اسکول کی دہلیز پر ملاقات


The dream of the prisoner – Moritz von Schwind

’اس کے ساتھی اسے سنبھالنے لگے لیکن وہ ہاتھ پیر چھوڑ چکا تھا گردن ایک طرف ڈھلک گئی تھی۔ ہر طرف ’مار دیا مار دیا‘ کا شور مچ گیا۔ ہم لوگوں کے ہاتھ پاوں پھول گئے۔ ہم نے اسے چیک کیا۔ نو پلس نو ہارٹ بیٹ۔ ایک ساتھی نے اس کی چیسٹ پمپنگ کی۔ سی پی آر کی کوشش بھی کی مگر کچھ نہ ہوا۔ سر! میں تو پتھر ہو گیا تھا۔ لگتا تھا میں کہیں خلا میں کھڑا ہو کر یہ تماشا دیکھ رہا ہوں۔ ہم لوگوں نے زبردستی اس لڑکے کو اس کے ساتھیوں سے چھینا اور ایمرجنسی میں لے گئے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ ایک سینئر لڑکے نے اسٹیتھ لگا کرہارٹ چیک کیا۔ پلس دیکھی آئی لڈز اٹھا کردیکھیں اور پھر میری طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلا دیا۔ میں حواس باختہ ہو گیا۔ لڑکوں نے مجھے سنبھالا۔ باہر سے اٹھنے والے شور سے لگتا تھا کہ مشتعل لوگ ہم پر حملہ کرنے آ رہے تھے۔ میرے ساتھیوں نے مجھے سٹور روم میں بند کیا باہر سے لاک کیا اور فرار ہو گئے۔ ‘

یہاں تک کہہ کر ڈاکٹر کئی لمحات کے لئے خاموش ہو گیا۔ میں گنگ تھا۔

’بعد کی کہانی لمبی ہے سر‘ اس نے ایک لمبے وقفے کے بعد دوبارہ کہنا شروع کیا۔ ’ مختصر یہ کہ وہ لڑکا مر گیا تھا۔ میرے ایک ہی پنچ نے اسے ختم کر دیا تھا۔ مجھے اس کا نام بھی نہیں پتہ تھا۔ اللہ جانے کون تھا کہاں سے آیا تھا۔ میری اس کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ وہ اپنے بھائی کو لے کرہسپتال آیا تھا لیکن خود ایک ڈاکٹر کے ہاتھوں مارا گیا۔ ‘

۔ ’ تو آپ نے اپنے آپ کو بچانے کی کوئی کوشش نہ کی؟ جرم قبول کر لیا عدالت میں؟ ‘

’کیا بچانا تھا میں نے اپنے آپ کو سر۔ اس دن سے آج تک میری آنکھوں کے سامنے سے اس لڑکے کا مردہ چہرہ ہی نہیں ہٹ رہا۔ میں کیا کہتا عدالت سے؟ میرے کلاس فیلوز میرے گھر والے مجھ پر چیختے رہے میرا وکیل میری منتیں کرتا رہا کہ میں بس ایک بار جرم سے انکار کر دوں آگے اس کا کام ہے۔ لیکن میں کیسے انکار کرتا۔ جج نے پوچھا تو میں نے کہہ دیا کہ ہاں میں نے ہی کیا ہے یہ قتل۔ میں ہی قاتل ہوں۔ ‘

۔ ’ اف میرے اللہ۔ آپ تو خود ڈاکٹر ہیں سیرت صاحب۔ یہ آپ نے کیسے کر دیا؟ یہ سکھایا تھا آپ کو آپ کی تعلیم نے؟ ‘

۔ ’ تعلیم؟ اسے آپ تعلیم کہتے ہیں؟ ‘ وہ ایک دم پرجوش ہو گیا۔ ۔ ’کیسی تعلیم تھی وہ؟ اگر میں تعلیم یافتہ ہوتا تو ایسے جان لیتا کسی بے گنہ کی؟ سر یقین کریں مجھے جیل میں آ کے پتہ چلا ہے کہ میں نے اٹھارہ سال صرف کتابیں چاٹی ہیں۔ علم نہیں حاصل کیا میں نے بس رٹے مارے ہیں اگزیم پاس کرنے کے لیے۔ سب کچھ ادھر اکٹھا ہوتا رہا‘ اس نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا۔ ’ ایک بھی لفظ یہاں تک نہیں پہنچا۔ ‘ وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھا کر بولا۔ ’ ایک لفظ بھی نہیں سر جی‘

میں سن ہو گیا اس کی بات سن کر۔

وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوگیا اور بڑے جوش سے بولا۔ ’ تعلیم تو میں نے یہاں جیل میں آ کر لینا شروع کی ہے سر۔ آئیں میں آپ کو دکھاوں۔ ‘ وہ مجھے کونے میں پڑی میز تک لے گیا ’ یہ ہے اصل علم۔ ‘ وہ مجھے دکھانے لگا۔ ’یہ دیکھیں قرآن پاک ترجمے اور تفسیر کے ساتھ میں نے یہاں آ کر پڑھا ہے۔ یہ دیکھیں سیرت پاکﷺ بخاری شریف اور یہ نہج البلاغہ میں نے یہاں آ کر پڑھی ہیں۔ گوتم بدھا عیسی اور بھگوان کرشن کے بارے میں میں نے یہاں آ کر پڑھا ہے۔ اور یہ بھی دیکھیں۔ ‘ وہ مجھے اپنی ادبی کتابیں اٹھا اٹھا کر دکھانے لگا۔ ’میں نے یہاں آ کر زندگی میں پہلی بار ادب پڑھا ہے۔ میں نے غالب، میر، اقبال، فیض، فراز اورساحر کو پڑھا ہے۔ قاسمی صاحب کو غلام عباس، بیدی اور منٹو کو پڑھا ہے انتظار حسین، تارڑ اور اسد محمد خان کو پڑھا ہے۔

سر میں نے یہاں ٹیگور، مارکیز اور رسل کا مطالعہ کیا ہے۔ ان اساتذہ نے مجھے پہلی بار اپنی ذات کے اندھے کنویں میں جھانکنے کا حوصلہ دیا ہے سر۔ پہلی بار مجھے اپنے اور دوسروں کے انسان ہونے کا ادراک ہوا ہے۔ آج تک گھر میں ماں باپ اور سکول کالج میں استادوں نے مجھے ایک ہی بات سکھائی کہ نمبر زیادہ کیسے لینے ہیں۔ ڈگری کونسی قیمتی ہے مارکیٹ میں۔ مجھے صرف یہ پتہ تھا کہ پڑھائی نوکری کے لئے کرتے ہیں اور باقی لٹریچر وغیرہ سب ویسٹ آف ٹائم ہے۔ سر جی ہمارے استاد ہمیں ڈاکٹر بناتے ہیں، انجنیئر بناتے ہیں، بزنس مین، وکیل اور افسر بناتے ہیں بس انسان نہیں بناتے۔ سر آپ اتنے قابل آدمی ہیں مجھے بتائیں کہ شعور ذات کا ڈپلومہ کسی انسٹیٹوٹ سے کیوں نہیں ملتا؟

کوئی کالج احترام انسانیت کا کورس کیوں نہیں کراتا؟ خود شناسی کی ڈگری کوئی یونیورسٹی آخر کیوں نہیں دیتی؟ چلو نہ دیں۔ نہ دیں۔ تو پھر یہی ہو گا نا ایک دن کہ کوئی ڈاکٹر ماں باپ کی اولاد خود ڈاکٹر۔ سکول کالج کے سارے امتحان ٹاپ کرنے والا۔ میری طرح ایک لمحے کی بھول کی سزا جیل میں بھگت رہا ہو گا اور باہر اس کے ماں باپ نہ زندوں میں ہوں گے نہ مردوں میں۔ سر جی میں ہر رات رب سے دعا کرکے سوتا ہوں کہ مقتول کا مردہ چہرہ کسی طرح مجھے بھول جائے لیکن میری دعا نہیں سنی جاتی۔ اس کا بھوت یہیں پھرتا رہتا ہے۔ ‘

ڈاکٹر بولتے بولتے چپ ہو گیا۔ آواز رندھ گئی تھی ْ۔ اس نے منہ دوسری طرف کر کے شاید اپنے آنسو صاف کیے۔ جگ سے انڈیل کر پانی پیا۔ ذرا وقفے کے بعد خود کو سنبھال کر وہ میری طرف مڑا اور بولا۔

’آپ اپنی سنائیں سر۔ آپ نے پڑھائی شروع کی یا نہیں ابھی تک؟ ‘۔

میں کچھ کہہ نہ سکا۔ بس خاموش نظریں جھکائے فرش پر رینگتے ہوئے ایک کیڑے کو دیکھتا رہا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6