اسکول کی دہلیز پر ملاقات
میں نے اپنے جیل سپر انٹنڈ نٹ سے رابطہ کیا، تھوڑی رد و کد کے بعد اس نے اگلے اتوار کی شام کو ایک گھنٹے کے لیے مجھے ڈاکٹر سیرت سے اس کے سیل میں جا کر ملنے کی اجازت دے دی۔ اتوار کی شام میں ڈاکٹر سیرت کے سیل میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ تلاوت قرآن میں مصروف تھا۔
یہ سیل میرے والے سیل جتنا ہی بڑا تھا۔ فرق یہ تھا کہ یہاں کوئی پلنگ یا چارپائی نہ تھی بس ایک موٹی میلی دری بچھی تھی کہ جس طرح کی دریاں جیل کے اندر قیدی بنایا کرتے ہیں۔ ایک طرف ایک ملگجا تکیہ لگا تھا۔ دوسرے کونے میں پانی کا جگ گلاس اور چا ئے کے دو کپ پڑے تھے۔ چھت میں تار سے ایک سو واٹ کا بلب لٹکا ہوا تھا جس کی مدھم روشنی سیل کے وسط میں پڑ رہی تھی۔ سامنے دیوار پر ایک موٹی سی چھپکلی کسی پتنگے پر لپک رہی تھی۔ میں نے چپل اتارے۔ دری کے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کمرے میں بہت سی کتابیں تھیں۔ کچھ تو میرے سامنے دری پر پھیلی ہوئی تھیں کچھ تکیے کے ساتھ رکھی تھیں اور باقی لکڑی کے اس میز پر دھری تھیں جو ادھر کونے میں پڑا ہوا تھا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ ڈاکٹر کو بھی میری طرح کتابوں سے شغف تھا۔ ایک نگاہ دوڑانے پر مجھے اندازہ ہو گیا کہ زیادہ تر کتابیں مذہبیات سے متعلق تھیں لیکن ادب اور شاعری پر بھی کتب نظر آ رہی تھیں۔ دیوان غالب کے علاوہ مجھے وہاں کلیات اقبال زنداں نامہ اور شہر آشوب بھی پڑی نظر آئیں۔ کچھ ناول اور افسانوی مجموعے بھی موجود تھے۔ کہیں کہیں مغربی ادب کو بھی جگہ ملی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر کا ذوق خاصا اچھا لگتا تھا کتابوں کے بارے میں۔
تلاوت ختم کر کے ڈاکٹر نے کلام پاک کو جزدان میں لپیٹا اور میز پرسب کتابوں کے اوپر رکھ دیا۔ پھر واپس پلٹ کر بڑی گرم جوشی سے مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے چائے کا کپ پیش کیا۔
’جی سر جی ‘۔ اس سے پہلے کہ میں اس سے اس کی کتابوں کے بارے میں کچھ کہتا سیرت چائے کا سپ لیتے ہوئے ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے گویا ہوا۔ ‘ پہلے کون بولے گا۔ آپ یا میں؟ ‘
میں بھی مسکرا دیا۔ نوجوان لگی لپٹی رکھنے کا قائل نہ تھا۔
’آپ ہی شروع کیجیے جناب‘۔ میں نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔ ’ورنہ میرا تجسس میری جان لے لے گا۔ میرے لیے ایک میڈیکل ڈاکٹر اور وہ بھی آپ جیسی نفیس شخصیت کا مالک۔ اس کا جیل میں ہونا۔ دل نہیں مانتا۔ یہ کیسے ہو گیا۔ ‘
’دل تو میرا آپ کے لیے بھی نہیں مانتا سر جی۔ ۔ ‘ وہ مسکرا کرمیری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
شیشے پر ایک پتھر آن کر گرا۔ ایک بھیانک چھناکے کی آواز آئی اور کرچیاں ہر طرف بکھر گئیں۔
ڈاکٹرکہہ رہا تھا۔ ’ اتنا نامی گرامی بیوروکریٹ۔ سرکار پاکستان کا اتنا قابل افسر۔ انگریزوں سے اچھی انگریزی بولنے اور لکھنے والا۔ اور جیل میں؟ ‘
’میرا معاملہ ذرا مختلف ہے برخودار۔ ‘ میں نے ایک توقف کے بعد بڑے تحمل سے اسے جواب دیا۔ گو میں اس سے آنکھ نہ ملا پا رہا تھا۔ ’ جیسا تم سمجھ رہے ہو ویسا کچھ نہیں ہے حقیقت میں۔ یہ سب تو۔ ہماری مقامی سیاست کا شاخسانہ ہے۔ ہمارے ملک میں جب حکومت بدلتی ہے تو یہ سب ہو تا ہے۔ ‘ میں نے اٹک اٹک کر جملہ پورا کیا۔
وہ زور سے ہنس دیا۔ مجھے بہت تلخی محسوس ہوئی۔
’اچھا آ آ۔ ‘ وہ بولا۔ ’ لیکن اخبار تو سر بہت مختلف سٹوریاں سنا رہے ہیں۔ خیر۔ آپ ہی بہتر جانتے ہوں گے۔ لیکن یہ تو آپ بہرحال مانیں گے کہ کہیں نہ کہیں کوئی بہت گہری گڑ بڑ ضرور ہے سسٹم میں۔ کچھ ہے جو بہت زیادہ غلط ہو رہا ہے لیکن اس طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا۔ جو کچھ ہمارے اخبار لکھتے ہیں وہ تو آئس برگ کا سرا بھی نہیں شاید۔ ناسور کہیں بہت گہرا چلا گیا ہے سر۔ بہت زیادہ گہرا‘ وہ دوسری جانب نظریں اٹھائے سیل کے چھوٹے سے روشندان سے باہر ڈوبتی ہوئی شام کا منظر دیکھ رہا تھا جس کے رنگ وہاں سے کسی مصور کے پیلٹ جیسے لگ رہے تھے۔
’ لیکن آپ یہاں آئے کیسے ڈاکٹر صاحب؟ کیا جرم کیا ہے آپ نے آخر؟ ‘ مجھ سے نہ رہا گیا۔
وہ پل بھر کو چپ رہا پھر بولا۔
’ سر میں نے قتل کیا ہے۔ ‘ یہ جملہ کہتے ہوئے اس کی آواز ذرا سی کانپی تھی۔
میں نے جو سنا مجھے اپنے کانوں پریقین نہ آیا۔ میں نے کپ نیچے رکھ دیا۔
۔ قتل؟ آپ نے کسی کو قتل کر دیا؟ ڈاکٹر صاحب۔ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ ‘
’جی سر میں ٹھیک کہہ رہا ہوں‘ اس نے ایک سرد آہ بھر کے کہا۔ ’ میں نے ایک قتل کیا ہے۔ میں قاتل مسیحا ہوں۔ جان بچانے کا حلف اٹھایا اور پھر جان لے لی کسی کی‘۔
’ مگر کیوں؟ کیسے؟ مطلب یہ کہ یہ ہوا کیسے؟ ‘
’ بس سر ہو گیا مجھ سے۔ ‘ اس کے لہجے میں گہرا تاسف اور دکھ ابھر آیا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہا پھر آہستہ آہستہ بولنے لگا جیسے کسی پرانے زخم کو چھیل رہا ہو۔ ’ ہاسپٹل میں ینگ ڈاکٹرز نے سٹرایئک کی ہوئی تھی۔ پہلے ہم نے او پی ڈی بند کی پھر ایمرجنسی بھی بند کر دی۔ پیشنٹس کی بری حالت تھی۔ ان کے لوگ پاگل ہوئے پھر رہے تھے اور ہم لڑکے لڑکیاں سارے باہر روڈ پر پروٹسٹ کر رہے تھے سروس سٹرکچر کے لیے سیلری بڑھانے کے لیے۔ اچانک یہ لڑکا آگیا کہیں سے۔ میلی سی شلوار قمیض۔ شیو بڑھی ہوئی۔ سانولا دبلا اورچھوٹا قد۔ لیکن آواز کراری تھی۔ حلیے سے کوئی مزدور ٹائپ لگا مجھے۔ کہنے لگا کہ اس کے بھائی کا سیریس ایکسیڈنٹ ہوا ہے اسے فوری دیکھا جائے۔ ہم نے اسے ڈانٹ کر بھگا دیا کہ ہڑتال میں ہم کسی پیشنٹ کو نہیں دیکھیں گے۔ وہ چلا گیا لیکن تھوڑی دیر بعد اپنے ساتھ اور کئی بندے لے کر آ گیا جو سارے اسی کی طرح کے لوگ تھے۔ وہ سب ہمارے خلاف نعرے لگانے لگے۔ ‘
’پھر؟ ‘ میں نے پوچھا۔
’ ان میں اور ہم میں تو تو میں میں ہوگئی۔ وہ لڑکا مجھے بولا کہ تم ڈاکٹر نہیں قصائی ہو۔ مجھ سے برداشت نہ ہوا۔ میں نے ایک زوردار مکا اسے جڑ دیا جو اس کی کنپٹی پر لگا۔ خدا جانے میں کتنے غصے میں تھا اور اسے کتنی چوٹ آئی تھی۔ وہ میرے سامنے نیچے گرا تھوڑی دیر تڑپا اور پھرساکت ہو گیا۔ ‘
’اوہ مائی گاڈ‘۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


