ملبے کا مالک
ایک نوجوان چابیوں کا گچھا گھماتا ہوا گلی کی جانب آیا اور بڈھے کو کھڑے دیکھ کر اس نے رک کر پوچھا، ‘کہیے، میاں جی، یہاں کس لیے کھڑے ہیں؟’
بڈھے مسلمان کی چھاتی اور بانہوں میں ہلکی سی کپکپی ہوئی اور اس نے ہونٹوں پر زبان پھیر کر نوجوان کو دھیان سے دیکھتے ہوئے پوچھا، ‘بیٹے، تیرا نام منوری ہے نا؟’
نوجوان نے چابیوں کا گچھا ہلانا بند کر کے مٹھی میں لے لیا اور تعجب کے ساتھ پوچھا، ‘آپ کو میرا نام کیسے پتا ہے؟’
‘ساڑھے سات سال پہلے تُو بیٹے، اتنا سا تھا’، کہہ کر بڈھے نے مسکرانے کی کوشش کی۔
‘آپ آج پاکستان سے آئے ہیں؟’ منوری نے پوچھا۔
‘ہاں، مگر پہلے ہم اسی گلی میں رہتے تھے’، بڈھے نے کہا، ‘میرا لڑکا چراغ دین تم لوگوں کا درزی تھا۔ تقسیم سے چھ مہینے پہلے ہم لوگوں نے یہاں اپنا نیا مکان بنایا تھا۔’
‘او، غنی میاں!’ منوری نے پہچان کر کہا۔
‘ہاں، بیٹے، میں تم لوگوں کا غنی میاں ہوں۔ چراغ اور اس کے بیوی بچے تو نہیں مل سکتے، مگر میں نے کہا کہ ایک بار مکان کی صورت ہی دیکھ لوں!’ اور اس نے ٹوپی اتار کر سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آنسوؤں کو بہنے سے روک لیا۔
‘آپ تو شاید کافی پہلے ہی یہاں سے چلے گئے تھے،’ منوری نے آواز میں ہمدردی لا کر کہا۔
‘ہاں، بیٹے، یہ میری بدبختی تھی کہ پہلے اکیلا نکل کر چلا گیا۔ یہاں رہتا، تو ان کے ساتھ میں بھی۔۔۔’ اور کہتے کہتے اُسے احساس ہو آیا کہ اُسے ایسی بات نہیں کہنی چاہیے۔ اُس نے بات منہ میں روک لی، مگر آنکھ میں آئے ہوئے آنسوؤں کو بہہ جانے دیا۔
‘چھوڑو غنی میاں، اب بیتی باتوں کو سوچنے میں کیا رکھا ہے؟’ منوری نے غنی کی بانہہ پکڑ کر کہا، ‘چلو، تمہیں تمہارا گھر دکھا دوں۔’

گلی میں خبر اس روپ میں پھیلی تھی کہ گلی کے باہر ایک مسلمان کھڑا ہے، جو رام داسی کے لڑکے کو اٹھانے جا رہا تھا۔۔۔ اس کی بہن اسے پکڑ کر گھسیٹ لائی، نہیں تو مسلمان اسے لے گیا ہوتا۔ یہ خبر پاتے ہی جو عورتیں گلی میں پیچھے پیڑھے بچھا کر بیٹھی تھیں، وہ اپنے اپنے پیڑھے اٹھا کرگھروں کے اندر چلی گئیں۔ گلی میں کھیلتے ہوئے بچوں کو بھی ان عورتوں نے پکار پکار کر گھروں میں بلا لیا۔ منوری جب غنی کو لے کر گلی میں آیا، تو گلی میں ایک پھیری والا رہ گیا تھا، یا رکھّا پہلوان جو کنوئیں پر اُگے پیپل کے نیچے بکھر کر سویا تھا۔ ہاں، گھروں کی کھڑکیوں میں سے اور کواڑوں کے پیچھے سے کئی چہرے گلی میں جھانک رہے تھے۔ منوری کے ساتھ غنی کو آتے دیکھ کر ان میں ہلکی ہلکی چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ داڑھی کے سب بال سفید ہو جانے کے باوجود چراغ دین کے باپ عبد الغنی کو پہچاننے میں لوگوں کو دقت نہیں ہوئی۔
‘وہ تھا تمہارا مکان،’ منوری نے دور سے ایک ملبے کی طرف اشارہ کیا۔ غنی پل بھر ٹھٹک کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس طرف دیکھتا رہا۔ چراغ اور اس کے بیوی بچوں کی موت کو وہ کافی پہلے قبول کر چکا تھا۔ مگر اپنے نئے مکان کو اس شکل میں دیکھ کر اسے جو جھرجھری ہوئی، اس کے لیے وہ تیار نہیں تھا۔ اس کی زبان پہلے سے اور خشک ہو گئی اور گھٹنے بھی زیادہ کانپنے لگے۔
‘وہ ملبہ؟’ اس نے بے یقینی کے ساتھ پوچھ لیا۔
منوری نے اس کے چہرے کے بدلتے ہوئے رنگ کو دیکھا۔ اس کی بانہہ کو تھوڑا اور سہارا دے کر ٹھہری ہوئی آواز میں جواب دیا، ‘تمہارا مکان اُنہیں دنوں جل گیا تھا۔’
غنی چھڑی کے سہارے چلتا ہوا کسی طرح ملبے کے پاس پہنچ گیا۔ ملبے میں اب مٹی ہی مٹی تھی جس میں جہاں تہاں ٹوٹی اور جلی ہوئی اینٹیں باہر جھانک رہی تھیں۔ لوہے اور لکڑی کا سامان اس میں سے کب کا نکالا جا چکا تھا۔ صرف ایک جلے ہوئے دروازے کا چوکھٹ نہ جانے کیسے بچا رہ گیا تھا۔ پیچھے کی طرف دو جلی ہوئی الماریاں تھیں جن کی کالک پر اب سفیدی کی ہلکی ہلکی تہہ ابھر آئی تھی۔ اس ملبے کو پاس سے دیکھ کر غنی نے کہا، ‘یہ باقی رہ گیا ہے، یہ؟’ اور اس کے گھٹنے جیسے جواب دے گئے اور وہ وہیں جلے ہوئے چوکھٹ کو پکڑ کر بیٹھ گیا۔ پل بھر بعد اس کا سر بھی چوکھٹ سے جا لگا اور اس کے منہ سے بلکنے کی سی آواز نکلی، ‘ہائے اوئے چراغ دینا!’
جلے ہوئے کواڑ کا وہ چوکھٹ ملبے میں سے سر نکالے ساڑھے سات سال کھڑا تو رہا تھا، پر اس کی لکڑی بری طرح بھربھرا گئی تھی۔ غنی کے سر کے چھونے سے اس کے کئی ریشے جھڑک کر آس پاس بکھر گئے۔ کچھ ریشے غنی کی ٹوپی اور بالوں پر آ گرے۔ ان ریشوں کے ساتھ ایک کینچوا بھی نیچے گرا جو غنی کے پیر سے چھ آٹھ انچ دور نالی کے ساتھ ساتھ بنی اینٹوں کی پٹری پر اِدھر اُدھر سرسرانے لگا۔ وہ چھپنے کے لیے سوراخ ڈھونڈتا ہوا ذرا سا سر اٹھاتا، پر کوئی جگہ نہ پا کر دو ایک بار سر پٹکنے کے بعد دوسری طرف مڑ جاتا۔
کھڑکیوں سے جھانکنے والے چہروں کی تعداد اب پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی تھی۔ ان میں چہ مگوئیاں چل رہی تھیں کہ آج کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔۔۔ چراغ دین کا باپ غنی آ گیا ہے، اس لیے ساڑھے سات سات پہلے کا وہ سارا واقعہ آج اپنے آپ کھل جائے گا۔ لوگوں کو لگ رہا تھا جیسے وہ ملبہ ہی غنی کو ساری کہانی سنا دے گا کہ شام کے وقت چراغ اوپر کے کمرے میں کھانا کھا رہا تھا جب رکھّے پہلوان نے اسے نیچے بلایا۔ کہا کہ وہ ایک منٹ آ کر اس کی بات سن لے۔ پہلوان ان دنوں گلی کا بادشاہ تھا۔ وہاں کے ہندوؤں پر ہی اس کا کافی دبدبہ تھا، چراغ تو خیر مسلمان تھا۔ چراغ ہاتھ کا لقمہ بیچ میں ہی چھوڑ کر نیچے اتر آیا۔ اس کی بیوی زبیدہ اور دونوں لڑکیاں، کشور اور سلطانہ، کھڑکیوں سے نیچے جھانکنے لگیں۔ چراغ نے ڈیوڑھی سے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ پہلوان نے اسے قمیض کے کالر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور گلی میں گرا کر اس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا۔ چراغ اس کا چھرے والا ہاتھ پکڑ کر چلایا، ‘نا، رکھّے پہلوان، مجھے مت مار! ہائے، کوئی مجھے بچاؤ! زبیدہ! مجھے بچا!’ اور اوپر سے زبیدہ، کشور اور سلطانہ بھی مایوس آواز میں چلائیں اور چیختی ہوئی نیچے ڈیوڑھی کی طرف دوڑیں۔ رکھّے کے ایک شاگرد نے چراغ کی جدوجہد کرتی بانہیں پکڑ لیں اور رکھّا اس کی رانوں کو اپنے گھٹنوں سے دبائے ہوئے بولا، ‘چیختا کیوں ہے، بھیَن کے۔۔۔ تجھ میں پاکستان دے رہا ہوں، لے پاکستان!’ اور جب تک زبیدہ، کشور اور سلطانہ نیچے پہنچتیں، چراغ کو پاکستان مل چکا تھا۔
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



