اس سے کروا دیا۔ اس نے خوشی کا اظہار کیا اور بتایا کہ اسے ڈاکٹر سیرت کہتے ہیں۔
’ارے واہ کیا خوبصورت نام ہے۔ سیرت۔ اور آپ تو ڈاکٹر بھی ہیں ماشا اللہ۔ بڑی خوشی ہوئی‘
’جی شکریہ‘۔ وہ مسکرا کر بولا۔ ’سیم ہیئر‘۔
۔ اچھا آ آ۔ تو ڈاکٹر صاحب۔ آپ بیماروں کے ڈاکٹر ہیں یا طالب علموں کے؟ ‘ میں نے پوچھا
میری بات سن کر وہ بے اختیار ہنس دیا۔ ’ سرعلم بھی تو بیمار کر سکتا ہے اگرطالب کی طلب صادق نہ ہو۔ ویسے آپ نے ٹھیک کہا میں نے کالج میں جسمانی بیماریوں کا علم ہی پڑھا ہے۔ ‘
بڑی گہری باتیں کرتے ہیں آپ ڈاکٹر صاحب۔ آپ سے دوبارہ ملاقات کی خواہش رہے گی۔ ‘
’ جی شکریہ سر۔ ضرور‘
’ آپ کا سیل کہاں ہے۔ ‘
۔ اس نے اشارے سے بتایا کہ اس کا سیل دوسرے بلاک میں تھا یعنی میرے والے بلاک سے خاصا دور۔
’ اچھا تو یہ بات ہے۔ تو پھر آپ سے دوبارہ ملاقات کی کوئی سبیل نکالنی ہو گی۔ چلیں دیکھتے ہیں‘۔
’چلیں تو پھر ہوتی ہے ملاقات۔ اللہ حافظ۔ ‘
’اللہ حافظ۔ ‘
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


