حرام جادی – اردو کے شاہکار افسانے


ان کی ہی وجہ سے تو اس نے رنگ دار ساڑھیاں چھوڑ دیں اور سفید پہننے لگی، مگر پھر بھی نہیں مانتے اب اگر آج وہ نیلی ساڑھی پہن کر جائے گی تو نہ معلوم کیا کیا کریں گے تو پھر سفید ہی پہن لے مگر روز روز سفید اور کیا، وہ کوئی ان سے ڈرتی ہے۔ ہنستے ہیں تو ہنسا کریں، کوئی اسے کھا تھوڑی لیں گے، بھلا کیا بگاڑ سکتے ہیں وہ اس کا؟ اب وہ پھر رنگ دار ساڑھیاں پہنا کرے گی دیکھیں وہ اس کا کیا بناتے ہیں ہنسیں گے تو ضرور مگر اس سے ہوتا ہی کیا ہے آج ضرور نیلی ساڑھی پہنے گی!

نیلی ساڑھی پہن کراس نے بال بنانے کے لئے آئینہ سامنے رکھا۔ کم خوابی سے اس کی آنکھیں لال اور کچھ سوجی ہوئی سی تھیں۔ وہ ہاتھ میں آئینہ اٹھا کر غور سے دیکھنے لگی مگر یہ ا س کا رنگ کیوں خراب ہوتا چلا جا رہا تھا اور کھال بھی کھردری ہو چلی تھی۔ جب وہ لڑکی تھی تو اس کے چہرے پر کتنی چمک تھی رنگ سانولا تھا تو کیا، چمکدار تو تھا اس کی آنٹی ہمیشہ ماما سے کہا کرتی تھیں۔ ”تمہیں بیٹی اچھی ملی ہے مگر اب“ اس نے آئینہ رکھ دیا اور اپنے جسم کو اوپر سے نیچے تک ایسی حسرت سے دیکھنے لگی جیسے مور اپنے پروں کو اس کے بازوؤں کا گوشت لٹک آیا ہے اور ٹھوڑی بھی موٹی ہو گئی ہے اور ہاتھ اب کتنے سخت ہیں۔ بال بھی سوکھے ساکھے اور ہلکے رہ گئے ہیں اور تیزی تو اس میں بالکل نہیں رہی ہے۔ پہلے وہ کتنا کتنا دوڑتی بھاگتی تھی اور پھر بھی نہ تھکتی تھی۔ مگر اب تو تھوڑی ہی دیر میں اس کی کمر ٹوٹنے لگتی ہے۔

اس نے ایک لمبی سی انگڑائی اور پھر ایک گہرا سانس لیا۔ بے رونق چہرے اور پلپلے بازوؤں نے نیلی ساڑھی کا رنگ اڑا دیا تھا۔ اس نے بال ایسی بے دلی سے بنائے کہ بہت سے تو ادھر ادھر اڑتے رہ گئے۔ بال بن چکے تھے مگر وہ برابر آئینے کو تکے جا رہی تھی اوراس کا دماغ سمٹ کر آنکھوں کے پپوٹوں میں آگیا تھا جن میں ایک ہی جگہ ٹھہرے ٹھہرے مرچیں سی لگنے لگی تھیں۔

جب اس نے آئینہ رکھا تو اسے میز کے کونے پر دیو ار کے قریب بائبل رکھی نظر آئی۔ یہ بچپن میں سالگرہ کے موقع پر اس کے پاپا نے اسے دی تھی۔ مدتوں میں اس نے اسے کھولا تک نہ تھا اور وہ گرد سے اٹی پڑی تھی۔ اس کتاب نے اسے پھر پاپا کی یاد دلا دی اور وہ اسے اٹھانے پر مجبور ہو گئی۔ پہلے ہی صفحہ پر اس کا نام لکھا تھا۔ یہ دیکھ کر اسے ہنسی آئی کہ وہ اس وقت کیسے ٹیڑھے میڑھے حروف بنایا کرتی تھی۔ اسے یہ بھی یاد آیا کہ اس زمانہ میں اس کے پاس ہرا قلم تھا۔ اس کا ارادہ ہوا کہ اب کے جب وہ شہر جائے گی تو ایک ہرا قلم ضرور خریدے گی مگر اسے خیال آیا کہ وہ قلم لے کر کرے گی ہی کیا۔ اب اسے کون سا بڑا لکھنا پڑھنا رہتا ہے۔

اس کے پاپا اسے بائبل پڑھنے کی کتنی ہدایت کیا کرتے تھے۔ اسے اپنی بے پروائی پر شرم سی محسوس ہوئی اور وہ بائبل کے ورق الٹنے لگیپیدائشخروجورق تیزی سے الٹے جانے لگے استثنا روت یرمیاہ حقوقمتی لوقارسولوں کے اعمالکہاں سے پڑھے آدمنوح طوفانابراہیمکشتیصلیبمسیح یسو راجا آئے گرجا کا گھنٹہ سب مل کر گرجا جاتے تھے، ہنستے مذاق کرتے آخر وہ فیصلہ نہ کر سکی کہ کون سی جگہ سے پڑھے اور اسے جلدی جانا تھا، اتنا وقت بھی نہیں تھا لیکن اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ اب روز صبح کو بائبل پڑھا کرے گی ورنہ کم سے کم اتوار کو ضرور لیکن دعا تو مانگ ہی لینی چاہیے بہت بری بات ہے ماما کبھی بغیر دعا مانگے نہیں سونے دیتی تھیں اور پھر اس میں وقت بھی کچھ نہیں لگتا اور لگے بھی تو کیا دنیا کے دھندے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔

اس نے دماغ کو ساکن بنانا چاہا اور آنکھیں بند کر لیں مگر باوجود اس کے آنکھیں پٹ پھٹانے سے پہلے تو اس کی ماما اس کی آنکھوں میں گھس اور پھر پاپا اور ان کے پیچھے پیچھے گرجا کی سڑک، گھنٹہ اور سب مل کر گرجا جایا کرتے تھے ہنستے، مذاق کرتے۔

اس نے آنکھیں کھول کر سرکو اس طرح جھٹکے دیا گویا ان سب کو اپنی آنکھوں میں سے جھاڑ رہی ہے آخر دماغ بالکل خالی ہو گیا اور خاموش۔ صرف کانوں اور سر میں دل کے دھڑکنے کی آواز آ رہی تھی۔ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔ دونوں ہاتھ جوڑ لئے او ر دعا کو دہراتی چلی گئی۔ ”اے میر ے باپ تو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے ویسے ہی زمین پر ہو۔ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے اور ہمارے قصوروں کو معاف کر جیسے ہم بھی اپنے قصوروں کو معاف کرتے ہیں۔ کیونکہ قدرت جلال ابد تک تیرا ہی ہے۔ آمین! “

آنکھیں کھولنے پر اس نے کچھ اطمینان سا محسوس کیا اور مسکرانے کی کوشش کرنے لگی اس نے پھر آئینہ میں جھانکا اور چاہا کہ کسی خاص چیز کے لئے دعا مانگے لیکن کیا چیز؟ کوئی! اس کا تبادلہ شہر میں ہو جائے مگر وہاں اسے پھر ولیمن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے تو یہ قصبہ ہی بہتر ہے پھر اور کیا؟ وہ ایک کہانی تھی کہ ایک پری نے ایک آدمی سے تین خواہشیں پوری کرنے کا وعدہ کیا تھا پھر آخر کیا؟ ”

اس نے بہت بازو ملے۔ مگر کوئی بات یاد نہ آئی۔ اسے دیر ہو رہی تھی اس لئے اس نے اپنی دعاؤں اور خواہشوں کو چھوڑ دیا اور چھتری اٹھا کر چل پڑی۔

سڑک پر پہنچ کر اس پر محض ایک جلدی پہنچنے کا خیال غائب تھا۔ صبح کی اس تمام کاہلی اور سستی کے بعد اسے اعضا کو حرکت دینے میں فرحت محسوس ہو رہی تھی۔ سورج کی ہلکی سی گرمی اور چلنے سے اس کے خون کی حرکت تیز ہو گئی تھی اور وہ سڑک کی نالی ریت کنکروں سب سے بے پروا اپنا راستہ طے کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ اگر اسے اپنی رفتار میں کبھی کچھ سستی معلوم ہوتی تو وہ اور قدم بڑھانے کی کوشش کرتی۔ سڑک پر کھیلنے والے لڑکے ابھی تک نہ نکلے تھے۔ اس لئے اپنی آنکھ ناک کی حفاظت کی ضرورت نہ تھی۔ جب وہ دیواروں کے سایہ میں سے گزرتی تو اس کے پیر اور بھی تیز اٹھنے لگتے تھے۔

وہ جلدی ہی بازار میں پہنچ گئی۔ شیخ صفدر علی کا مکان اب تھوڑی ہی دور رہ گیا تھا اور اطمینان سا ہو گیا تھا کہ زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ وہ چلی جا رہی تھی کہ اس کی نظر ایک دکاندار پر پڑی۔ وہ اپنے سامنے والے کو آنکھ سے اشارہ کر رہا تھا اور مسکرا رہا تھا۔ کیا یہ اسے دیکھ رہا تھا؟ ممکن ہے وہ پہلے سے کسی بات پر ہنس رہے ہوں اور اسے دیر بھی ہو گئی تھی وہ آگے بڑھی ہی تھی کہ آواز آئی ”آج تو آسمان نیلا ہے بھئی بڑے دن میں ایسا ہوا ہے آج“ اس نے چاہا پلٹ کر چھتری رسید کرے اس بد تمیز کے چاہے کچھ ہو آج وہ کھڑی ہو جائے اور صاف صاف کہہ دے کہ وہ ان لوگوں کی باتیں اچھی طرح سمجھتی ہے اور اب وہ زیادہ برداشت نہیں کر سکتی آخر کہاں تک پیر من من بھر کے ہو گئے تھے اور ٹانگیں تھرتھرا رہی تھیں جس سے وہ کئی دفعہ چلتے چلتے ڈگمگا گئی مگر ان آنکھوں نے جو اب ہر طرف سے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں اسے رکنے نہ دیا۔ وہ اپنی ساڑھی میں کچھ سکڑ سی گئی۔ اس نے پلو اچھی طرح سینے پر کھینچ لیا اور سر جھکا کر قدموں کو سڑک پر سے اکھاڑنے لگی

جب وہ شیخ صفدر علی کے مکان پر پہنچی تو وہ ڈیوڑھی میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ اسے دیکھتے ہی وہ کھڑے ہو گئے اور ایسے شکایت آمیز لہجے میں جیسے اس نے کوئی نایاب موقع ہاتھ سے نکل جانے دیا تھا جس پر شیخ جی کو اس سے ہمدردی تھی بولے :

”اخاہ میم صاحب! بڑی ہی دیر کر دی تم نے تو! “

”جی ہاں وہ ذرا دیر ہو گئی۔ “ کہتی ہوئی وہ زنانہ کی طرف بڑھی۔ جب وہ دروازہ پر پہنچی تو اس نے دیکھا کہ قصبہ کی پرانی دائی بائیں ہاتھ پر کپڑے اٹھائے اور داہنے ہاتھ میں لوٹا ہلاتی صحن سے گزر رہی ہے، یہ کہتی ہوئی ”جرا دیکھ تو ابھی تک نہ نکلی گھروے سے حرام جادی!

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5