ملبے کا مالک

آس پاس کے گھروں کی کھڑکیاں تب بند ہو گئی تھیں۔ جو لوگ اس منظر کے گواہ تھے، انہوں نے دروازے بند کر کے اپنے کو اس واقعے کی جواب دہی سے آزاد کر لیا تھا۔ بند کواڑوں میں بھی انہیں دیر تک زبیدہ، کشور اور سلطانہ کے چیخنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ رکھّے پہلوان اور اس کے ساتھیوں نے انہیں بھی اسی رات پاکستان دے کر وداع کر دیا، مگر دوسرے طویل راستے سے۔ ان کی لاشیں چراغ کے گھر میں نہیں مل سکیں۔ بعد میں نہر کے پانی میں پائی گئیں۔
دو دن چراغ کے گھر کی چھان بین ہوتی رہی تھی۔ جب اس کا سارا سامان لوٹا جا چکا، تو نہ جانے کس نے اس گھر کو آگ لگا دی تھی۔ رکھّے پہلوان نے تب قسم کھائی تھی کہ وہ آگ لگانے والے کو زندہ زمین میں گاڑ دے گا کیونکہ اس مکان پر نظر رکھ کر ہی اس نے چراغ کو مارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نے اس مکان کو پاک کرنے کے لیے ہَوَن کا سامان بھی لا رکھا تھا۔ مگر آگ لگانے والے کا پتا نہیں چل سکا، اسے زندہ گاڑنے کی نوبت تو بعد میں آتی۔ اب ساڑھے سات سال سے رکھّا اس ملبے کو اپنی جائداد سمجھتا آ رہا تھا۔ جہاں نہ وہ کسی کو گائے بھینس باندھنے دیتا تھا اور نہ ہی خوانچہ لگانے دیتا تھا۔ اس ملبے سے بنا اس کی اجازت کے کوئی ایک اینٹ بھی نہیں نکال سکتا تھا۔
لوگ امید کر رہے تھے کہ یہ ساری کہانی ضرور کسی نہ کسی طرح غنی تک پہنچ جائے گی۔۔ جیسے ملبے کو دیکھ کر ہی اسے سارے واقعے کا پتا چل جائے گا۔ اور غنی ملبے کی مٹی کو ناخنوں سے کھود کھود کر اپنے اوپر ڈال رہا تھا اور دروازے کے چوکھٹ کو بانہہ میں لیے ہوئے رو رہا تھا، ‘بول، چراغ دینا، بول! تو کہاں چلا گیا، اوئے؟ او کشور! او سلطانہ! ہائے، میرے بچے اوئے! غنی کو پیچھے کیوں چھوڑ دیا، اوئے!’
اور بھربھرے کواڑ سے لکڑی کے ریشے جھڑتے جا رہے تھے۔
پیپل کے نیچے سوئے ہوئے رکھّے پہلوان کو جانے کسی نے جگا دیا، یا وہ خود ہی جاگ گیا۔ یہ جان کر کہ پاکستان سے عبدالغنی آیا ہے اور اپنے مکان کے ملبے پر بیٹھا ہے، اسے گلے میں تھوڑا جھاگ اٹھ آیا جس سے اسے کھانسی آ گئی اور اس نے کنوئیں کے فرش پر تھوک دیا۔ ملبے کی طرف دیکھ کر اس کی چھاتی سے دھونکنی کی سی آواز نکلی اور اس کا نچلا ہونٹ تھوڑا باہر کو پھیل آیا۔
‘غنی اپنے ملبے پر بیٹھا ہے،’ اس کے شاگرد لچھّے پہلوان نے اس کے پاس آ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
‘ملبہ اُس کا کیسے ہے؟ ملبہ ہمارا ہے!’ پہلوان نے جھاگ سے گھرگھرائی آواز میں کہا۔
‘مگر وہ وہاں بیٹھا ہے،’ لچھے نے آنکھوں میں ایک پراسرار اشارہ لا کر کہا۔
بیٹھا ہے، بیٹھا رہے۔ تو چلم لا!’ رکھّے کی ٹانگیں تھوڑی پھیل گئیں اور اس نے اپنی ننگی رانوں پر ہاتھ پھیرا۔
‘منوری نے اگر اسے کچھ بتا وتا دیا تو۔۔۔؟’ لچھے نے چلم بھرنے کے لیے اٹھتے ہوئے اسی پراسرار ڈھنگ سے کہا۔
‘منوری کی کیا شامت آئی ہے؟’
لچھا چلا گیا۔

کنوئیں پر پیپل کی کئی پرانی پتیاں بکھری تھیں۔ رکھّا ان پتیوں کو اٹھا اٹھا کر اپنے ہاتھوں میں مسلتا رہا۔ جب لچھے نے چلم کے نیچے کپڑا لگا کر چلم اس کے ہاتھ میں دی، تو اس نے کش کھینچتے ہوئے پوچھا، ‘اور تو کسی سے غنی کی بات نہیں ہوئی؟’
‘نہیں۔’
‘لے،’ اور اس نے کھانستے ہوئے چلم لچھے کے ہاتھ میں دے دی۔ لچھے نے دیکھا کہ منوری غنی کی بانہہ پکڑے ملبے کی طرف سے آ رہا ہے۔ وہ اکڑوں ہو کر چلم کے لمبے لمبے کش کھینچنے لگا۔ اس کی آنکھیں آدھے پل رکھّے کے چہرے پر ٹکتیں اور آدھے پل غنی کی طرف لگی رہتیں۔
منوری غنی کی بانہہ تھامے اس سے ایک قدم آگے چل رہا تھا۔ جیسے اس کی کوشش ہو کہ غنی کنوئیں کے پاس سے بنا رکھّے کو دیکھے ہی نکل جائے۔ مگر رکھّا جس طرح بکھر کر بیٹھا تھا، اس سے غنی نے اسے دور سے ہی دیکھ لیا۔ کنوئیں کے پاس پہنچتے نہ پہنچتے اس کی دونوں بانہیں پھیل گئیں اور اس نے کہا، ‘رکھّے پہلوان!’
رکھّے نے گردن اٹھا کر اور آنکھیں ذرا چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔ اس کے گلے میں مبہم سی گھرگھراہٹ ہوئی، پر وہ بولا نہیں۔
‘رکھّے پہلوان، مجھے پہچانا نہیں؟’ غنی نے بانہیں نیچی کر کے کہا، ‘میں غنی ہوں، عبد الغنی، چراغ دین کا باپ!’
پہلوان نے مشکوک نظر سے اس کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیا۔ عبد الغنی کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر ایک چمک سی آ گئی تھی۔ سفید داڑھی کے نیچے اس کے چہرے کی جھریاں بھی کچھ پھیل گئی تھیں۔ رکھّے کا نچلا ہونٹ پھڑکا۔ پھر اس کی چھاتی سے بھاری سی آواز نکلی، سنا، غنیا!’
غنی کی بانہیں پھر پھیلنے کو ہوئیں، پر پہلوان پر کوئی ردِ عمل نہ دیکھ کر اسی طرح رہ گئیں۔ وہ پیپل کے تنے کا سہارا لے کر کنوئیں کی سِل پر بیٹھ گیا۔
اوپر کھڑکیوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئیں کہ اب دونوں آمنے سامنے آ گئے ہیں، تو بات ضرور کھلے گی۔۔ پھر ہو سکتا ہے دونوں میں گالی گلوچ بھی ہو۔ ۔۔ اب رکھّا غنی کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اب وہ دن نہیں رہے۔۔۔ بڑا ملبے کا مالک بنتا تھا!۔۔ اصل میں ملبہ نہ اس کا ہے، نہ غنی کا۔ ملبہ تو سرکار کی ملکیت ہے! مردود کسی کو وہاں گائے کا کھونٹا تک نہیں لگانے دیتا!۔۔۔ منوری بھی ڈرپوک ہے۔ اِس نے غنی کو بتا کیوں نہیں دیا کہ رکھّے نے ہی چراغ اور اس کے بیوی بچوں کو مارا ہے!۔۔ رکھّا آدمی نہیں سانڈ ہے! دن بھر سانڈ کی طرح گلی میں گھومتا ہے!۔۔ غنی بے چارا کتنا دبلا ہو گیا! داڑھی کے سارے بال سفید ہو گئے ہیں!۔۔۔
غنی نے کنوئیں کی سِل پر بیٹھ کر کہا، ‘دیکھ رکھّے پہلوان، کیا سے کیا ہو گیا ہے! بھرا پورا گھر چھوڑ کر گیا تھا اور آج یہاں یہ مٹی دیکھنے آیا ہوں! بسے گھر کی آج یہی نشانی رہ گئی ہے! تو سچ پوچھے، تو میرا یہ مٹی بھی چھوڑ کر جانے کو جی نہیں کرتا!’ اور اس کی آنکھیں پھر چھلچھلا آئیں۔
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

