جماعت احمدیہ، چوہدری ظفراللہ خان اورباؤنڈری کمیشن میں گورداسپور کی بحث


تیسرا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ قادیان نے اپنے میمورینڈم میں اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ جماعت متصور کیا جس کی وجہ سے گورداسپور میں مسلمانوں کی اکثریت اقلیت میں بدل گئی اور گورداسپور کو بھارت کے ساتھ شامل کر دیا گیا۔

گو کہ سر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی بحث سے ہمیں معلوم ہو چکا کہ یہ الزام بھی جھوٹا ہے کیونکہ انہوں نے قادیان کو مسلمان جماعت کی حیثیت سے ہی مسلمانوں میں سے گنا ہے اور پاکستان میں شامل ہونے کا کہا ہے بلکہ انہوں نے جماعت احمدیہ قادیان کے محضر نامے کا ذکر بھی کیا ہے، مگر میں پھر بھی احمدیہ جماعت قادیان کے محضر نامے سے حوالے پیش کروں گا تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ جماعت احمدیہ قادیان نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ نہیں کیا تھا بلکہ مسلمان ظاہر کر کے پاکستان میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی۔

جماعت احمدیہ کے محضر نامے کے شروع میں آٹھ نکات دئے گئے ہیں جن میں سے پہلا اور ساتواں نکتہ درج ذیل ہیں۔

‘احمدیہ کمیونٹی کے ہیڈکوارٹر ہونے کی بناء پر قادیان مغربی پنجاب کے ساتھ شامل کیا جانا چاہئے کیونکہ:
1 یہ اسلام میں عالمگیر جماعت احمدیہ کا فعال مرکز ہے۔
7 قادیان جس ضلع میں ہے اس میں مسلمانوں کی واضح اکثریت ہے اور وہ مغربی اضلاع کے ساتھ ملحق بھی ہے۔’
(The Partition of Punjab 1947, Volume 1, Page 428, 1983 Edition)

اہم نکات کے بعد اسی صفحے پر اگلی لائن میں لکھا ہے کہ۔

‘جماعت احمدیہ جو مسلمانوں کا اہم مذہبی حصہ ہے اور جس کی دنیا بھر میں شاخیں ہیں اس کا مرکز ضلع گورداسپور میں ہے۔’

یعنی جماعت احمدیہ قادیان کے محضر نامے کے پہلے صفحے میں ہی جماعت احمدیہ قادیان کا مسلمان ہونا اور پاکستان میں شامل ہونا ثابت ہوگیا۔ اس کے بعد اس محضر نامے میں کافی تفصیل سے ‘دوسرے امور’ پر بحث کی گئی ہے کہ تقسیم کے دوران ‘دوسرے امور’ کا آبادی کی ساتھ کیا تعلق ہے ۔ اس کے بعد لکھا ہے۔

‘قادیان تھانہ بٹالہ تحصیل بٹالہ اور ضلع گورداسپور میں واقع ہے۔ ہماری گذارش ہے کہ یہ دعوی کہ گورداسپور کا ضلع مغربی پنجاب میں شامل ہونا چاہئے اس قدر واضح اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہے کہ اس کے متعلق بحث باؤنڈری کمیشن کے دائرہ عمل سے باہر ہے۔ بیشک پریس کانفرنس کے موقع پر وائسرائے نے یہ کہا تھا کہ اس ضلع میں مسلمانوں کو صرف 0.8% اکثریت حاصل ہے اور اس لئے یقینی طور پر اس کے بعض حصوں میں غیر مسلموں کی اکثریت ہوگی مگر ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ وائسرائے اس بارہ میں صحیح حالات سے آگاہ نہیں ہیں۔ 1941 کی مردم شماری کی رپورٹ میں ضلع گورداسپور میں مسلمانوں کی آبادی کل آبادی کا 51.14% ہے اور اس طرح مسلمانوں کو دوسروں پر 2.8% (2.28% ہونا چاہئے ، ارمغان) کی اکثریت حاصل ہے نہ کہ 0.8% ۔’
(The Partition of Punjab 1947, Volume 1, Page 437, 1983 Edition)

اسی حوالے سے آگے لکھا ہے۔

‘ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر مسلمانوں کی اکثریت ضلع گورداسپور میں کم ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پٹھانکوٹ کی تحصیل میں مسلمان 38.88% ہیں۔ لیکن جب ہم باقی تین تحصیلوں کو دیکھتے ہیں تو بٹالہ میں 55.07% مسلمان ہیں، گورداسپور میں 52.15% اور شکرگڑھ میں 51.32% (رپورٹ مردم شماری 1941 )۔۔۔ ان اعدادوشمار کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہم فی الحال پٹھانکوٹ کو زیر غور نہ لائیں تو یہ ظاہر ہے کہ گورداسپور کے باقی کسی حصے کے مشرقی پنجاب کے ساتھ الحاق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ تین تحصیلوں میں مسلم عیسائی آبادی 58% ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وائسرائے کے اعلان کو مدنظر رکھتے ہوئے گورداسپور، بٹالہ اور شکر گڑھ کی تحصیلوں میں سے کوئی بھی مغربی پنجاب سے جدا کر کے مشرقی پنجاب میں شامل نہیں کی جا سکتی۔ ایسا اقدام سراسر بے انصافی پر مبنی ہوگا اور غیر آئینی بھی۔’
(The Partition of Punjab 1947, Volume 1, Page 438, 1983 Edition)

اس کے بعد اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ تقسیم کا معیار کیا ہوگا، یعنی ضلع، یا تحصیل یا تھانہ یا ذیل یا گاؤں، پھر یہ بتایا ہے کہ چاہے جو بھی معیارلے لیا جائے، قادیان گاؤں کی صورت میں، قادیان ذیل کی اندر، قادیان تھانہ کی حدود میں یا قادیان تحصیل بٹالہ کے اندر رکھا جائے، ہر صورت میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ بنتی ہے۔

ان حوالہ جات سے روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ قادیان نے اپنے محضر نامے میں احمدیوں کو مسلمان ظاہر کر کے ہی پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور اس پر مختلف دلائل دئے تھے۔

جماعت احمدیہ قادیان کا محضرنامہ پیش کر دینے کے بعد شیخ بشیر احمد صاحب نے (جو کہ جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے باؤنڈری کمیشن میں وکیل تھے) اپنے محضر نامے پر 25 اور 26 جولائی 1947 کو مزید دلائل دئے۔ مسلم لیگ کے مؤقف کے ساتھ مواقفت پر 25 جولائی کو انہوں نے کہا۔

‘میں اپنے بیان اور دلائل کو صرف اس معین معاملہ تک محدود رکھنا چاہتا ہوں کہ قادیان کو مغربی پنجاب میں شامل کیا جائے۔ سر محمد ظفراللہ جو مسلم لیگ کی طرف سے سینئر وکیل ہیں آپ کے سامنے ان امور پر بحث فرمائیں گے جو جغرافیائی، اقتصادی اور بعض دوسری بنیادوں پر غیر مسلموں کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گورداسپور کا معاملہ بھی ان اضلاع میں سے ہے جن کے متعلق اس کمیشن کے سامنے بڑی سرگرمی سے بحث ہوتی رہی ہے۔ لیکن جماعت احمدیہ اور مسلم لیگ کے مابین بعض پہلو مشترک ہیں اور جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے ان کا ذکر میں اس لئے چھوڑ رہا ہوں کہ جب سینئر وکیل سر محمد ظفراللہ مسلم لیگ کا مؤقف آپ کے سامنے پیش کریں گے تو اس بحث میں وہ امور اور مشترک پہلو لازماً آ جائیں گے۔’
(The Partition of Punjab 1947, Volume 2, Page 240, 1983 Edition)

اسی دن آگے قادیان کو مسلم اکثریتی علاقہ بتا کر پاکستان میں شامل کرنے کا کہتے ہیں۔

‘سب سے پہلی بات یہ کہ قادیان اس علاقے میں شامل ہے جو مسلم آبادی کی اکثریت والے علاقے سے منسلک ہے ۔ اس غرض کے لئے میں وہ نقشہ پیش کرنا چاہتا ہوں جو جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ میمورینڈم کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ آپ اس میں ملاحظہ کریں گے کہ تحصیل بٹالہ جسے سبز رنگ دیا گیا ہے اس میں قادیان شامل ہے۔ سبز رنگ میں وہ ملحق علاقہ دکھایا گیا ہے جو مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور تحصیل بٹالہ اسی میں ہے۔ آپ خواہ تحصیل یا ذیل یا تھانے اور قانونگو کے حلقہ کے طور پر اسے لیں یہ علاقہ بہر حال مسلم اکثریت والے علاقے میں شامل ہے۔’
(The Partition of Punjab 1947, Volume 2, Page 240, 1983 Edition)

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4