حرام جادی – اردو کے شاہکار افسانے
گو یہاں بھی اسے سب لوگ میم صاحب ہی کہتے تھے۔ سڑکوں پر جھاڑو دینے والے بھنگی اسے آتے دیکھ کر تھم جاتے تھے بلکہ قصبہ کے زمیندار تک اسے ”آپ“ سے مخاطب کرتے تھے۔ مگر پھر بھی یہاں وہ بات کہاں حاصل ہو سکتی تھی۔ وہ رعب، وہ دبدبہ، وہ مالکانہ احساس، وہاں تو اس کی شخصیت ہسپتال کا ایک جزوِ لاینفک تھی۔ اس سفید، سرد اور متین عمارت او ر اس کے غیر مرئی مگر اٹل قانونوں اور اصولوں کا ایک زندہ مجسمہ۔ ہسپتال کے نشتر کے سامنے آنے کے بعد کوئی شخص احتجاجاً حرکت نہیں کر سکتا تھا۔
اسی طرح اس کی حدود میں داخل ہونے والی ہر چیز کو اس کی مرضی کا پابند ہونا پڑتا تھا۔ جب اس کا مریضوں کے معائنہ کا وقت آتا تھا تو وارڈ میں پہلے ہی سے تیاریاں ہونے لگتی تھیں۔ وہ دو روپے روزانہ کرایہ دینے والیوں تک کو جھڑک دیتی تھی کیونکہ اسے صاف کمروں میں پان کی پیک تک دیکھنا گوارا نہ تھا۔ وہ بڑی بڑی نازک مزاجوں کو ذرا سی بے احتیاطی اور ہدایات کی خلاف ورزی پر بے طرح ڈانٹتی تھی اور ہمیشہ سب سے تم کہہ کر بولتی تھی۔
مگر یہاں کی عورتیں تو بہت ہی منہ پھٹ تھیں۔ وہ اس سے ہراساں اور خوف زدہ تو ضرور تھیں مگر اسے دوبدو جواب دینے سے نہ چوکتی تھیں۔ تھوڑے دن تک ان پر اپنا اختیار جمانے کی کوشش کرنے کے بعد اب وہ تھک چکی تھی اور ان کی باتوں میں زیادہ دخل نہ دیتی تھی اور صفائی اور سلیقہ کی تو ان عورتوں کو ہوا تک نہ لگی تھی۔ زچہ کو گرمی میں بھی فوراً ایک کمرے میں بند کر دیا جاتا تھا جس میں جاڑوں کے لحاف پنکھونے، چاروں اور دوسری جنسوں کے سٹکے، ٹوٹی ہوئی چارپائیاں، برتن، کوئلوں کا گھڑا، سوت اور رولڑ کی گٹھڑیاں، سب الم غلم بھرے ہوتے تھے اور ایک انگیٹھی پر گھٹی چڑھا دی جاتی تھی۔
بعض بعض جگہ تو جلدی جلدی کمرہ میں گوبری ہونے لگتی تھی جو پیروں سے اکھڑ اکھڑ کر فرش کو چلنے کے قابل بھی نہ رہنے دیتی تھی اور جس کی سیلن انگیٹھی کی گرمی سے مل کر سانس لینا دشوار کر دیتی تھی۔ گھر کی سب عورتیں اور وہ کم سے کم چار ہوتی تھیں، اپنے بدبو دار کپڑوں سمیت کمرے میں گھس آتی تھیں اور گھبراہٹ میں سارے سامان کو ایسا الٹ پلٹ کر دیتی تھیں کہ ذرا سی کتر تک نہ ملتی تھی۔ اندر کی کھسر پھسر، گھڑڑ بڑر، کراہوں ”یا اللہ یا اللہ“ اور عورتوں کے بار بار کواڑ کھول کر اندر باہر آنے جانے سے گھر کے بچے جاگ جاتے تھے اور اپنے آپ کو اماں کے قریب نہ پا کر چیخنا شروع کر دیتے تھے اور ان کی بڑی بہنیں چمکارچمکار کر اور تھپک تھپک کر انہیں بہلانے کی کوشش کرتی تھیں۔۔۔
”ارے چپ چپ دیکھ بھیا آیا ہے صبح کو دیکھومنا سا بھیا“ مگر صبح کو منا سا بھیا دیکھ سکنے کی امید انہیں اس وقت تک کوئی تسکین نہ دے سکتی اور ان کی روں روں دھاڑوں کی شکل میں تبدیل ہو کر کمرہ کے خلفشار میں اور اضافہ کر دیتی۔ یہ تو خیر جو کچھ تھا سو تھا، کثیف بستروں پر لیپ چڑھے ہوئے تکیوں، پسینے میں سڑے ہوئے کپڑوں اور مدتوں سے نہ دھلے ہوئے بالوں کی بدبو سے جیسے گرمی اور بھی دو آتشہ کر دیتی تھی، اس کا جی الٹنے لگتا تھا۔
وہ تمام وقت ہر چیز سے دامن بچاتی ہوئی کھڑی کھڑی پھرتی تھی۔ اس کمرہ میں ایک گھنٹہ گزارنا گویا جہنم کے عذابوں کے لئے تیاری کرنا تھا یہ مانا کہ خود اسے کچھ نہیں کرنا پڑتا تھا۔ کیونکہ قصبہ کی عورتیں اپنے آپ کو نئے نئے انگریزی تجربوں کے لئے پیش کرنے اور اپنے آپ کو ایک اجنبی اور عیسائی مڈ وائف کے، جو ان دیکھے اور مشتبہ آلات سے مسلح تھی، ہاتھوں میں دے دینے کے لئے قطعاً تیار نہ تھیں انہیں تو قصبہ کی پرانی دائی اور چھوٹے ہوئے گھڑے کے ٹھیکروں پر ہی اعتقاد تھا تاہم ان کے مردوں نے ٹاؤن ایریا سے ڈر کر انہیں اس پر راضی کر لیا تھا کہ وہ نئی عیسائی مڈ وائف کے کمرے میں موجودگی برداشت کر لیں۔
اس طرح عملی حیثیت سے تو اس کا کام بہت کم ہو گیا تھا لیکن آخر ذمہ داری تو اس کی ہی تھی اور وہی ٹاؤن ایریا کمیٹی کے سامنے ہر برائی بھلائی کے لئے جواب دہ تھی اور اس ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا ہواؤں سے لڑنا تھا۔ اکثر نوگرفتار اتنا چیختی چلاتیں اور ہاتھ پیر پھینکتی تھیں کہ انہیں قابو میں کرنا دو بھر ہو جاتا تھا یہ پھر ایسی سہم جاتی تھیں کہ وہ ڈر کے مارے ذرا سی حرکت نہ کرتی تھیں۔ تین تین چار چار بچوں کی مائیں تو اور بھی آفت تھیں۔ وہ اپنے تجربوں کے سامنے اس ساڑھی پہن کر باہر گھومنے والی عیسائی عورت کی انوکھی ہدایتوں کو کوئی وقعت دینے پر تیار نہ تھیں۔
وہ اپنی آہوں کے درمیان بھی رک کر دائی کو مشورہ دینے لگتی تھیں اور ایملی کو دانتوں سے ہونٹ چبا چبا کر خاموش رہ جانا پڑتا تھا اور دائی تو بھلا اس کی کہاں سننے والی تھی۔ اسے اپنی برتری اور مڈ وائف کی نا اہلیت کا یقین تو خیر تھا ہی مگر اس کی موجودگی سے اپنی آمدنی پر اثر پڑتا دیکھ کر اس نے ایملی کی ہر بات کی تردید کرنا اپنا فرض بنالیا تھا۔ گو ایملی نے اس کے طنزیہ جملوں کو پینے کی عادت ڈال لی تھی لیکن اس کا دل کوئی پتھر کا تھوڑے ہی تھا۔ دائی کے طرزِ عمل کو دیکھ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی دلیر ہو گئی تھیں۔ اس کی طرف توجہ کیے بغیر ہی وہ پلنگ کو گھیر لیتی تھیں۔ اور وہ سب سے پیچھے چھوڑ دی جاتی تھی۔ اب اس کے سوا کیا رہ جاتا تھا کہ وہ جھنجھلا جھنجھلا کر پیر پٹخے اور انہیں پکار پکار کر اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرے۔
ان سب آزمائشوں سے گزرنے کے بعد اسے ہر بار اندراج کے لئے ٹاؤن ایریا کے دفتر جانا پڑتا تھا۔ اسے دیکھ کر بخشی جی کی آنکھیں چمکنے لگتیں اور ان کے پان میں سنے ہوئے کالے دانت نیم تمسخرانہ انداز میں ان کو چھوٹی داڑھی اور بڑی بڑی مونچھوں سے باہر نکل آتے اور وہ اس کی طرف کرسی کھسکاتے ہوئے کہتے ”کہو میم صاحب! لڑکا کہ لڑکی؟ “ مونچھوں کے ان گھنے کالے بالوں کی قربت اسے ہراساں کر دیتی اور اسے ایسا معلوم ہونے لگتا جیسے ان بالوں میں یکایک بجلی کی لہر دوڑ جائے گی اور وہ سیدھے ہو کر اس کے چہرہ سے آ ملیں گے۔ وہ نفرت اور خوف سے پیچھے سمٹ جاتی اور بخشی جی سے نظریں بچاتی ہوئی جلد سے جلد اپنا کام ختم کرنے کی کوشش کرتی۔
یہ سارے مرحلے طے کرتی ہوئی وہ عموماً آٹھ نو بجے رات کو تھکی ہاری اپنے گھر پہنچتی تھی۔ جب پیر کہیں سے کہیں پڑ رہے ہوں، سر بھنّایا ہوا ہو، جب جسم کا کوئی بھی عضو ایک دوسرے کا ساتھ دینے کو تیار نہ ہو، تو بھلا بھوک کیا خاک لگ سکتی ہے۔ وہ جوتا کھول کر پیر سے کونے میں اچھال دیتی اور کپڑے اس طرح جھنجھلا جھنجھلا کر اتارتی کہ دوسرے دن نصیبن کو انہیں دھوبی کے یہاں استری کرانے لے جانا پڑتا۔ الٹا سیدھا کھانا حلق کے نیچے اتار کر وہ بستر پر گر پڑتی۔
تکیے پر سر رکھتے ہی دیواریں، پیڑ، ساری دنیا اس کے گرد تیزی سے گھومنے لگتے۔ بھیجا دھرا دھڑ دھرا دھڑا کر کھوپڑی میں سے نکل بھاگنے کی کوشش کرتا۔ سر تکیے میں گھسا جاتا مگر تکیہ اسے اوپر اچھالتا معلوم ہوتا۔ بازو شل ہو جاتے۔ ہتھیلیوں میں سیسہ سا بھر جاتا اور ہاتھ اوپر نہ اٹھ سکتے۔ اسی طرح ٹانگیں بھی حرکت سے انکار کر دیتیں اور کمر تو بالکل پتھر بن جاتی۔ وہ اپنے پرانے ہسپتال کو یاد کرنا چاہتی، مگر وہ کسی چیز کو بھی پوری طرح یاد نہ کر سکتی کھڑکی کا کواڑ، مریضوں کی آہنی چارپائی کا پایہ، موٹر کے پہیئے، نیم کے پیڑ کی چوٹی، پان میں ستے ہوئے کالے دانت اور گھنی سخت مونچھیں، یہ سب باری باری بجلی کے کوندے کی طرح سامنے آتے او ر آنکھ جھپکتے میں غائب ہو جاتے وہ کھڑکی کے کواڑ میں ایک کمرہ جوڑنا چاہتی۔
مگر اس میں زیادہ سے زیادہ ایک چٹخنی کا اضافہ کر سکتی بلکہ بعض اوقات آہنی چارپائی کا ایک پایہ تو ایک کھونٹے کی طرح اس کے دماغ میں گڑ جاتا اور کوشش کے باوجود بھی ٹس سے مس نہ ہوتا، نیم کی چوٹی کو کبھی تنا حاصل نہ ہو سکتا پھر نیم کی ہر ی ہری چوٹی پر ایک ریت کے حاشیہ والی نالی بہنے لگتی اور کھڑکی کے شیشے پر پان میں سنے ہوئے کالے دانت مسکراتے اور گھنے سخت بالوں والی مونچھیں بے تابی سے ہلتیں مختلف شکلیں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو جاتیں اور دماغ کے ایک سرے سے دوسرے تک لڑتی جھگڑتی، ٹکراتی، روندتی، دوڑتی سیاہ آسمان پر روشن ان گنت تاروں کے کچھے کے کچھے بھنگوں کی طرح آنکھوں میں گھس گھس کر ناچنے لگتے اور جلتی ہوئی آنکھیں کنپٹیوں کی خواب آور بھد بھدے سے آہستہ آہستہ بند ہو جاتیں سونے کے بعد تو ان شکلوں کے اور بھی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہو جاتے جو باری باری آتے اور اس کے دماغ پر مسلط ہو جانا چاہتے۔
اتنے ہی میں ایک ایک دوسرا آ پہنچتا اور پہلے والے کو دھکے دے کر باہر نکال دیتا۔ ابھی یہ کشمکش ختم بھی نہ ہوتی کہ ایک تیسرا آ دھمکتا۔ ان سب کی حریفانہ زور آزمائیاں اسے بار بار چونکا دیتیں اور وہ ہلکی سی کراہ کے ساتھ آنکھیں کھول دیتی پھر آنکھوں میں تاروں کے گچھے کے گچھے بھرنے لگتے کہیں صبح کے قریب جا کر یہ شکلیں تھمتیں اور اپنی رزم گاہ سے رخصت ہوتیں ہلکی ہلکی ہوا بھی چلنی شروع ہو جاتی اور ایملی نیند میں بالکل بے ہوش ہو جاتی مگر اس کی نیند پوری ہونے سے پہلے ”کواڑ کھولو“ کی مسلسل اور ضدی چیخیں اس کے دماغ میں گونجتیں وہی چیخیں، وہی دھڑ دھڑاہٹ، فرض اور آرام کی وہی تلخ کشمکش، وہی جھلاہٹ اور پسپائی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

