جماعت احمدیہ، چوہدری ظفراللہ خان اورباؤنڈری کمیشن میں گورداسپور کی بحث


اب گورداسپور کی دوسری خصوصیات کی طرف آتے ہیں جیسا کہ ثقافتی خصوصیات۔ گورداسپور ضلع میں سارا پریس مسلمانوں کی ملکیت ہے اور وہ درج ذیل پر مشتمل ہے۔

ایک شہری روزنامہ ۔ الفضل
ایک اردو ہفتہ وار ۔ نور
دو اردو ماہوار ۔ دنیا کے مذاہب پر نظر اور فرقان
ایک انگلش ماہوار ۔ ریویو آف ریلیجنز
تین سہہ ماہوار۔ ایک کمرشل اردو ۔ تجارتی مخبر۔ ایک گورمکھی ۔ ست بچن۔ ایک کرشن سندیش۔

یہ سب مسلمانوں کی ملکیت ہیں۔’
(The Partition of Punjab 1947, Volume 2, Page 439-441, 1983 Edition)

آگے چل کر کہتے ہیں۔

‘پھر گورداسپور ضلع میں دو ڈگری کالج ہیں، ایک بٹالہ میں جو عیسائی ہے، اور ایک قادیان میں جو مسلمان ہے۔ قادیان کے کالج نے بی ایس سی اور ایم ایس سی کے لئے سائینس کی کلاسز شروع کرنے کی درخواست بھی دی ہوئی ہے۔ وہاں سائینس ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہے، صوبے کا اکلوتا، اورتقریباً بالیقین انڈیا کا، اور یہ سٹوڈنٹس کو ایم ایس سی کورسز کی پریکٹیکل سائیڈ کے لئے تیار کرتا ہے۔

پھر مذہبی طور پر قادیان کی اہمیت آپ کو احمدیہ میمورینڈم کے ذریعے وکیل نے پہلے ہی بتا دی ہے اور میں آپ کی توجہ صرف ایک خصوصیت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ قادیان مسلمانوں کی سب سے زیادہ فعال اور تعلیمی تنظیم کا ہیڈکوارٹر ہے جس کی شاخیں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔’
(The Partition of Punjab 1947, Volume 2, Page 441, 1983 Edition)

آگے بٹالہ اور قادیان میں صنعتکاری کے بارے میں بتا کر کہتے ہیں۔

‘یہ پوزیشن ہے گودراسپور ضلع کی۔ یہ مجموعی طور پر مسلم اکثریتی ضلع ہے۔ اس کی تین تحصیلوں، بٹالہ، گورداسپور اور شکر گڑھ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اس میں مسلمان بالغوں کی اکثریت ہے، اگر اس کا کوئی تعلق ہے۔ یہ اکیلا ضلع ہے جہاں مسلمان صنعتکاری میں اپنے قدم جمانے پر قابل ہوئے ہیں۔ یہاں پر عالم گیر مذہبی مسلمان تنظیم کا ہیڈ آفس ہے۔ ثقافتی طور پر، جیسا کہ میں نے بتایا ہے، یہ پریس، پبلیکیشنز اور کالجز کی تعداد کے حساب سے دوسری قوموں سے بہت آگے ہے۔ میں قادیان کے حوالے سے ایک بات بتانا بھول گیا۔ اس میں ضلع کا لڑکیوں کا سب سے بڑا سکول ہے، جس میں 1300 لڑکیاں پڑھتی ہیں۔ درحقیقت قادیان کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ 15,000 کی کل آبادی میں سے 9000 ووٹروں کا اندراج ہے۔ یعنی عملی طور پر تمام بالغوں کے ووٹ کا اندراج ہے اور خواتین ووٹروں کی تعداد مرد ووٹروں کے برابر ہے۔ اس سے آپ تعلیم کے معیار اور دوسری کوالیفیکیشنز کا اندازہ لگا سکتے ہیں جو کسی قوم کو عملی طور پر بالغ فرینچائز قوم بناتی ہے۔ کیسے اور کن باتوں کی بنیاد پر یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ گورداسپور ضلع کو غیر مسلم اکثریتی ضلع تصور کیا جائے اور اس کو مشرقی پنجاب میں شامل ہونا چاہئے؟ میں عرض کرتا ہوں کہ ایسا کرنے کا ادنیٰ سا بھی جواز بھی نہیں ہے۔’
(The Partition of Punjab 1947, Volume 2, Page 442-443, 1983 Edition)

ان سب حوالوں کے بعد یہ کہنا کہ سر چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب کی وجہ سے گورداسپور ضلع بھارت میں شامل ہوگیا انتہائی جہل کی دلیل ہے۔ سر چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے تو ہر طریقے سے اتمام حجت کر دیا تھا،اور کوئی بھی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا تھا۔

دوسرا الزام یہ تھا کہ جماعت احمدیہ قادیان نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنا الگ میمورینڈم جمع کرایا ، یعنی کہ صرف الگ میمورینڈم جمع کرانا ہی پاکستان کے کیس کے خلاف کوئی سازش تھی۔ مختلف وجوہات کی بنا ء پر مسلم لیگ اور پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے بہت سارے میمورینڈم جمع کرائے گئے تھے ۔ یہ ساری لسٹ اسی کتاب کی جلد اول کے صفحات 474-477 میں دی گئی ہے۔ یہ لسٹ انکلوژر نمبر 243 کے تحت ہے اور اس کا عنوان یہ ہے۔

‘ان محضر ناموں کی فہرست جو پنجاب باؤنڈری کمیشن کے آفس میں 18 جولائی 1947 تک وصول ہوئے۔’

اب میں ان 49 محضر ناموں میں سے کچھ کے ناموں کو لکھتا ہوں جنہوں نے پاکستان کے حق میں محضر نامے جمع کرائے تھے۔

1 احمدیہ کمیونٹی قادیان (فہرست میں نمبر 3 )
2پنجاب مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن (فہرست میں نمبر 7 )
3 سٹی مسلم لیگ منٹگمری (فہرست میں نمبر8)
4 بٹالہ مسلم لیگ (فہرست میں نمبر 14 )
5 ڈسٹرکٹ مسلم لیگ لدھیانہ (فہرست میں نمبر 16 )
6 ینگ مینز (Young Men’s) مسلم ایسوسی ایشن (فہرست میں نمبر 17 )
7 سٹی اینڈ ڈسٹرکٹ مسلم لیگ جالندھر (فہرست میں نمبر 19 )
8 انجمن مغلیاں ، لوہاراں اور ترکھاناں پنجاب (فہرست میں نمبر 22 )
9 انجمن بھٹی راجپوتاں پنجاب (فہرست میں نمبر 23)
10 انجمن رائیاں جالندھر (فہرست میں نمبر 24 )
11 تحصیل جالندھر مسلم راجپوت ایسو سی ایشن (فہرست میں نمبر 25 )
12 مسلم راجپوت کمیٹی ، تحصیل گڑھ شنکر اور نواں شہر (فہرست میں نمبر 26 )
13 مسلم لیدر مرچنٹس ایسوسی ایشن ( فہرست میں نمبر 27 )
14 انجمن مدرستہ البنات جالندھر (فہرست میں نمبر 28 )
15 مزنگ سٹڈی سرکل (فہرست میں نمبر 34 )

اب کیا ان پندہ محضر ناموں کا پاکستان کے خلاف سازش کہا جا سکتا ہے جو کہ درحقیقت مسلم لیگ کا کیس مضبوط کرنے اور پاکستان میں شامل ہونے کے لئے پیش کئے گئے تھے ؟

ایسا بودا اعتراض کرنے والے دانشور حضرات احمدیوں کو کافر و غیر مسلم قرار دیتے ہوئے احمدیوں سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی خود کو کافر و غیر مسلم سمجھیں ، پھر ایک طرف گلہ کرتے ہیں کہ احمدی ان کا یہ فیصلہ نہیں مانتے اور دوسری طرف احمدیوں پر الزام تراشی کرتے ہیں کہ دیکھو احمدیوں نے اپنے آپ کو مسلمان نہیں مانا جس کی وجہ سے گورداسپور پاکستان میں شامل نہیں ہو سکا۔ ان حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ کانگریس کے بہی خواہ احراری علماء جو پاکستان بننے کے شدید مخالف تھے احمدیوں کو کافر و غیر مسلم کہتے چلے آ رہے تھے حتی کہ علامہ اقبال نے بھی کانگریسی و احراری مولویوں کے ہمنوا ہو کر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے کا مطالبہ کیا تھا، تو اس صورتحال میں احمدیوں کا مسلم لیگ اور پاکستان کی حمایت میں مسلمان ہونے کے دعوے کے ساتھ میمورینڈم جمع کرانا منطقی طرز عمل تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4