حرام جادی – اردو کے شاہکار افسانے
وہ منہ دھوکر چائے کے انتظار میں پھر بستر پر آ بیٹھی۔ نصیبن لکڑیوں کو چولہے میں ٹھیک کرتی ہوئی بولی۔ ”وہ منیاین کہہ رہی تھیں کہ تمہاری میم صاحب تو عید کا چاند ہو گئیں۔ کبھی آ کے بھی نہیں جھانکتی اجی ہو ہی آؤ ان کی طرف میم صاحب کسی دن؛ بڑا یاد کریں ہیں تمہیں! “
ہو ہی آئے ان کی طرفکیا کرے وہ جا کر میلے کچیلے پلنگوں پر بیٹھنا پڑتا ہے۔ ٹوٹے ٹاٹے یہاں کی عورتوں سے وہ کیا باتیں کرے؟ بس انہیں تو تو قصے سناتے جاؤ کہ اس کے بچہ مرا ہوا پیدا ہوا۔ اس کو اتنی تکلیف ہوئی۔ اس کو ایسی بیماری تھی۔ وہ کہاں تک لائے ایسے قصے سنانے کو اور کوئی بات تو جیسے آتی ہی نہیں انہیں اور پھر یہ لوگ کتنی بدتمیز ہیں۔ سڑے ہوئے کپڑے لے کر سرپر چڑھی جاتی ہیں اسے ان لوگوں کے ہاتھ کا پان کھاتے ہوئے کتنی گھن آتی ہے مگر مجبوراً کھانا ہی پڑتا ہے جب وہ اس سے باتیں کرتی ہیں تو ہلکے ہلکے مسکراتے جاتی ہیں جیسے اس کا مذاق اڑا رہی ہوں کن آنکھوں سے ایک دوسرے کو اور سارے گھر کو دیکھتی جاتی ہیں گویا وہ چور ہے اور ان کی آنکھ بچتے ہی کوئی چیز اڑا دے گییہ اس سے سب عورتیں جھجکتی کیوں ہیں؟
کیا وہ ان کی طرح عورت نہیں ہے؟ یا وہ کوئی ہوا ہے عجیب بے وقوف ہیں یہ عورتیں۔ اور ہاں جب وہ ان کے ہاں جاتی ہے تو ان کے اشارے سے جو ان لڑکیاں جلدی جلدی بھاگ کر کمرے میں چھپ جاتی ہیں۔ وہ اندر سے جھانک جھانک کر اسے دیکھتی ہیں اور اگر کہیں اس کی نظر پڑ جائے تو وہ فوراً ہٹ جاتی ہیں اور اندر سے ہنسنے کی آواز آتی ہے اور اگر انہیں اس کے سامنے آنا ہی پڑ جائے تو وہ بدن چراتی ہوئی اوپر سے نیچے تک خوب دوپٹہ تانے ہوئے آتی ہیں جیسے اس کی نظر ان میں سے کچھ چھٹا لے گی یا اس کی نگاہ پڑ جانے سے ان میں کوئی گندگی لگ جائے گیان کی یہ حرکت اسے بالکل نا پسند ہے۔
کیا انہیں اس پر اعتماد نہیں اور وہ اس پر شک کرتی ہیں؟ اس سے تو ان کے ہاں نہ جانا ہی اچھا بیٹھیں اپنی لڑکیوں کو لے کر اپنے گھر میں اور وہ گندے بچے، مٹی سے سنے، ناک بہتی، آدھے ننگے، پیٹ نکلا ہوا، وہ سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسے ایسے غور سے دیکھتے رہتے ہیں جیسے وہ نیا پکڑا ہوا عجیب و غریب جانور ہے اور جب وہ ان سے بولتی ہے تو وہ سیدھے باہر بھاگ جاتے ہیں وحشی ہیں بالکل، جانور بالکل اور یہ خوب ہے کہ اس کے پہنچتے ہی وہاں جھاڑو شروع ہو جاتی ہے۔
مارے گرد کے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ ذرا خیال نہیں تندرستی کا انہیں اور کوئی کیوں ان کے ہاں جا کر بیماری مول لے اور ان کے مرد، کتنی شرم آتی ہے اسے ان حرکتوں سے۔ وہ ہمیشہ ڈیوڑھی میں راستہ گھیرے بیٹھے رہتے ہیں اور جب تک وہ بالکل قریب نہ پہنچ جائے نہیں ہٹتے ”ارے حقہ ہٹاؤ، حقہ ہٹاؤ“ اٹھتے اٹھتے ہی اتنی دیر لگا دیتے ہیں کہ وہ گھبرا جاتی ہے جان کے کرتے ہوں گے یہ ایسی باتیں تاکہ کھڑی رہے وہ تھوڑی دیر وہاں اور جب وہ اندر پہنچ جاتی ہے تو اسے قہقہوں کی آواز آتی ہے۔
عجیب بد تمیز ہیں انگریزوں کے ہاں کتنی عزت ہوتی ہے عورتوں کی۔ وہ بڈھے پادری صاحب جو آیا کرتے تھے، بہت اچھے آدمی تھے بیچارے، ہر ایک سے کوئی نہ کوئی نہ بات ضرور کرتے تھے، بلکہ اسے تو وہ پہچان گئے تھے۔ سب مل کر جایا کرتے تھے اتوار کو گر جا وہ خود، ڈینا، کیٹی، میری، شیلا اور ہاں مرسی مسز جیمس کا کتنا مذاق اڑاتے تھے سب مل کر سب سے پیچھے چلتی تھیں، چھتری ہاتھ میں لئے ہانپتی ہوئی اور ان میں تھا ہی کیا۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ تھیں بس اور گرجا سے لوٹتے ہوئے تو اور بھی بڑا مزا آتا تھا۔
سب چلتے تھے، آپس ہنستے، مذاق کرتے افوہ، شیلا کس قدر ہنسوڑ تھی، کیسے کیسے منہ بناتی تھی۔ جب ہنسنے پر آتی تھی تو رکنے کا نام نہ لیتی تھی مگر یہاں وہ سب باتیں کہاں اب تو جیسے وہ آدمیوں میں رہتی ہی نہیں اور واقعی کیا آدمی ہیں یہاں والے؟ اول تو اسے اتنی فرصت ہی کہا ملتی ہے۔ ہر وقت پاؤں میں چکر رہتا ہے اور پھر ایسوں سے کوئی کیا ملے؟ جیسے جانور نہ کوئی بات کرنے کو، نہ کوئی ذرا ہنسنے بولنے کو، بس آؤ اور پڑ رہو لے دے کے رہ گئی نصیبن، تو اسے اس کے سوا کوئی بات ہی نہیں آتی کہ اس کا بیٹا بھاگ گیا، اس کی اپنے میاں سے لڑائی ہو گئی۔ اس کے یہاں برات بڑی دھوم دھام سے آئی اسے کیا ان باتوں سے، ہوا کرے، اس سے مطلب یا بہت ہوا تو اسے خواہ مخواہ ڈراتی رہے گی چوروں کے قصے سنا سنا کر ایک دفعہ اس نے سنایا تھا کہ ایک دوسرے قصبے کی مڈ وائف کو کچھ لوگ کیسے بہکا کر لے گئے تھے۔۔۔
اور اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا بکتی ہے بھلا کہیں یوں بھی ہوا ہے لیکن اگر کہیں اس کے ساتھ مگر نہیں، بیکار کا ڈر ہے، جو یوں ہوا کرے تو لوگ گھر سے نکلنا چھوڑ دیں بھلا دنیا کا کام کیسے چلے پاگل ہے بڑھیا، بہکا دیا ہے کسی نے اسے مگر ایسی جگہ کا کیا اعتبار، نہ معلوم کیا ہو گیا نہ ہو۔ کوئی ساتھ بھی تو نہیں اگر وہ مڈ وائف نہ بنتی تو اچھا تھا اور وہ تو خود ٹیچر بننا چاہتی تھی بلکہ پاپا بھی یہی چاہتے تھے مگر ماما ہی کسی طرح راضی نہ ہوئیں کتنے دن ہو گئے پاپا کو بھی مرے ہوئے بارہ سال، کتنا زمانہ گزر گیا اور معلوم ہوتا ہے جیسے کل کی بات ہوکتنا پیار کرتے تھے وہ اسے روز سکول پہنچانے جاتے تھے ساتھ کلاس میں اس کی سیٹ میز کے پاس تھی اور وہ انگریزی کے ماسٹر صاحب بہت اچھے آدمی تھے بے چارے، چاہے وہ کام کر کے نہ لے جائے، مگر کبھی کچھ نہیں کہتے تھے اور لڑکے تو نہ جانے اسے کیا سمجھتے تھے۔
سارے اسکول میں وہ اکیلی ہی لڑکی تھی نا، سب کے سب ماسٹر صاحب کی نظریں بچا بچا کر اس کی طرف دیکھتے رہتے تھے ارے وہ موٹا کرم چند، بھلاوہ بھی تو اس کی طرف دیکھتا تھا جیسے وہ بڑا خوبصورت سمجھتی تھی اسے اور ہاں وہ عظیم! یاد بھولا تھا۔ بیچارا، سوکھا سا زرد، مگر آنکھیں بڑی بڑی تھیں اس کی۔ دیکھتا تو وہ بھی رہتا تھا اس کی طرف، مگر جب کبھی وہ اسے دیکھ لیتی تھی تو وہ فوراً شرما کر نظریں نیچی کر لیتا تھا اور رومال نکال کر منہ پونچھنے لگتا تھا اور اس دن وہ دل میں کتنا ہنسی تھی۔
اس دن وہ اتفاق سے جلدی آ گئی تھی۔ برآمدہ میں دوسری طرف سے وہ آ رہا تھا، جب وہ قریب آیا تو اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور گھبرا گھبرا کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ اس کے پاس پہنچ کر وہ رک گیا اور کچھ کہنے سا لگا۔ ڈرتے ڈرتے عظیم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور پھر جلدی سے چھوڑ دیا، اسے گھبرایا ہوا دیکھ کر وہ خود پریشان ہو گیا تھا اور اس نے بہت گڑ گڑا کر کہا تھا۔ ”کہیے گا نہیں۔ “ وہ کتنے دن اس بات کو یاد کر کے ہنستی رہی تھی کتنا سیدھا تھا واقعی وہوہ ابھی اسکول ہی میں رہتی تو کتنا مزا رہتا مگر وہ زمانہ تو اب گیا اب تو وہ یہاں دنیا سے الگ پڑی ہے۔
کوئی بات تک کرنے کو نہیں کسی کا خط بھی جواب وہی ”نہیں“ اور جو آیا بھی تو بس وہی لمبے بادامی لفافے آن ہنر میجسٹیز سروس ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کی ہدایتیں، یوں کرو اوریوں کرو کوئی اس کی مانے بھی جو وہ یوں کرے خواہ مخواہ کی آفت اور پھر خط آئے بھی کہاں سے اگر آنٹی ہی دلی سے خط بھیج دیا کریں تو کیا ہے مگر وہ تو برسوں بھی خبر نہیں لیتیں ایک دفعہ جانا چاہیے اسے دلی اچھا شہر ہے کیا چوڑی سڑکیں ہیں اور سنیما کس کثرت سے ہیں اور وہوہ خیر ہے ہی مگر ہو کائیں، کائیں، کائیں نے اسے چونکا دیا۔
دھوپ آدھی دیوار تک اتر آئی تھی، کوا زور زور سے چیخ رہا تھا اور وہ بستر پر پیر نیچے لٹکائے لیٹی تھی۔ اسے جلدی جانا تھا اور اس نے بے کار لیٹے لیٹے اتنی دیر لگا دی تھی۔ وہ نصیبن پر اپنا غصہ اتارنے لگی کہ اس نے چائے کیوں نہیں لا کر رکھی مگر وہ سمجھ رہی تھی کہ میم صاحب سو رہی ہیں اور واقعی، اس نے خیال کیا۔ اس سے تو وہ اتنی دیر سو ہی لیتی تو اچھا تھا۔ بہر حال اس نے نصیبن کو جلدی سے چائے لانے کو کہا۔
اس نے دوبارہ منہ دھویا اور الٹی سیدھی چائے پینے کے بعد وہ کپڑے بدلنے چلی۔ ٹرنک کھول کر وہ سوچنے لگی کہ کون سی ساڑھی پہنے سفید، سرخ کناروں والی۔ مگر کیا روز روز ایک ہی رنگ اور پھر سفید ساڑھی میلی کتنی جلدی ہوتی ہے۔ اس کی بہار تو بس ایک دن ہے۔ اگلے دن کام کی نہیں رہتینیلی ساڑھی نیچے سے چمک رہی تھی اسے ہی کیوں نہ پہنے؟ مگر اسے نیلی ساڑھی پہنے دیکھ کر تو لوگ اور بھی باؤلے ہو جائیں گے وہ جدھر سے نکلتی ہے سب کے سب اسے گھورنے لگتے ہیں۔
اسے بڑی بری معلوم ہوتی ہے ان کی یہ عادت اور ان زمینداروں کو دیکھو، بڑے شریف بنتے ہیں؟ خیر یہ تو جو کچھ ہے سو ہے، جب وہ آگے بڑھ جاتی ہے تو وہ ہنستے ہیں اور طرح طرح کے آوازے کستے ہیں ”کہو یار! “ ”ابے مجید ذرا لیجو! “ کوئی کھانسنے لگتا ہے ؛ کیا وہ سمجھتی نہیں ذرا شہر میں کر کے دیکھتے ایسی باتیں وہ مزا چکھا دیتی انہیں مگر یہاں وہ کیا کرے، مجبور ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

