جماعت احمدیہ، چوہدری ظفراللہ خان اورباؤنڈری کمیشن میں گورداسپور کی بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہٹلر کے ایک وزیر پال جوزف گوئیبل سے ایک فقرہ منسوب ہے (جو کہ اصل میں اس کا ہے نہیں) کہ جھوٹ کو اگر بار بار بولا جائے تو کچھ لوگ اس جھوٹ کو سچ سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ سائیکولوجی میں اسے Illusory Truth Effect کہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ رواج پڑ گیا ہے کہ جس سماجی طبقے کے بارے میں نفرت پھیلانا مقصود ہو اس کے بارے میں اتنا جھوٹ پھیلاؤ کہ اس جھوٹ کی حقیقت کی طرف کسی کا دھیان نہ آئے اور اگر کوئی سوچ سمجھ رکھنے والا انسان اس جھوٹ کو جھوٹ سمجھ بھی لے تب بھی اس پھیلائی ہوئی نفرت کا شکار ضرور ہو جاتا ہے جو کہ ہمارے یار لوگوں کا اصل مقصد ہے۔

آج میں ایسے ہی ایک جھوٹ پر اظہار رائے کروں گا کہ تاریخ کا صفحہ صفحہ جس جھوٹ کے پرخچے اڑانے کے لیے کافی ہے مگر بڑے بڑے جبہ داران ، مؤرخین اور دانشواران ملت اس جھوٹ کو شیر مادر کی طرح حلال سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ میں اس کو تین حصوں میں تفریق کر دیتاہوں اور ان کا جواب بھی اسی مناسبت سے عرض کروں گا۔

پہلا الزام یہ کہ سر چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے، جو کہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کے وکیل تھے، مسلم لیگ کا کیس اس خاص طرز عمل سے لڑا جس کی وجہ سے گورداسپور بھارت کے ساتھ شامل کر دیا گیا۔

دوسرا الزام یہ کہ جماعت احمدیہ قادیان نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنا الگ میمورینڈم جمع کرایا (یعنی کہ صرف الگ میمورینڈم جمع کرانا ہی پاکستان کے کیس کے خلاف کوئی سازش تھی)۔

تیسرا الزام یہ کہ جماعت احمدیہ قادیان نے اپنے میمورینڈم میں اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ جماعت متصور کیا جس کی وجہ سے گورداسپور میں مسلمانوں کی اکثریت اقلیت میں بدل گئی اور گورداسپور کو بھارت کے ساتھ شامل کر دیا گیا۔

اس بات کا ثبوت مولانا اللہ وسایا قاسم صاحب کی کتاب ہے کہ یہ اعتراضات نہ صرف یہ کہ اکثر ہوتے ہیں بلکہ صرف علماء ہی نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگ تحقیق نہ ہونے کے باعث اس جھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مولانا موصوف اٹارنی جنرل کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔

‘اسی طرح بوقت آزادی اور سرحدوں کی حدبندی کے وقت قادیانیوں نے ایک عرضداشت پیش کی کہ وہ مسلمانوں سے الگ ایک جماعت ہیں ۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ پنجاب کے کنارے کے علاقوں میں مسلمان آبادی کا تناسب گھٹ گیا اور بالآخر (ایوارڈ) فیصلے میں گورداسپور ہندوستان کو دے دیا گیا ، تاکہ وہ کشمیر سے تعلق رکھ سکے۔’ (یہ اقتباس اٹارنی جنرل صاحب نے کسی انگریزی جریدے Impact کا پڑھ کر سنایا تھا) ۔
‘ہندوؤں نے کہا کہ احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہیں ۔ آپ نے واقعہ میں مسلم لیگ سے علیحدہ میمورنڈم پیش کر دیا اور یوں مسلمانوں کی تعداد 51 سے 49 رہ گئی ۔’
(پارلیمنٹ میں قادیانی شکست، ترتیب و تحقیق مولانا اللہ وسایا قاسم ، صفحات 83-147 ، اشاعت اول جولائی 2000 ء )

یہ حالت صرف اٹارنی جنرل یحیی بختیار صاحب یا مولانا اللہ وسایا قاسم صاحب کی نہیں ہے بلکہ ہر کس و نا کس اٹھتا ہے اور بغیر تحقیق کئے بے سر و پا الزامات لگانا شروع ہو جاتا ہے۔ ان الزامات کے ساتھ کشمیر کا راستہ جیسی باتیں تڑکے کے طور پر شامل کر کے جماعت احمدیہ اور سر چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب کو غدار اور پاکستان کے خلاف سازش کرنے والا بتایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں مکرم عامر محمود صاحب کے ہم سب پر دو مضمون ‘قیام پاکستان اور جماعت احمدیہ : مظہر برلاس کے آدھے سچ کی تصحیح’ اور ‘متحدہ پنجاب کی تقسیم اور قادیانی ۔۔ ایک اختلافی نوٹ’ اور مرزا سلطان احمد صاحب کا مضمون ‘کیا گورداسپور اور کشمیر کا پاکستان میں شامل نہ ہونا جماعت احمدیہ کی سازش تھی؟’ بھی پڑھنے کے لائق ہیں۔ ان مضامین کے ہوتے ہوئے میں نے مضمون اس لئے لکھا کہ میرے مضمون میں ذرا تفصیل کے ساتھ حوالہ جات شامل کئے گئے ہیں۔

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ معاملات جو کہ تاریخ میں مسلمہ حقیقت کے طور پر سامنے آئے اور جن کی تحقیق و تفتیش کے لیے سرکاری دستاویزات موجود ہیں ان پر سفید جھوٹ کیسے بول دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ زمانہ اقتدار کے دوران 1983 میں نیشنل ڈاکومینٹیشن سینٹر لاہور نے 1947 کی پنجاب کی تقسیم پر چار جلدوں پر باؤنڈری کمیشن کی دستاویزات اور اجلاسات کی کاروائیاں شائع کیں۔ حکومت پاکستان کی کیبنٹ ڈویژن کی ویب سائٹ پر نیشنل ڈاکومینٹیشن ونگ (NDW) کی معلومات کے تحت صفحہ 5 پر لکھا ہے کہ

The Partition of the Punjab 1947 (A set of four volumes, 1956pp.)

‘پنجاب کی اہم تقسیم پر چار جلدوں میں مدون مستند معلومات ۔ پہلا ایڈیشن نیشنل ڈاکومینٹیشن سینٹر، کیبنٹ ڈویژن، حکومت پاکستان نے نکالا تھا۔ دوسرا ایڈیشن سنگ میل پبلیکیشنز لاہور نے NDW کی اجازت سے شائع کیا ہے۔ ‘
http://www.cabinet.gov.pk/cabinet/userfiles1/file/Publications/national-documentation.pdf

یہ کتاب NDW کی ویب سائٹ پر پبلیکیشنز کی لسٹ میں اٹھارویں نمبر پر آ رہی ہے۔
http://ndw.gov.pk/NDW_Publications.htm

حکومت پاکستان کی طرف سے شائع شدہ اس مستند دستاویز کو پڑھ کر دل سر چوہدری ظفراللہ خان صاحب کے لیے شکر کے جذبات کے ساتھ بھر جاتا ہے کہ انہوں نے تن تنہا بہت خوبی اور مہارت کے ساتھ مسلم لیگ کے وکیل کے طور پر پاکستان کا کیس لڑا، اور کیا خوب لڑا۔دلائل کی پختگی اور معقولیت، بحث کا فاضلانہ اندازاور معاملے میں گہری گرفت وہ چند کمالات ہیں جو سر چوہدری ظفراللہ خان صاحب کے پیش کردہ محضر نامے اور آپ کی بحث پڑھ کر سامنے آتے ہیں۔

اب میں سب سے پہلے مسلم لیگ کی طرف سے پیش کئے گئے محضر نامے سے گورداسپور کے متعلق حصہ نقل کرتا ہوں۔ یہ چیز یاد رکھیں کہ اس بحث میں مغربی پنجاب سے مراد پاکستان میں شمولیت اور مشرقی پنجاب سے مراد بھارت میں شمولیت ہے۔ انگلش سے اردو میں ترجمہ خاکسار نے خود کیا ہے، کافی احتیاط تو برتی ہے کہ انگلش میں کہی گئی یا لکھی گئی بات اردو میں صحیح طریقے سے سمجھ آجائے مگر غلطی کا امکان بہرحال موجود ہے کہ انگلش اور اردو میں مجھے کوئی خاص کمال حاصل نہیں، لہذا ترجمے میں کسی نقص اور خامی کا ذمہ دار میں خود ہوں۔ ترجمے میں اگر کوئی کمی بیشی نظر آئے تو بے دھڑک بتائیں تاکہ ٹھیک کر دیا جائے۔

تحصیل کو انتظامی یونٹ تسلیم کر نے اور تقسیم کا معیار بنا لینے کے لیے دلائل دینے کے بعد پیراگراف دس (10) میں لکھا ہے کہ۔

‘اگر یہ اصول تسلیم کر لئے جائیں تومعلوم ہوگا کہ، دوسرے امور پر غور کرنے سے پیدا حالات سے مشروط، ضلع گورداسپور کی تحصیل پٹھانکوٹ مغربی پنجاب سے نکال کر مشرقی پنجاب میں شامل کر دی جائے گی۔ ضلع گورداسپور کی باقی سب تحصیلوں میں، اور مغربی پنجاب میں شامل باقی سولہ اضلاع کی تمام تحصیلوں میں مسلمانوں کو مجموعی اکثریت حاصل ہے۔ ‘
(The Partition of Punjab 1947, Volume 1, Page 288, 1983 Edition)

گورداسپور کی پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے سر چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے بہت تفصیل سے بحث کی ہے، اسی بحث میں سے چند پیراگراف مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر پیش خدمت ہیں ۔

‘اب میں لاہور، امرتسر اور گرداسپور اضلاع کے خطے کی طرف آتا ہوں۔ لاہور کی کل آبادی 1,695,375 ہے، امرتسر کی 1,413,876، اور گورداسپور کی 1,153,511۔ ان کا میزان 4,262,762 ہے۔ ان تین اضلاع میں مسلمانوں کی آبادی اس طرح ہے، لاہور 1,027,772، امرتسر 657,695 ،گورداسپور 589,923۔ مسلمانوں کا میزان 2,275,390 ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ 288,018 سے مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اس سے پتا چلتا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے اگر اس خطے کو آپ اکٹھا کر کے لیں تو مسلمانوں کو کافی اکثریت حاصل ہے، حتی کہ عیسائیوں کی تعداد کو بھی چھوڑ کر۔ ‘
(The Partition of Punjab 1947, Volume 2, Page 419, 1983 Edition)

اس کے بعد سر چوہدری ظفراللہ خان صاحب کانگریس کی طرف سے پیش کردہ دوآب اور دیہاتوں کی آبادی کے مؤقف پر تنقید کے دلائل دیتے ہیں، جو کہ بجائے خود پڑھنے کے قابل ہیں ۔آگے چل کر گورداسپور سے متعلق کانگریس کے پیش کردہ ایک مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں ۔

‘گورداسپور کے تعلق میں دوسری سائیڈ نے ایک خاص تاثر دیا تھا کہ اگر آپ ضلع میں بالغوں کی تعداد لیں تو مسلمان بالغوں کی تعداد غیر مسلم بالغوں کی تعداد سے انتہائی کم ہے اور اس ضلع میں ریفرینڈم کا انعقاد ہوتا تو غیر مسلم اقلیت میں ہوتے۔ دوسری سائیڈ کی طرف سے یہ عرضداشت بہت سے مغالطوں پر مبنی ہے جس کے تجزیہ کے لئے میں انتہائی احترام سے کمیشن کی توجہ دلاؤں گا۔ پہلی بات یہ کہ دوسری سائیڈ نے مسلمان بالغوں کا کل آبادی سے تناسب 1931کی مردم شماری کے مطابق لیا ہے اور پھر اس کو 1941کی مردم شماری پر منطبق کیا ہے، مگر یہ کرتے ہوئے وہ بھول گئے کہ اگر ریفرینڈم ہونا ہے تو اس نے 1947میں ہونا ہے، نہ کہ 1931میں یا 1941میں۔ وہ یہ بھی بھول گئے کہ اگر ریفرینڈم ہونا ہے تو وہ کسی خاص قوم کے لیے نہیں ہونا ہے۔ اس طرح کے ضلع میں ریفرینڈم میں عیسائی، شیڈول کاسٹس کے لوگ اور مذہبی سکھ مسلمانوں کو ووٹ دینے کے لیے تیار ہوں گے۔

‘اب میں یہ عرض پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مختلف مردم شماریوں میں مسلمان بالغوں کا کل آبادی سے تناسب کانگریس کے میمورینڈم میں کچھ اس طرح دیا گیا ہے، 1911-47.4 ، 1921-48.2 ،1931-49.2 ۔ سر، اب اصل بات کچھ اس طرح بنے گی کہ کل آبادی میں تو مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمانوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس سے کیا ثابت ہوا؟ اس سے یہ ثابت ہوا کہ غیر مسلم نرسریز کے مقابلے میں مسلم نرسریز بچوں سے بھری پڑی ہیں اور آبادی میں مسلمانوں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ یہ اس کی وضاحت ہے اور اس کی مددگار یہ حقیقت بھی ہے کہ 1911سے مسلمانوں کی کل آبادی بڑھ رہی تھی اور مسلمان بالغوں کی آبادی بھی بڑھ رہی تھی۔ یہ باقی قوموں کے لئے کچھ پریشانی کا باعث ہونا چاہئے، مگر میں اس کو چھوڑ رہا ہوں۔ 1947کے لئے نمبر سادہ طریقے سے نکل آئیں گے۔

ہر وہ بچہ جو 1931میں پانچ سال کا تھا اگر وہ زندہ ہو تو 1947میں اکیس سال کا ہوگا۔ 1931کی مردم شماری سے ہر سال پانچ سے بیس عمر کے لوگوں کی تعداد لیں، اس میں سے وفات یافتہ کو منہا کر لیں، جس کے لیے ہر سال کا وفات کا اوسط تناسب لے سکتے ہیں، اس سے زندہ رہ جانے والوں کا خالص نمبر حاصل ہو جاتا ہے۔ اس نمبر کو تب کی بالغ آبادی میں جمع کر دیں تو آپ کو 1947میں زندہ بالغ آبادی کا خالص نمبر حاصل ہو جائے گا۔ (اس موقع پر کمیشن کو ایک سٹیٹمنٹ دی گئی)۔ اس طریقے سے ہمیں 1947کی کل بالغ آبادی کے نمبر حاصل ہوئے جو کہ605,948 ہیں، اس میں سے بالغ مسلمان308,134 ہیں اور غیر مسلم بالغ 297,814 ہیں۔ مسلمان بالغوں کی 10,320 تعداد غیر مسلم بالغوں سے زیادہ ہے۔ ہم نے اسی بنیاد پر عیسائیوں کی تعداد بھی نکالی ہے اور جو 1947 میں27,082 عیسائی بالغ بنتی ہے جس سے 54,000 کا فرق پڑے گا کیونکہ ریفرینڈم کے لئے اس تعداد کو غیر مسلم کی آبادی سے منہا کر کے مسلمان آبادی میں شامل کرنا چاہئے، جس سے خالص اکثریت 64,000 تک پہنچ جائے گی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •