اسکول کی دہلیز پر ملاقات


‘مجھے افسوس ہے سر‘ وہ کچھ وقفے کے بعد ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔ ’ لیکن آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ہمارا ایک ناخوشگوار فریضہ ہے۔ ‘ پھر اس نے اپنے ماتحت افسر کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے کہا ’ آپ ان صاحب کے ساتھ چلے جایئے۔ یہ آپ کو ایک سوالنامہ دیں گے جسے آپ کو پر کرنا ہو گا۔ ضابطے کی کارروائی مکمل ہو جائے تو ہم آپ کے وکیل یا آپ کے گھر والوں سے آپ کی بات بھی کرا دیں گے۔ ہم آپ کو ہر طرح کی قانونی مدد فراہم کریں گے سر۔ آپ گھبرائیں نہیں‘۔

ضابطے کی کارروائی جو اس دن شروع ہوئی تو پھر اگلے ایک سال تک جاری رہی۔ لیکن آج یہ سلسلہ بہرحال اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا تھا۔ آر یا پار۔

آج فیصلے کا دن تھا۔ فیصلہ تو جج صاحب نے دراصل پچھلی تاریخ پر ہی محفوظ کر لیا تھا۔ آج انہیں صرف اس کا اعلان کرنا تھا۔

اس مقدمے میں اپنا دفاع کرنے کے لیے میں نے پچھلے ایک سال میں روپیہ پانی کی طرح بہایا تھا۔ شہر کے بہترین وکلا کا ایک پورا پینل اپنے لئے مختص کیا تھا۔ انہوں نے میرا کیس بہت اچھا لڑا تھا۔ میرے حق میں دلائل اور قانونی موشگافیوں کے ڈھیر لگا دیے تھے۔ لیکن میرا اپنا دل میرے حق میں گواہی نہیں دے رہا تھا۔ مجھے اپنی ساری تگ و دو بیکار جاتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ جب ہوا ہی مخالف ہو تو ناخدا کیا کرے۔

اور پھر احتساب عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔

فرد جرم میں مجھ پر لگائے گئے الزامات درست ثابت ہو گئے تھے۔ چنانچہ مجھے تمام منقولہ و غیر منقولہ جایئداد کی ضبطی اور بھاری جرمانے کے ساتھ ساتھ دس برس قید کی سزا بھی سنا دی گئی تھی۔

میں نے جس استقامت کے ساتھ یہ فیصلہ سنا تھا خود مجھے اس پر حیرت ہوئی تھی۔ شاید میرے دل کے کسی نہاں خانے میں کسی نادیدہ طاقت نے یہ فیصلہ پہلے سے لکھ کر رکھا ہوا تھا۔ جبھی مجھے وہ صدمہ نہیں ہوا تھا جو شاید ہونا چاہیے تھا۔

جیل میں پہلا دن بہت خوفناک ہوتا ہے اور رات اس سے بھی زیادہ بھیانک۔

جس دن مجھے حوالات سے جیل منتقل کیا گیا اس دن صبح کو میرے وکیل صاحب نے مجھے بہت تسلی دلائی تھی کہ اگلی عدالت میں دائر کرنے کے لیے اپیل تیار کر لی گئی تھی اور یہ کہ وہاں ہماری کامیابی یقینی تھی۔ مگر میں جانتا تھا کہ تنکے کا یہ سہارا ڈوبے ہوئے کو پار نہیں لگا سکتا۔ میرے لئے سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ میری بیوی اور بچے کئی سالوں سے بیرون ملک مقیم تھے۔ بیوی نے پچھلے کچھ دنوں میں کئی بار فون کیا تھا۔ وہ بہت رورہی تھی اور شدت سے وطن واپس آنا چاہ رہی تھی مگر میں نے اسے سختی سے منع کر دیا تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے برے دنوں کا کوئی سایہ بھی مرے خاندان پر پڑے۔ میرے بچے غیر ملکی اداروں میں پڑھ رہے تھے اور ہم دونوں نے ان کو پیش آمدہ صورت حال سے مکمل طور پر لاعلم رکھا تھا۔

ضلعی انتظامی افسر ہونے کے ناطے جیل تقریبا ہمیشہ ہی میرے دفتر سے منسلک رہی تھی۔ پچھلے پچیس برسوں میں شاید ہزاروں ملزمان میرے قلم کے فیصلوں سے جیل گئے ہوں گے۔ اور آج۔ آج میں خود کسی اور کے قلم کا شکار ہو کر جیل میں داخل ہو رہا تھا۔

جیل کے بھاری بھرکم سیاہ پوش اہلکار کی معیت میں میں جس طویل بلاک سے گزر کر آیا تھا اس کے دونوں اطراف چھوٹے چھوٹے نیم تاریک سیل بنے ہوئے تھے۔ مگر مجھے ان میں کسی انسان کی موجودگی کا احساس نہ ہوا تھا۔ پورا راستہ ایک ہولناک سناٹے میں لپٹا ہوا تھا جس میں سوائے اس اہلکار کے بھاری چرمی جوتوں کے چرچرانے کے کوئی اور آواز نہ آ رہی تھی۔ ’ پتہ نہیں میرے علاوہ اس جیل میں کوئی دوسرا زندہ وجود ہے بھی کہ نہیں ‘ میرے دل نے ایک بہت گہرا غوطہ لگایا۔ نو آبادیاتی دور کے بنے ہوئے اس خستہ حال قید خانے میں تاریکی ہر قدم پر گہری ہوتی ہوئی محسوس ہوتی تھی اور سیلن کی بدبو شدید تر ہوتی ہوئی۔ بلاک کے آخری اور تاریک ترین سیل کے سامنے پہنچ کر وہ اہلکار رکا، اپنے چابیوں والے گچھے میں سے ایک چابی منتخب کی اور تالے میں لگائی۔

کڑک کی آواز سناٹے میں گونجی۔ تالا کھلا اور بھاری آہنی در ایک چرچراہٹ کے ساتھ وا ہو گیا۔ اہلکار نے اپنے فولادی ہاتھ سے میرا بازو تھاما اور مجھے سیل کے اندر دھکیل دیا۔ میرے پیچھے لوہے کا دروازہ ایک تیز جھٹکے سے بند ہوا۔ ایک کڑک دار آواز کے ساتھ چابی دوبارہ گھومی اور میں قید کر لیا گیا۔ میں نے سنگین آہنی سلاخوں کو تھام کر گھور اندھیرے میں سے باہر جھانکنے کی کوشش کی مگر مجھے باہر کچھ دکھائی نہ دیا۔ وہ سیاہ پوش اہلکار باہر پھیلے ہوئے اندھیرے کا حصہ بن چکا تھا۔

میرا دل ایک دم بالکل بیٹھ گیا۔ جی چاہا کہ اتنے زور زور سے چیخوں اور چلاوں کہ کوئی آ جائے اور مجھے یہاں سے نکا لے۔ لیکن میری آواز میرے حلق میں گھٹ کے رہ گئی۔ میں پیچھے مڑا تو سیلی ہوئی ہوا کے ایک بدبو دار بھبھکے نے میرا استقبال کیا۔ مجھے یکدم متلی محسوس ہوئی۔ لگا جیسے سب کچھ باہر نکلنے والا تھا لیکن پھر میں نے خود کو سنبھالا۔ آنکھیں تاریکی سے ذرا آشنا ہوئیں تو مجھے احساس ہوا کہ اس کمرے میں ایک چارپائی بھی موجود تھی۔ میں اس پر بیٹھ گیا۔ سخت کھردرے بان کی یہ جھلنگا چارپائی لمبائی چوڑائی میں سیل کے کل رقبے سے بس ذرا ہی کم تھی کیونکہ میں یہاں بیٹھ کر آسانی سے سیل کی چاروں دیواروں کو چھو سکتا تھا۔ میرے ہاتھوں پیروں میں سکت نہ رہی تھی۔ میں چارپائی پر ڈھیر ہو گیا۔ پتہ ہی نہ چلا کہ کب میرے آنسووں نے میرے لباس کو پورا بھگو دیا۔ سیل کے اندر کی فضا اب اور بھی نم آلود ہوگئی تھی کیوں کہ ا س میں میرے اپنے اشکوں اور پسینے کی گیلاہٹ بھی شامل ہو چکی تھی۔

جیل کی پہلی رات گھور اندھیرے میں اس کھردری چارپائی پر لیٹے ہوئے مجھے اپنی پرتعیش خواب گاہ کے نرم گدیلے بہت یاد آئے اور پھر سے میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ بیوی اور بچوں کے چہرے آنکھوں کے سامنے آئے تو بے بسی کا احساس اور بھی شدید ہو گیا۔ معاشرے میں رسوائی اور خاندان اور احباب میں ہونے والی ذلت کا احساس ہوا تو سانس جیسے بند ہونے لگی اور میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ سیاسی دوستوں کی طوطا چشمی کا بھی دکھ تھا جنہوں نے اس نازک موقع پر مجھ سے منہ پھیر لیا تھا۔

مجھ سے اور ضبط نہ ہو سکا اور میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ میری گریہ زاری سننے کے لیے کوئی ذی نفس وہاں موجود نہ تھا چنانچہ میں سیر ہو کر رویا۔

آنسووں کا ذخیرہ ختم ہوا تو دل قدرے ہلکا محسوس ہوا اور طبیعت میں تھوڑا سا سکون آ گیا۔

پھر یوں ہوا کہ آپ ہی آپ میری بیتی ہوئے زندگی ایک خودکار فلم کی طرح میرے سامنے دیوار پر چلنے لگی اورمیں ایک محویت سے اس کو یوں تکنے لگا جیسے یہ میری نہیں بلکہ کسی اور کی زندگی کی کہانی تھی۔

باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6